ورچوئل شادی، آن لائن نکاح اور اس کی شرعی حیثیت

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کومنظم اور باوقار بنانے کے لیے اصول وضوابط عطا کیے ہیں۔ انھی میں نکاح بھی ہے جو نہ صرف ایک سماجی معاہدہ ہے، بلکہ عبادت اور عفت وپاکدامنی کا ذریعہ بھی ہے۔ نکاح کے ذریعے مردوعورت کے تعلقات کو جائز حدود میں استوار کیا جاتا ہے اور خاندان ومعاشرہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرت میں نئے وسائل اور ذرائع داخل ہوئے ہیں۔ آج کا دور انفارمیشن ٹیکنا لوجی کا ہے، جہاں  فاصلےسمٹ چکے ہیں اور بسا اوقات مردو عورت ایک ملک میں رہ کر دوسرے ملک میں موجود اپنے شریکِ حیات سے رشتۂ ازدواج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس پسِ منظر میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا ورچوئل شادی یا آن لائن نکاح شرعا درست ہے؟
یہ سوال محض ایک علمی تجسس کا نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کا بھی ہے، کیوں کہ لاکھوں مسلمان آج کے دور میں ہجرت، تعلیم، ملازمت اور کاروبار کے سبب اپنے وطن اور اہلِ خانہ سے دور ہیں، اس لیے یہ جاننا لازمی ہے کہ کیا ٹیکنا لوجی کے ذریعے نکاح کے ایجاب وقبول اور اس کے شرائط پوری ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ شرعی اور معاشرتی نقطۂ نظر سے اس کے فوائد اور خرابیاں کیا کیا ہیں؟
اس علمی اور عملی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مقالہ مرتب کیا گیا ہے، جس میں نکاح کے بنیادی شرائط، آن لائن نکاح کی صورتیں، فقہی وقانونی دلائل، معاصر علما ومفتیان کرام کی آرا اور اس کے سماجی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اس مقالے میں ہم اس سوال کو مختلف پہلوؤں سے واضح کریں گے۔
   نکاح کی تعریف اور اس کے شرائط
(الف) نکاح کی تعریف  
فقہا کے نزدیک نکاح ایک ایسا عقد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی تعلق کو شرعی طور پر جائز بنانا ہے اور نسلِ انسانی کے تسلسل اور عفت و عصمت کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
(ب) نکاح کے بنیادی شرائط 
ایجاب وقبول (Offer & Acceptance)
عاقدین(دولہا اور دولہن) کی رضا مندی  •
 دوعاقل، بالغ، مسلمان گواہوں کی موجودگی  •
ان سب کا ایک مجلس میں ہونا۔ 
ولی کی اجازت (خصوصا عورت کے لیے جمہور کے نزدیک) 
 اعلانِ نکاح (سنت اور معاشرتی تقاضا)  •
فقہاے کرام نے نکاح کے مختلف شرائط کو اپنی اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے جس کا ایک آسان اور مختصر خاکہ آپ کے سامنے ہے۔ ان شرائط کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے نکاح کو آسان اور سہل بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش فرمائی ہے اور جدیددور میں ٹیکنا لوجی نے اس کو مزید آسان کردیا ہے اور فی زماننا ضرورتوں اور سہولتوں کے پیش نظر مختلف آن لائن اور ورچوئل طریقے متعارف ہوئے ہیں، جن کے ذریعے نکاح کی شرعی حیثیت بر قرار رکھتے ہوئے فاصلے کو دور کیا جاسکتا ہے۔
    دورِ جدید میں نکاح کی ممکنہ صورتیں
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نکاح: دلہن اور دولہا مختلف جگہوں پر ہو اور ایجاب وقبول ویڈیو لنک پر گواہوں کے سامنے ہو۔
ٹیلیفونگ نکاح: فون کال پر ایجاب وقبول کیا جائے اور گواہ سن لیں۔
تحریری نکاح: ای میل، میسیج یا خط کے ذریعے ایجاب وقبول ہو اور گواہ موجود ہوں۔
وکالت کے ذریعے نکاح: کوئی شخص دولہا یا دولہن کی طرف سے وکیل بن کر گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرے۔
یہ تمام جدید صورتیں اگر چہ تکنیکی طور پر ممکن ہیں، لیکن ان کی شرعی حیثیت جانچنا ضروری ہے۔ ہر صورت میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ایجاب وقبول، رضا مندی اور گواہوں کی موجودگی جیسے شرائط پورے ہورہے ہیں یا نہیں؟ اسی وجہ سے فقہا نے نکاح کی شرعی بنیادوں اور دلائل کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے ، تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون سی صورتیں درست اور جائز ہیں۔
         فقہا کے نزدیک ان صورتوں کی شرعی حیثیت  
نکاح میں ایجاب وقبول کا الفاظ کے ساتھ ہونا شرط ہے، اصل تقاضا یہ ہے کہ دونوں فریق یا ان کے وکلا ایک ہی مجلس میں گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کریں۔ فقہا نے صراحت کی ہے کہ خط وکتابت یا وکالت کے ذریعے نکاح درست ہے۔ امام سرخسی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ’’المبسوط‘‘ اور علامہ ابن عابدین نے مشہورِ زمانہ کتاب ’’ردالمحتار ‘‘ میں نکاح بالمکاتبت اور وکالت کو جائز قرار دیا ہے اور یہی موقف جمہور فقہا کا بھی ہے۔
اب جب کہ فقہی بنیادوں سے یہ واضح ہوگیا کہ نکاح کا اصل تقاضا ایجاب وقبول اور گواہوں کی موجودگی ہے، تو اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آن لائن نکاح کی مختلف صورتیں ان شرائط پر کھری اترتی ہیں یا نہیں؟ 
مذکورہ بالا سطروں میں آن لائن نکاح کی جو ممکنہ صورتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے کسی میں بھی اتحادِ مجلس یعنی ایک مجلس میں ہونے کی شرط نہیں پائی جارہی ہےمزید برآں یہ کہ اہلِ سنت وجماعت کے ایک بڑے طبقے کے یہاں ویڈیو گرافی ہی بذاتِ خود ایک ناجائزعمل ہے، چہ جائیکہ اس پر نکاح کیا جائے
اب جب یہ واضح ہوگیا کہ آن لائن نکاح شریعت کی نظر میں معتبر نہیں ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس مسئلے کا حل کیا نکالا جائے؟؟؟؟
تو جیسا کہ ہم نے ابھی بتایا کہ فقہا نے وکالت کے ذریعے نکاح کو درست مانا ہے اور دورِ صحابہ میں اس کے چند نظائر بھی موجود ہیں تو پھر آن لائن نکاح کی طرف کیوں بھاگنا؟! نکاح کے وقت دولہا ودولہن ہی موجود ہوں، یہ ضروری نہیں وہ اگر اپنی طرف سے اپنے نکاح کا کسی کو وکیل بنادیں اور وہ وکیل، گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھادے تو ایسا نکاح یقینا ہوجائے گا اور شرعا قابلِ اعتبار بھی مانا جائے گا۔اور اسی کو وکالت بھی کہتے ہیں۔
جو مرد وعورت کسی ایک جگہ پر نہ ہوں اور ان کا ایک ساتھ جمع ہونا ممکن نہ ہو تو بوقتِ ضرورت یا مجبوری اس طریقے کو اختیار کرکے نکاح کیا جاسکتا ہے، ایسا طریقہ نہ اختیار کرتے ہوئے دوسرے طریقوں پر نکاح پڑھایا گیا جیسے ویڈیو یا آڈیو کال پر یا پھر ای میل یا میسج پر تو ایسا نکاح منعقد نہیں ہوگا اور دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور غیر محرم ہی رہیں گے۔ ایسا نکاح ان کے رشتے کو حلت میں نہیں تبدیل کرےگا۔
کتاب الفقہ الاسلامی میں ہے: ’’یری الحنفیۃ: أنہ یصح التوکیل بعقد الزواج من الرجل والمرأۃ إذا کان کل منھما کامل الأھلیۃ أي بالغا عاقلا حرا‘‘ یعنی حنفیہ کے نزدیک عاقل وبالغ مرد وعورت میں سے ہر ایک کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی شادی کے لیے کسی کو وکیل بنائیں۔
اس جزئیے سے ہماری ذکرکردہ بات مزید پختہ اور مضبوط ہوجاتی ہے اور آن لائن نکاح کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے ایک آسان سا راستہ کھل جاتا ہے۔ فقہاے کرام نے اس حوالے سے کافی گفتگو کی ہے جس سے عیاں ہوتا ہے کہ اس دور میں اس کی ضرورت پیش آنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، دور قدیم میں بھی اس کا استعمال ہوا کرتا تھا اور دورِ جدید میں بھی ہورہا ہے۔
         قانونی طور پر نکاح کی صحت کا خیال
البتہ یہاں میں اس پہلو پر بھی مختصر گفتگو کرنا چاہوں گا کہ جس طرح شرعی طور پر نکاح کی صحت کا مکمل اہتمام ضروری ہے، اسی طرح قانونی طور پر بھی نکاح میں کوئی خرابی اور دشواری نہ پیش آئے، اس پر مکمل توجہ دی جائے۔ 
نکاح کے لیے کوئی بھی ایسا طریقہ نہ اختیار کریں جو حکومت کی نظر میں قابلِ اعتراض ہو۔
نکاح کے لیے جو کاغذات ضروری ہیں، ان کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کر لی جائے اور کسی بھی قسم کی کمی نہ رہنے دی جائے۔
جعل سازی اور جعلی نمائندگی نہ ہونے پائے، اس کا بھر پور خیال رکھیں۔
جن ممالک میں نکاح کا رجسٹریشن ضروری ہے، ایسے ممالک میں لازما اس جانب توجہ مبذول کی جائے۔
مزید جن چیزوں کی وجہ سے کسی بھی طرح کی دشواری پیش آسکتی ہے، انھیں پہلے ہی حل کرلیا جائے۔
اور پھر جب شرعی اور قانونی دونوں طریقوں سے کوئی کمی یا خامی نہ رہ جائے تو دونوں میاں بیوی اپنا اپنا وکیل مقرر کرلیں اور وہ وکیل دو گواہوں اور گھر والوں کی موجودگی میں نکاح پڑھادے، نکاح آسانی کے ساتھ مکمل ہوجائے گا اور دونوں ایک حسین رشتۂ ازدواج میں بندھ جائیں گے۔
نکاح کے مقاصد 
نکاح ہو جانے کے بعد نکاح کے بنیادی مقاصد عزت وعفت کی حفاظت، نسل کی بقا، سکونِ قلب، محبت اور معاشرتی استحکام وغیرہ کی پابندی بھی عائد ہوجاتی ہے۔ جس قدر نکاح کرنا آسان ہے، اسی قدر نکاح کے مقاصد پورا کرنا مشکل ہے۔ رشتۂ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد زوجین یعنی میاں بیوں میں سے کوئی بھی اگر اس رشتے کے مقاصد کا خیال نہ رکھے اور لاپرواہی برتے تو رشتہ پائیدار نہیں رہتا، اور دن بدن کمزور ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک دن طلاق کے سہارے ٹوٹ بھی جاتا ہے۔
جہاں فقہاے کرام نے نکاح کو آسان فرمایا ہے، وہی اس کے مقاصد و آداب کی ادائیگی پر بھی مکمل زور دیا ہے، وکیل بنادینا اور دو الگ جگہوں پر رہ کر نکاح کے بندھن میں بندھ جانا جہاں کئی بیماریوں اور بے شمار فتنوں کو ختم کرتا ہے، وہی کچھ لا پرواہیوں کو بھی جنم لے لیتا ہے، اسی لیے میاں بیوں کو اس کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ تاکہ دونوں کی زندگی اطمینان وسکون کے ساتھ گزرتی رہے اور دونوں حقیقی معنوں میں شریکِ حیات بنے رہیں۔
الغرض یہ کہ نکاح ایک ایسا حسین رشتہ ہے جس سے جڑنا نہایت ہی آسان اور سہل ہے بشرطیکہ طریقے اور راستے وہ اختیار کیے جائیں جو شریعتِ مطہرہ نے بتائے ہیں اور جن کی جانب فقہاے کرام نے رہنمائی کی ہے اور اس رشتے کو بالکل اس کے شرائط ، مقاصد اور آداب کی ادائیگی کا خیال رکھتے ہوئے نبھایا جائے اور مکمل طور پر ہر قسم کی گندگی اور ہر طرح کے فتنے سے اسے بچایا جائے۔
حتی الامکان کوشش کی جائے کہ اصل طریقے پر نکاح کیا جائے بوقتِ ضرورت یا مجبوری دوسرے جائز طریقوں کو اختیار کیا جائے جن کا تفصیلی بیان گزرا۔
مولا تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو مذہبِ اسلام کے اصول وقوانین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہر قسم کےفتنوں سے ہماری حفاظت وصیانت فرمائے اور مذہبِ اہلِ سنت وجماعت اور مسلکِ اعلیٰ حضرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایمان کے ساتھ زندگی اور موت
نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
مفتی محمد حامد رضا نجمی  ریسرچ اسکالر الازہر یونیورسٹی قاہرہ مصر