حدیث پاک اللہ رب العزت کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی ہے۔ یہ دین کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ اور دین متین کی عمارت کا ایک اہم رکن ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت کرنا حرام ہے۔ اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اس پر ایسی واضح آیات موجود ہیں جس میں شک کی گنجائش نہیں، جو اس کا انکار کرے وہ قطعی دلائل کی مخالفت کے سبب عذاب شدید کا مستحق ہے چنانچہ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ۔
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ
سورة حشر آية 7
اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں تو تم باز رہو۔۔۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ
سورہ نساء ۔آية 80
جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا ۔۔۔
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
سورة آل عمران، آية (31)اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ اور ان کے علاوہ کئی آیات کریمہ حدیث پاک کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں ۔اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ حدیث پاک دین متین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔
حضرات گرامی ۔۔الله تعالى نے قرآن کریم کو لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر نازل فرمایا تا کہ وہ اپنے دینی اور دنیوی معاملات میں رہنمائی حاصل کریں لیکن زیادہ تر یہ ہدایت اجمالی انداز میں ہے۔ جس سے اللہ تعالٰی کی مراد کو مکمل وضاحت کے ساتھ سمجھنا ممکن نہیں اسی لیے اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ذمداری سونپی کہ وہ قرآن کریم کو لوگوں تک پہنچائیں اور اپنے قول وفعل اور تقریر کے ذریعہ ان امور کی وضاحت کریں جنہیں بیان کی ضرورت ہے ۔ اسی کو حدیث پاک کہتے ہیں۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔
وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَٜ سورہ نحل آیة (44)
ور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کردو جو اُن کی طرف نازل کیا گیا ہے اورتاکہ وہ غوروفکر کریں ۔۔حضرات گرامی ۔۔اسلامی علوم میں محدثین کرام کا ایک بلند مقام ہے۔ یہ وہ جلیل القدر ہستیاں ہیں جنہوں نے حدیثِ رسولﷺ کو جمع کرنے، اس کی حفاظت کرنے اور امت تک پہنچانے کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ محدثین کرام نے اپنی زندگیاں حدیثِ نبویﷺ کی تحقیق، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کر دیں، اور ان کی کاوشوں کے نتیجے میں آج ہمارے پاس مستند احادیث کی ایک وسیع اور مضبوط علمی میراث موجود ہے۔الحمد لله..
عزیزان گرامی ۔۔ احادیث کی حفاظت اور ان کی تحقیق کا کام محدثین نے نہایت جانفشانی اور اخلاص کے ساتھ انجام دیا۔ محدثین وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور احوال کی جمع و تدوین کے لیے وقف کر دیں۔ ان کی علمی خدمات اور حدیثِ نبوی سے بے پناہ شوق کی بدولت آج ہمیں صحیح اور مستند احادیث دستیاب ہیں۔
حدیثِ نبوی کی حفاظت میں محدثین کا کردار
محدثین نے حدیث کے الفاظ، معانی، اور اس کی سند کی تحقیق کے لیے بے مثال کوششیں کیں۔ ان کی خدمات درج ذیل نکات میں بیان کی جا سکتی ہیں؛
: حدیث کی زبانی روایت
ابتدائی دور میں صحابہ کرام نے حدیث کو زبانی یاد رکھا اور تابعین کو منتقل کیا۔
محدثین نے حدیث کو سینہ بہ سینہ محفوظ کرنے کے ساتھ اس کی سند اور متن کی حفاظت کا اہتمام کیا۔
: تحریری جمع و تدوین
پہلی صدی ہجری میں احادیث کی کتابت کا آغاز ہوا، دوسری اور تیسری صدی میں محدثین نے احادیث کو باقاعدہ کتابی شکل دی۔
امام مالکؒ نے موطا، امام بخاریؒ نے صحیح بخاری اور امام مسلمؒ نے صحیح مسلم مرتب کیں۔
محدثین نے احادیث کی تحقیق کے لیے اصولِ حدیث اور علمِ جرح و تعدیل وضع کیے، تاکہ ضعیف اور موضوع احادیث کو مستند احادیث سے الگ کیا جا سکے۔
راویوں کے حالات، ان کی دیانت و تقویٰ، اور یادداشت کی مضبوطی کو جانچنے کے سخت اصول مقرر کیے گئے۔تاکہ کسی بھی طرح سے کوئی غلط روایت حضور ﷺ کی طرف منسوب نا ہو ۔۔
محدثین کا حدیث سے شوق اور محبت بے مثال تھی۔ انہوں نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں، بعض نے تو اپنی ضروریاتِ زندگی کو بھی پسِ پشت ڈال دیا۔ وہ شب و روز حدیثِ نبوی کی خدمت میں لگے رہتے اس کے لیے سفر کرتے، مشقت اٹھاتے ۔۔اس لیے کہ ہم تک اصل احادیث مبارکہ پہنچا سکیں ۔۔۔
محدثین کرام نے حدیثِ نبویﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے سخت اصول وضع کیے۔ انہوں نے ہر حدیث کو پرکھنے کے لیے سند اور متن کی جانچ پڑتال کی۔ محدثین نے حدیث کے راویوں کے اخلاق، دیانت، یادداشت اور علم کو جانچنے کے لیے جرح و تعدیل کے اصول وضع کیے، تاکہ صرف صحیح اور مستند احادیث ہی امت تک پہنچ سکیں۔
مشہور محدثین اور ان کی تصانیف
تاریخ میں کئی عظیم محدثین گزرے ہیں جنہوں نے حدیث کی جمع و ترتیب اور اس کی تحقیق میں نمایاں کام کیا۔ چند مشہور محدثین ,,,
امام بخاریؒ – “صحیح البخاری” کے مصنف، جسے دنیا کی سب سے مستند حدیث کی کتاب مانا جاتا ہے۔
امام مسلمؒ – “صحیح مسلم” کے مصنف، جو حدیث کی مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
امام ترمذیؒ – “سنن الترمذی” کے مصنف، جس میں احادیث کے ساتھ فقہی مسائل کا ذکر بھی موجود ہے۔
امام ابو داؤدؒ – “سنن ابی داؤد” کے مصنف، جو حدیث کے عملی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔
امام نسائیؒ – “سنن النسائی” کے مصنف، جو حدیث کی روایت میں سختی کے لیے مشہور ہیں۔
امام ابن ماجہؒ – “سنن ابن ماجہ” کے مصنف، جو حدیث کی مشہور کتبِ ستہ میں شامل ہے۔
محدثین کرام کی قربانیاں
محدثین کرام نے احادیث کی تحقیق کے لیے لمبے سفر کیے، سخت محنت کی، اور کبھی کبھی اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے ہر حدیث کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے بے شمار راویوں سے ملاقات کی اور اپنی زندگیاں اسی کام میں گزار دیں۔
محدثین کی کاوشوں کا اثر
محدثین کی محنت کے نتیجے میں آج ہمیں صحیح اور مستند احادیث کی صورت میں رسول اللہﷺ کی تعلیمات میسر ہیں۔ انہی احادیث کی بنیاد پر اسلامی شریعت، اخلاقیات، اور عقائد کی تشکیل ہوئی۔ فقہ، تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے تمام علوم احادیث پر مبنی ہیں، اور ان کی حفاظت میں محدثین کرام کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرات گرامی ۔۔۔محدثین کرام کی خدمات اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ انہوں نے اپنے وقت، توانائی، اور علمی صلاحیتوں کو دینِ اسلام کی خدمت میں لگا دیا اور ہمیں ایک ایسا علمی خزانہ عطا کیا جو قیامت تک امت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ ان کی محنت کی بدولت آج بھی ہم احادیث کو اصل اور مستند صورت میں پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان عظیم ہستیوں پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور ہمیں ان کی خدمات کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد فرمان أحسنی أزہری