شان اہل بیت بزبان صحابہ کرام

اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان کی عظمت و رفعت.  کوئی ایک طبقے کا عقیدہ نہیں بلکہ یہ قرآنی نصوص، احادیثِ نبویہ اور صحابۂ کرام کے اقوال و اعمال سے مبرہَن حقیقت ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کی محبت ایمان کا جز اور جن کا احترام دین کی اساس ہے۔ صحابۂ کرام، جو نبیِ رحمت ﷺ کے قربت یافتہ اور نورِ نبوت کے فیض یافتہ تھے، اُنہوں نے نہ صرف اپنے افعال میں بلکہ اپنے اقوال میں بھی اہلِ بیت کی شان و عظمت کو ایسا مرقّع بنایا جو رہتی دنیا تک عقیدت و محبت کا مینارِ نور بن گیا۔ کبھی صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ  کے ہونٹوں سے یہ ارشاد پھوٹتا ہے کہ “قرابتِ رسول ﷺ سے نیک سلوک کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے” اور کبھی فاروقِ اعظم کے لہجے سے اہلِ بیت کے احترام کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔

یوں اہلِ بیت رضی اللہ عنہم  کے تذکرے اور صحابہ رضی اللہ عنہم  کے اعترافات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ایسی روحانی فضا پیدا کرتے ہیں جو نہ صرف محبتِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم   کا گہوارہ ہے بلکہ اُمت کے لئے وحدت، عقیدت اور اطاعت کا حسین پیغام بھی۔ یہ تمہید اسی آستانۂ محبت کا دریچہ ہے جس سے داخل ہو کر قاری اپنے دل و دماغ کو اہلِ بیت کی محبت کے نور سے منور کر سکتا ہے۔

آج کے دورِ فتن میں ایک طبقہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس مقدس و قدسی صفات جماعت میں پھوٹ اور اختلاف ثابت کرنے کی ناکام سعی میں مصروف ہے، اور اسی فتنہ انگیزی کو اپنی روزی روٹی کا وسیلہ بنائے ہوئے ہے۔ دراصل یہ لوگ دانستہ یا نادانستہ اسلام کی اس مضبوط و مستحکم عمارت کو متزلزل کرنے کے درپے ہیں جس کی بنیاد خود رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے رکھی تھی۔

ہم اگر لمحہ بھر کے لئے ان کی بے بنیاد باتوں پر کان دھریں تو خود ہی سوچیں: کیا یہ ممکن ہے کہ وہ مقدس ہستیاں، جنہوں نے نبیِ رحمت ﷺ کی ایک ایک بات پر اپنی جانیں قربان کر دیں، اُن کی تعلیمات سے روگردانی کر سکتی ہیں؟ روگردانی تو ایک طرف، انہوں نے تو احکامِ نبوی ﷺ کی بجا آوری میں ایک لمحہ کی تاخیر تک گوارا نہ کی۔ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا ’’چلو‘‘ تو وہ بلا توقف چل پڑے؛ کسی نے ایک پل کی مہلت تک نہ مانگی۔

پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہستیاں، جنہیں خود نبیِ کریم ﷺ نے باہمی تعلقات کی تعلیم دی، عملی تربیت کرائی اور تمام انسانیت کے لئے نمونۂ عمل بنایا، اُن کے ارشادات سے رُوگردانی کریں؟ جن کا جینا مرنا، اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، لین دین اور زندگی کے تمام پہلو نبیِ کریم ﷺ کے حکم کے تابع ہوں، وہ باہمی اُلفت و محبت کو کیسے ترک کر سکتے ہیں؟

آئیے! میں آپ کو اُن کے باہمی تعلقات اور باہمی احترام و احساس کے رشتے کو معتبر و مستند حوالوں کے آئینے میں دکھاتا ہوں۔

کائناتِ اسلام میں دو آفتابِ درخشاں ہیں: اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم۔ یہ دونوں طبقے شریعتِ محمدی کے سب سے بڑے مظاہر اور اُمت کے لئے سب سے روشن نمونہ ہیں۔ باہمی محبت و احترام کا یہ منظر اپنی پوری تابانی کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے۔

دورِ خلافتِ صدیقی و فاروقی میں یہ شانِ محبت یوں جھلکتی ہے کہ جب سیدنا صدیقِ اکبر اور سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ  حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ  کو دیکھتے تو احتراماً اپنی سواریوں سے اُتر جاتے۔ فاروقِ اعظم اپنے عہدِ خلافت میں بارانِ رحمت کے لئے سیدنا عباس سے دعا کرواتے اور ان کی دعا کو باعثِ برکت سمجھتے۔

طبقاتِ ابن سعد اور البدایہ و النہایہ میں ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عباس سے فرمایا 

اللہ کی قسم! آپ کا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے، اس لیے کہ آپ کا اسلام رسول اللہ ﷺ کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔”

اور یہی محبت کا جذبہ حضرت صدیقِ اکبر کے دل میں بھی تھا۔ آپ نے حضرت علی سے فرمایا:

“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! رسول اللہ ﷺ کے قرابت کو جوڑنا میرے نزدیک اپنی رشتہ داری کو جوڑنے سے زیادہ محبوب ہے۔” (صحیح بخاری)

حضرت عمر عبداللہ بن عباس کے بارے میں فرمایا کرتے:

“قرآن کے بہترین ترجمان عبداللہ بن عباس ہیں، اور جب وہ سامنے آتے تو فرماتے: ادھیڑ عمر کا نوجوان آگیا، سوال کرنے والی زبان اور عقل مند دل آگیا۔” (الاستیعاب)

اور یہی منظر حضرت معاویہ کے یہاں دکھائی دیتا ہے۔ علامہ ابن عبد البر نے الاستیعاب میں نقل کیا ہے کہ جب بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ حضرت معاویہ کے سامنے آتا تو وہ حضرت علی کو لکھ کر پوچھتے۔ جب ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو فرمایا:

“ابنِ ابوطالب کی موت سے فقہ اور علم چلا گیا۔”

حضرت علی المرتضیٰ خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں مجلسِ شوریٰ کے مرکزی رکن، مجلسِ حربیہ کے مشیر اور قانون سازی کے بڑے ستون تھے۔ حضرت عمر تو یہاں تک فرمایا کرتے:

“اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔”

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مرضِ وصال میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بنتِ عمیس ان کی خدمت پر مامور رہیں۔ رحلت کے بعد سیدہ کو غسل بھی حضرت اسماء نے دیا اور جنازہ سیدنا صدیقِ اکبر نے خود سیدنا علی کی خواہش پر پڑھایا۔ یہ وہی صدیق اکبر ہیں جنہوں نے سیدنا علی کو نکاح کی ترغیب بھی دی، گواہ بھی بنے اور شادی کے انتظامات میں شریک بھی رہے۔ سبحان اللہ! یہ سب واقعات اس بات کا آئینہ ہیں کہ صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار میں محبت و احترام کا وہ رشتہ قائم تھا جسے خود رسولِ اکرم ﷺ نے پروان چڑھایا۔ تاریخ کا ہر ورق اس امر کا گواہ ہے کہ یہ سب مقدس ہستیاں ایک ہی آستانۂ نبوی کے پروانے اور ایک ہی چشمۂ ہدایت کے جام پینے والے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے جسم اقدس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آکر میرے کندھے پر اپنی کہنی رکھی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، بے شک مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں دوستوں (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ) کا ساتھ عطا کرے گا، کیونکہ میں نے بارہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا: ’’میں تھا اور ابوبکر و عمر،میں نے یہ کہا اور ابوبکر و عمر نے،میں چلا اور ابوبکر و عمر، میں داخل ہوا اور ابوبکر وعمر،میں نکلا اور ابوبکر و عمر ‘‘ ( رضی اللہ عنہم ) میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔

(بخاری، باب المناقب۔ مسلم، کتاب الفضائل )

اہلِ بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام کے مابین محض زبانی محبت نہیں تھی بلکہ یہ تعلق رشتوں، نکاحوں اور ناموں کی صورت میں نسل در نسل جاری رہا تاکہ امت دیکھے کہ یہ سب ایک ہی چشمۂ نبوت کے وارث ہیں۔

حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دوبار پیدا کیا‘‘۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ والد اور والدہ دونوں طرف سے ان کا نسب حضرت سے ملتا  تھا۔

حضرت جعفر کے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ  کی بیوہ حضرت اسماء بنت عمیس پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے نکاح میں آئیں، پھر ان کی وفات کے بعد حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ ان کے بیٹے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ  کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے: ’یہ ابوبکر کی پشت سے ہے لیکن میرا بیٹا ہے‘‘ اور انہی کو مصر کا گورنر بنایا۔

اسی طرح حضرت حسن بن علی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پوتے عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا  سے نکاح کیا۔ نسلوں بعد بھی یہ رشتے قائم رہے؛ کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی اولاد اور کبھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پوتے اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم  کی بیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ جُڑتی رہیں۔

سیدہ اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا  (بیٹیِ حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما ) کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا اور ان کے بیٹے زیدؒ فخر سے کہتے تھے ’’میں دو خلیفوں کا بیٹا ہوں‘‘۔ حضرت حسینرضی اللہ عنہ  کے پوتوں نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتوں کی بیٹیوں سے نکاح کیا۔

محبت کا ایک اور پہلو ناموں میں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے تین بیٹوں کے نام ابوبکر  عمر  اور عثمان رضی اللہ عنہم  رکھے، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کیا، حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ  نے اپنے بیٹے کا نام عمررضی اللہ عنہ  اور بیٹی کا نام عائشہؓ  رضی اللہ عنہا رکھا، حتیٰ کہ حضرت موسیٰ بن جعفر رضی اللہ عنہ  نے بھی یہی سنت اپنائی۔

یہ تمام مثالیں بتاتی ہیں کہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم  اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں محبت، احترام اور یگانگت کس طرح نسلوں تک جاری رہی  یہ امت کے لئے ایک روشن پیغام ہے کہ اصل نسبت محبت اور اتحاد ہے، نہ کہ نفرت اور افتراق۔

اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین رشتۂ محبت و احترام محض ایک تاریخی حقیقت نہیں بلکہ اُمت کے لیے زندہ اور جاوید پیغام ہے۔ ان پاکیزہ نفوس نے عملی طور پر یہ بتا دیا کہ دینِ اسلام کا استحکام باہمی اُلفت، ایثار، حسنِ سلوک اور اتحاد میں ہے، نہ کہ مخالفت اور افتراق میں۔ آج اگر ہم اپنی زندگیوں میں اسی سنت کو زندہ کر لیں تو امتِ مسلمہ کے ہر گوشے میں محبت، اخوت اور سکون کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ یہی اہلِ بیت رضی اللہ عنہم  اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم  کا حقیقی حق ہے اور یہی ان کی محبت کا درست تقاضا بھی ہے۔

         سید محمد عسجد احسنی    ریسرچ اسکالر جامعہ ازہر قاہرہ مصر