اللہ ربّ العزت نے آقا ﷺ کو معلم کائنات بنا کر بھیجا جہاں آقا ﷺ نے اپنی امت کو توحید و رسالت کے احکام سے لیکر باہمی حقوق اور معاشرتی آداب کی تعلیم دی اور جو چیز معاشرتی آداب کے بر خلاف ہے اس سے منع فرمایا اور اس سے تاکید کے ساتھ بچنے کا حکم دیاہے ،ان اَشیاء میں سے ایک چیز ’’بد گمانی‘‘ ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی کا بہت بڑا سبب اور معاشرتی آداب کے انتہائی بر خلاف ہے، اس سے دینِ اسلام میں خاص طور پر منع کیا گیا ہے ،چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا‘‘
(بنی اسرائیل:٣٩)
ترجمہ: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :
“یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘”
(حجرات:۱۲)
ترجمہ: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے ،
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (یہاں آیت میں گمان کرنے سے بچنے کا حکم دیا گیا) کیونکہ گمان ایک دوسرے کو عیب لگانے کا سبب ہے ،
۔( تفسیرکبیر، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰ / ۱۱۰)
علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہاں آیت میں گمان کی کثرت کو مُبْہَم رکھا گیا تاکہ مسلمان ہر گمان کے بارے میں محتاط ہو جائے،،
(بیضاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵ / ۲۱۸، ملخصاً)
.ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
“لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ-وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ”
ترجمہ: ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک گمان کرتے اور کہتے: یہ کھلا بہتان ہے۔
‘‘اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:
مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک گمان کرتے کیونکہ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کرے کہ بدگمانی ممنوع ہے۔ چنانچہ جہاں قرآن مجید میں اللہ ربّ العزت نے اپنے بندوں کو اس فعل شنیع سے بچنے کا حکم دیا وہیں آقا ﷺ نے بھی اپنے غلاموں کو اس برائی سے بچنے کی جابجا ترغیب دلائی جس کا اندازہ حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے بخوبی ہوتا ہے اور یہ اس لیے تاکہ انسانی حقوق اور معاشرتی آداب برقرار رہیں ،،
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’حُسنِ ظن عمدہ عبادت ہے۔
(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الظنّ، ٤ / ۳۸۷، الحدیث: ٣٤۹۹)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث، ’’بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔
(بخاری، کتاب الفراءض، باب تعلیم الفرائض، ٤ / ۳۱۳، الحدیث :٦٧٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اپنے بھائی سے بدگمانی کی بے شک اس نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے بدگمانی کی، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے ’’اِجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ‘‘ ترجمہ: بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔
( در منثور، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷ / ٥٦٦)
ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا جسے اپنی بیوی پر شک تھا کیونکہ اس نے ایک سیاہ بچہ جنا، حالانکہ دونوں میاں بیوی کا رنگ مختلف تھا۔ نبی ﷺ نے اس کا شک دور کیا اور پوچھا: تمہارے اونٹ کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آقا ﷺ نے پوچھا: کیا ان میں کوئی بھورا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیسے ہوا؟ اس نے کہا: شاید کسی نسل کا اثر ہو۔ آقا ﷺ نے فرمایا: تمہارے بیٹے کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔
[بخاری و مسلم]
قرآن مجید اور حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بد گمانی کیسا فعل شنیع ہے جس سے بچنا امت محمدیہ ﷺ پر لازم قرار دیا گیا۔
گمان کی کئی اَقسام ہیں ،ان میں سے چار یہ ہیں :
واجب ،جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا۔ °
مُستحَب، جیسے صالح مومن کے ساتھ نیک گمان رکھنا۔ °
ممنوع حر ام۔جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برا گمان کرنا اور یونہی مومن کے ساتھ برا گمان کرن °
جائز ،جیسے فاسقِ مُعْلِن کے ساتھ ایسا گمان کرنا جیسے افعال اس سے ظہور میں آتے ہوں ۔ °
حضرت سفیان ثوری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : گمان دو طرح کا ہے، ایک وہ کہ دل میں آئے اور زبان سے بھی کہہ دیا جائے ۔یہ اگر مسلمان پر برائی کے ساتھ ہے تو گناہ ہے ۔دوسرا یہ کہ دل میں آئے اور زبان سے نہ کہا جائے، یہ اگرچہ گناہ نہیں مگر اس سے بھی دل کو خالی کرنا ضروری ہے۔
( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ٤ / ۱۷۰-۱۷۱، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۱۵۵، ملتقطاً)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تک ثبوتِ شرعی نہ ہو۔
( فتاوی رضویہ،۶ / ۴۸۶)
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :مسلمانوں پر بدگمانی حرام اور حتّی الامکان اس کے قول وفعل کو وجہ ِصحیح پر حمل واجب (ہے)۔
( فتاوی رضویہ،۲۰ / ۲۷۸)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :بے شک مسلمان پر بد گمانی حرام ہے مگر جبکہ کسی قرینہ سے اس کا ایسا ہونا ثابت ہوتا ہو(جیسا اس کے بارے میں گمان کیا) تو اب حرام نہیں ،مثلاً کسی کو (شراب بنانے کی) بھٹی میں آتے جاتے دیکھ کر اسے شراب خور گمان کیا تواِس کا قصور نہیں (بلکہ بھٹی میں آنے جانے والے کا قصور ہے کیونکہ) اُس نے موضعِ تہمت (یعنی تہمت لگنے کی جگہ) سے کیوں اِجتناب نہ کیا۔
( فتاوی امجدیہ، ۱ / ۱۲۳)
صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :مومنِ صالح کے ساتھ برا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنی مراد لینا باوجود یکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں داخل ہے ۔
( خزائن العرفان، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۵۰)
اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں دعا ہے مولیٰ ہم سب کو کسی کے بارے میں بد گمانی سے بچاے اور حسن ظن کی توفیق عطا فرمائے ۰۰آمین
محمد فرمان احسنی ریسرچ اسکالر الازھر یونیورسٹی قاہرہ مصر