افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق

ہم اہلِ سنت و جماعت، خلیفۂ رسول اکرم ﷺ، یارِ غار و مزار، حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام انبیاء و مرسلین اور ملائکۂ مقرّبین کے بعد سب سے افضل مانتے ہیں۔ اس عقیدے کو بیان کرتے ہوئے، عقیدۂ اہلِ سنت کے سچے ترجمان، اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رقم طراز ہیں:اہلِ سنّت و جماعت نَصَر َھُمُ اللہُ تعالٰی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکہ و رُسُل و انبیائے بشر صَلَوَاتُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَتَسْلِیْمَاتُہ عَلَیْھِمْ کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم تمام مخلوقِ الٰہی سے افضل ہیں ، تمام اُمَمِ عالم اولین وآخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت و وجاہت و قبول و کرامت و قُرب و ولایت کو نہیں پہنچتا ۔
مزید فرماتے ہیں :پھر اُن کی باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیقِ اکبر ، پھر فاروقِ اعظم، پھر عثمانِ غنی، پھر مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔(فتاوی رضویہ،جلد ۲۸صفحہ ۴۷۸)
مزید فرماتے ہیں :(حضرت صدیق و عمر کی افضلیت پر) جب اجماعِ قطعی ہوا تو اس کے مفاد یعنی تفضیلِ شیخین کی قطعیت میں کیا کلام رہا؟ ہمارا اور ہمارے مشائخ طریقت و شریعت کا یہی مذہب ہے۔ (مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین،صفحہ ۸۱)
حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں :أفضل النَّاس بعد النَّبِيين عَلَيْهِم الصَّلَاة وَالسَّلَام أَبُو بكر الصّديق ثمَّ عمر بن الْخطاب الْفَارُوق ثمَّ عُثْمَان بن عَفَّان ذُو النورين ثمَّ عَليّ بن أبي طَالب المرتضى رضوَان الله عَلَيْهِم أَجْمَعِينَ۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تمام لوگوں سے افضل حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر حضرت عمر بن خطاب ، پھر حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین ، پھر حضرت علی بن ابی طالب ہیں( رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین )۔(الفقہ الاکبر،صفحہ ۴۱،مطبوعہ مکتبۃ الفرقان۔الامارات العربیۃ)
عن الزعفراني قال:سمعت الشافعي يقول:أجمع الناس على خلافة أبي بكر الصديق، وذلك أنه اضطر الناس بعد رسول الله ﷺ فلم يجدوا تحت أديم السماء خيرًا من أبي بكر فولوه رقابهم۔زعفرانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام شافعی کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام لوگوں (صحابہ) نےابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر اجماع کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺکے وصال پاک کے بعد لوگ پریشان ہوئے کہ کس کو خلیفہ بنائیں تو انہیں سارے آسمان کے نیچے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل کوئی شخص نہ ملا تو انہوں نے ان کو اپنی گردنوں کا ولی قرار دیا ۔(تاریخ الخلفاء،جلد ۱ صفحہ ۵۵ مطبوعہ مکتبۃ نزار مصطفیٰ الباز)
قال أشهب كنا عند مالك إذ وقف عليه رجل من العلويين وكانوا يقبلون على مجلسه فناداه يا أبا عبد الله فأشرف له مالك ولم يكن إذا ناداه أحد يجيبه أكثر من أن يشرف برأسه فقال له الطالبي إني أريد أن أجعلك حجة فيما بيني وبين الله، إذا قدمت عليه فسألني قلت مالك قال لي۔فقال له قل قال من خير الناس بعد رسول اللهﷺ؟ قال أبو بكر قال العلوي ثم من؟ قال مالك ثم عمر.قال العلوي ثم من؟ قال الخليفة المقتول ظلماً عثمان.قال العلوي والله لا أجالسك أبداً.قال له مالك فالخيار لك۔
اشہب کہتے ہیں کہ ہم حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں علوی لوگوں میں سے ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور علوی لوگ آپ کی مجلس میں آتے رہتے تھے اس نے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پکار کر کہا اے ابو عبداللہ! امام صاحب نے اس کی طرف سر اٹھایا اور جب کوئی شخص آپ کو پکار کر بات کرتا تو آپ اس سے زیادہ کچھ نہ کرتے کہ اس کی طرف سر اٹھاتے طالبی نے کہا میں تمہیں اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجت بنانا چاہتا ہوں جب میں اللہ تعالیٰ کے پاس جاؤں گا اور اللہ مجھ سے پوچھے گا تو میں کہوں گا کہ مجھے مالک نے ایسے کہا تھا امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس سے کہا پوچھو کیا کہنا چاہتے ہو تو اس علوی نے پوچھا اس امت میں رسول اللہﷺ کے بعد کون افضل ہے؟ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سب سے افضل ہیں۔ اس نے کہا پھر کون افضل ہے؟ آپ نے کہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ علوی نے کہا اس کے بعد کون افضل ہے؟ آپ نے فرمایا ظلما قتل کئے جانے والے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ علوی نے کہا واللہ میں تمہاری مجلس میں کبھی نہیں آؤں گا آپ نے فرمایا تمہاری مرضی نہ آؤ (ہم تمہاری وجہ سے اپنا موقف نہیں بدل سکتے)۔(ترتيب المدارك وتقريب المسالك،جلد ۲ صفحہ ۴۵ مطبوعہ مطبعۃ فضالۃ۔المحمدیہ۔المغرب)
شہزادۂ حضرت امام احمد بن حنبل حضرت امام عبد اللہ فرماتے ہیں:سَمِعْتُ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، يَقُولُ:السُّنَّةُ فِي التَّفْضِيلِ الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ:أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ،وَأَمَّا الْخِلَافَةُ فَنَذْهَبُ إِلَى حَدِيثِ سَفِينَةَ فَنَقُولُ:أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ فِي الْخُلَفَاءِ فَنَسْتَعْمِلُ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا۔حضرت امام عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد گرامی سے سنا وہ فرماتے تھے افضلیت میں جس طریقے پر ہم چلتے ہیں وہ وہی ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں پہلے حضرت ابوبکر صدیق ہیں پھر حضرت عمر فاروق پھر حضرت عثمان غنی اور خلافت میں ہم حدیث سفینہ کو لیتے ہیں تو ہم کہتے ہیں پہلے ابوبکر پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تو ہم دونوں حدیثوں پر اکٹھا عمل کرتے ہیں( السنة لعبد الله بن أحمد جلد ۲ صفحہ ۵۸۹ مطبوعہ دار ابن القیم۔دمامجلیلُ القدر حنفی محدث حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی  رحمۃ اللہ علیہ (وفات :۳۲۱ھ) فرماتے ہیں:وَنُثْبِتُ الْخِلَافَةَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوَّلًا لِاَبِي بَكْرِ الصِّدِّيق رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَفْضِيلًا لَهُ وَتَقْدِيمًا عَلَى جَمِيعِ الْاُمَّةِ ، ثُمَّ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ لِعَلِيِّ بْنِ اَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۔یعنی ہم رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت کرتے ہیں اس وجہ سے کہ آپ کو تمام اُمّت پر افضلیت و سبقت حاصل ہے ، پھر ان کے بعد حضرت عمر فاروق ، پھر حضرت عثمان بن عفان ، پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین کے لئے خلافت ثابت کرتے ہیں۔ (متن العقیدۃ الطحاویۃجلد ۱،صفحہ ۵۷،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)اور یہی عقیدہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا حضور رحمت عالم ﷺ کے زمانۂ اقدس میں بھی تھا جسے ہم ابھی بیان کریں گے۔
افضل در اصل افعل کے وزن پر اسم تفضیل کا صیغہ ہے ، جس میں معنی حقیقی کے اعتبار سے  دوسرے کی بہ نسبت زیادتی ہوتی ہے ۔ اور معنیٰ یہ ہوتے ہیں کہ’’افضل و مفضول‘‘دونوں میں ایک ہی قسم کی فضیلت ہے مگر افضل میں وہ فضیلت زیادہ ہے اور مفضول میں کم ۔جیسے علم فقہ میں عمرو کو جتنا درک ہو، زید کو بھی علم فقہ میں اس سے زیادہ درک ہو تو کہا جائے گا کہ علم فقہ میں زید عمرو سے اعلم ہے۔یہ نہیں کہ عمر و کو منطق میں درک ہو اور زید کو لغت میں ، تو دونوں میں تقابل کیا جائے اور کہا جائے کہ زید عمر و سے اعلم ہے۔کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ افضل میں’’صفت فضیلت‘‘ہوتی ہے اور مفضول میں نہیں ہوتی۔ جیسے زید عالم ہو اور حامد جاہل تو کہا جاتا ہے کہ زید حامد سے افضل ہے ۔ شرعی اعتبار سےافضلیت کا اطلاق دو معنی پر ہوتا ہے(1) ظاہری افضلیت یعنی نیک اعمال جیسے نماز ، روزہ وغیرہ کی زیادتی ۔ (2) باطنی افضلیت یعنی خلوص دل ، پرہیزگاری اور اجرو ثواب کی زیادتی ۔ یہ بھی مد نظر رہے کہ کثرت اجر و ثواب کا مفہوم اللہ تعالی کے نزدیک زیادتِ کرامت اور کثرتِ قرب و وجاہت ہے ۔ (حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت اسی معنیٰ کے لحاظ سے ہے) ۔شرح مقاصد میں ہے:الكلام في الأفضليت بمعنى الكرامة عند الله تعالى ، و كثرة الثواب ۔ (شرح مقاصد جلد 3فحہ 523الفصل الرابع في الامامة)باطنی افضلیت کا مفہوم’’زیادت کرامت اور کثرت قرب و وجاہت ہے‘‘علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’هما أعلى المؤمنين صفة وأعظمهم بعد الأنبياء قدرا‘‘ 
ترجمہ : حضرت ابوبکر صدیق و فاروق اعظم رضی اللہ عنہما مومنین میں سے سب سے زیادہ صفت کے اعتبار سے اعلیٰ ہیں اور (بارگاہ الٰہی میں)انبیاء کے بعد مومنین میں سے سب سے بڑی قدر و منزلت والے ہیں۔(التیسیر شرح جامع الصغیر ، جلد 2 ، صفحہ 172 ، مطبوعہ بیروت )
شرح مواقف میں ہے : ’’و مرجعھا ای مرجع الافضلیۃ التی نحن بصددھا الی کثرۃ الثواب و الکرامۃ عند اللہ ‘‘ 
ترجمہ :جس افضلیت سے متعلق ہم بحث کر رہے ہیں  ، اس کا مرجع یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثواب کی کثرت اور عزت و کرامت ( ان حضرات کی ) ہے ۔( شرح المواقف ، المرصد الرابع ، المقصد الخامس ، الافضل بعد الرسول ، جلد 3 ، صفحہ 638 ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ) 
شرح عقائد کی شرح نبراس میں ہے : ’’ذکر المحققون ان فضیلۃ المبحوث عنھا فی الکلام ھی کثرۃ الثواب ای عظم الجزاء علی اعمال الخیر لاشرف النسب ‘‘
ترجمہ : محققین نے ذکر کیا ہے کہ جس فضیلت سے متعلق ہم بات کر رہے ہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ ثواب کا زیادہ ہونا اور اعمالِ صالحہ پر جزاء کا عظیم ہونا ، نہ کہ نسب کے اعتبار سے شرف حاصل ہونا۔( النبراس ، افضل البشر بعد الانبیاء الخ ، صفحہ299 ) اس پر اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ایک عقلی دلیل بھی پیش فرمائی ، تاکہ ہر عام و خاص کے ذہن میں افضلیت کا معنیٰ واضح ہو جائے ۔ فرماتے ہیں:دو درباریوں نے بادشاہ کو اپنی عمدہ کار گزاریوں سے راضی کیا بادشاہ نے ایک کو ہزار اشرفی دے کر پائے تخت کے نیچے جگہ دی ۔ دوسرے کو انعام تو ایک لاکھ اشرفی ملا، لیکن مقام اس پہلے کی کرسی منصب سے نیچے ۔ پھر فرماتے ہیں : اے انصاف والی نگاہ : اہل دربار میں افضل کسے کہا جائے گا ؟ اس مثال سے واضح ہوا کہ بلاشبہ جس کو بادشاہ سے زیادہ قرب ہے ، وہی سب سے زیادہ فضیلت والاہے ۔
اس کے بعد اس معنی کو کثیر دلائل سے ثابت فرمایا اور  اخیر میں تحریر فرمایا : بالجملہ سنیوں کا حاصلِ مذہب یہ ہے کہ بعد انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم جو قرب و وجاہت ، و عزت و کرامت ، و علو شان ، و رفعت مکان ، و غزارتِ فخر ، و جلالتِ قدر بارگاہ حق تبارک و تعالیٰ میں ، حضرا ت خلفائےاربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو حاصل ، ا ن کا غیر اگر چہ کسی درجہ علم و عبادت و معرفت و ولایت کو پہنچے ، اولیٰ ہو آخری ، اہل بیت ہو یا صحابی ، ہر گز ہر گز اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ مگر شیخین رضی اللہ عنہما کو امورِ مذکورہ میں ختنین رضی اللہ عنہما پر تفوق ظاہر و رجحان باہر ، بغیر اس کے کہ عیاذا باللہ فضل و کمال ختنین میں کوئی قصور و فتور راہ پائے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 صفح 120 رسالہ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین)
یہاں پر یہ بھی پیش نظر رہے کہ افضلیت کی تین صورتیں ہوتی ہیں 
افضلیت جزئیہ : یعنی افضل فضیلت کے کسی خاص باب میں بڑھا ہوا ہو ۔جیسے زید عمر سے علم نحو میں افضل ہو ۔افضلیت کلیہ افرادیہ : یعنی افضل فضیلت کے ہر باب میں مفضول سے بڑھا ہوا ہو ۔افضلیت کلیہ مجموعیہ : یعنی افضل مجموعی طور پر مفضول سے بڑھا ہوا ہو ۔ جیسے مرد مجموعی طور پر عورت سے افضل ہے ۔اس افضلیت کو افضلیت مطلقہ بھی کہتے ہیں ۔ جیسے زید کو جتنے مسائل یاد ہوں ، بکر کو بھی اتنے ہی مسائل یاد ہوں ، مگر زید کو ان کی معرفت دلائل کے ساتھ ہو اور بکر کو دلائل کے بغیر تو علی الاطلاق کہیں گے کہ زید بکر سے افضل ہے ۔افضلیت جزئیہ اور افضلیت مطلقہ میں منافات نہیں ۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ زید کو عمرو پر’’افضلیت مطلقہ‘‘ حاصل ہو اور عمرو کو زید پر افضلیت جزئیہ ۔نبی کریم ﷺ کی بعد باطنی افضلیت کلیہ افرادیہ تو درکنار ظاہری افضلیت کلیہ افرادیہ بھی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی ۔کیوں کہ دنیا میں بہت سے لوگ کوئی نہ کوئی ایسا نیک کام کر لیتے ہیں جو دوسرے کیے ہوئے نہیں ہوتے ۔ رہی افضلیت جزئیہ تو وہ حدیث اور قرآن کے مطابق بہت سے صحابہ کو ایک دوسرے پر حاصل ہے ، بلکہ اجمالاًبعض غیر صحابہ کو بھی حاصل ہے ۔ہم اہلسنت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت مطلقہ کے قائل ہیں:ہم اہلِ سنت و جماعت، حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو تمام رسولان عظام و انبیاء کرام و ملائکہ مقربین کے بعد افضل مانتے ہیں، وہ من کل الوجوہ نہیں، بلکہ علی الاطلاق مانتے ہیں۔ من کل الوجوہ افضل ہونے اور علی الاطلاق افضل ہونے میں بڑا فرق ہے۔ افضل علی الاطلاق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب بغیر کسی قید کے مطلق افضل کہا جائے تو مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہوں گے، اور اسی کو افضلیتِ مطلقہ کہا جاتا ہے۔البتہ کسی خاص جہت سے، یا کسی فضلِ جزوی (خصوصی و انفرادی فضیلت) کی بنا پر دیگر صحابہ کو بھی افضل کہا جا سکتا ہے، لیکن اس خاص جہت یا خصوصی صفت و فضیلت کی قید لگا کر ہی افضل کہا جائے گا۔ مثلاً: فلاں جہت یا خصوصیت کے اعتبار سے فلاں صحابی افضل ہیں۔لیکن جب مطلق سوال ہو کہ:نبیوں کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ تو چونکہ یہ سوال افضلیت مطلقہ کے بارے میں ہے، لہٰذا اہلِ سنت کے اجماعی، قطعی اور متواتر عقیدے کے مطابق جواب میں صرف جناب صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا نام ذکر کیا جائے گا۔امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 676ھ ) فرماتے ہیں:وأجمع أهل السُنة على أن أفضلهم على الإطلاق أبو بكر، ثم عمر 
ترجمہ :اہلسنت و جماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ میں علی الاطلاق سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں۔( تھذیب الاسماء و اللغات ، جلد 1 ، صفحہ 15، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت )
مطلع القمرین میں ہے:فضل کلی کے یہ معنی ہیں کہ مصححِ اطلاقِ افضل بہ اطلاق ہو۔ اور اطلاقِ افضلِ مقید کا مصحح فضلِ جزئی(مطلع القمرین، صفحہ 113)اور ایک جگہ پر فرماتے ہیں:فضل کلی اطلاقِ افضل علی الاطلاق کا مصحح ہے۔(مطلع القمرین، صفحہ 86)اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض فضیلتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے اعتبار سے صاحبِ فضیلت کو مطلقاً افضل کہا جاتا ہے۔ لیکن مطلقاً یا علی الاطلاق کا معنی من جمیع الوجوہ یعنی ہر طرح سے افضل ہونا نہیں ہے۔اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ہم بہ تصریح تفضیل من جمیع الوجوہ کے منکر ہیں اور اس کے ماننے والوں کا ردِ بلیغ کرتے ہیں۔(مطلع القمرین، صفحہ 113)لہٰذا یہ بات یاد رہے کہ فضلِ کلی کا جب کسی پر اطلاق ہوتا ہے تو کسی جہت یا حیثیت کی قید نہیں لگائی جاتی، جبکہ فضلِ جزئی کا اطلاق جب کسی پر کیا جاتا ہے تو جس جہت یا حیثیت سے فضیلت ہو، اس کو ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے۔دلائلِ شرعیہ کی رو سے، شیخینِ کریمین حضرت سیدنا صدیقِ اکبر و سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کسی جہت یا حیثیت کی قید کے بغیر افضل کہا گیا ہے۔ یہی اہلِ سنت کا موقف اور عقیدہ ہے کہ انبیاء و رسل کے بعد، حضرتِ شیخینِ کریمین کسی جہت اور حیثیت کی قید کے بغیر علی الاطلاق سب سے افضل ہیں۔افضلیتِ شیخین کو کسی خاص جہت یا حیثیت کے ساتھ مقید کرنا، مثلاً یہ کہنا کہ حضرت صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو صرف ظاہری خلافت کے معاملے میں دیگر صحابہ پر افضلیت حاصل ہے، خلافتِ باطنی اور ولایت کے معاملے میں نہیں، یہ اہلِ سنت کے مشرب و مذہب سے عدول و تجاوز ہے۔اس کو ایک مثال سے سمجھئے: ایک شخص بہت ماہر جنگجو ہے اور دوسرا علومِ دینیہ کا بہت بڑا عالم و فاضل ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ ان میں کون افضل ہے؟ تو جواب ہوگا کہ عالم افضل ہے۔ یہاں یہ قید لگانے کی حاجت نہیں کہ یہ کہا جائے علم میں افضل ہے، کیونکہ علم ایسی فضیلت ہے جو جنگی مہارت کی فضیلت پر فائق اور بھاری ہے۔ پس، علم سے عالم کے لیے فضلِ کلی اور افضلیتِ مطلقہ ثابت ہوئی۔لیکن جب اس جنگجو کو افضل کہا جائے گا تو یوں قید لگا کر کہا جائے گا کہ یہ سپاہی اس عالم سے جنگی فنون میں افضل ہے۔ یہ افضلیت بالتقیید ہے، اور جنگی فنون کی مہارت فضلِ جزئی ہے۔اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:فضل جزئی و فضل کلی کا فرق تو ہم پہلے سمجھا آئے کہ یہ افضل بالاطلاق اور وہ افضل بالتقیید کا مصداق ہے۔ اب ہم آپ صاحبوں ( تفضیلیہ) کی یہ کیفیت دیکھتے ہیں کہ شیخین کی نسبت جیسا قرآن و حدیث و اجماع (امت) سے ثابت اور (زبان) حق ترجمان حضور سید الانس والجان و مولیٰ علی(مرتضیٰ) واہل بیت کرام و صحابہ عظام علیہ و علیہم الصلوۃ والسلام پر جاری یہ کلمہ تم سے صاف صاف به طیب خاطر نہیں کہا جاتا کہ وہ (مطلقاً سب سے) افضل ہیں ، بلکہ جب کہتے ہو اس میں کسی جہت و حیثیت کی قید لگا لیتے ہو تمہارا یہ قید لگانا ہی دلیل باہر ہے کہ تم اس عقیدہ پر ثابت نہیں جسے قرآن و حدیث و اجماع ثابت کر رہے ہیں ورنہ جس طرح رسول اللہ ﷺ اور مولیٰ علی واہل بیت و سائر صحابہ بے تخصیص و تقیید ان پر لفظ افضل کا اطلاق کرتے رہے، تم بھی ایسا ہی کرتے کہ فضل کلی کا تقاضا ہی اطلاق وار سال ہے(مطلع القمرین صفحہ 126-127)
نیز فرماتے ہیں:  پس خوب معلوم ہوا کہ سنیوں کے نزدیک گو مولیٰ علی مرتضیٰ کو فضائل خاصہ حاصل جن میں شیخین کو اشتراک نہیں، مگر وہ سب ان کے مقابل فضل جزئی ہیں کہ فضل کلی شیخین کی مزاحمت نہیں کرتے(مطلع القمرین صفحہ 126)
اسے صرف اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے ہی  بیان نہیں  کیا،بلکہ یہی عقیدہ صحابۂ کرا م اور اہل بیت عظام کا بھی تھا کہ وہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی افضلیت مطلقہ کے قائل رہے اور اسے بغیر کسی قید و جہت و حیثیت کے بیان کرتے رہے :بخاری شریف وغیرہ میں ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: آپ نے فرمایا ہم حضور ﷺکے زمانہ میں کسی کو حضرت ابوبکر ان کے بعد حضرت عمر اور ان کے بعد حضرت عثمان(رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کے برابر نہ جانتے تھے۔ ( صحيح البخاري،رقم الحدیث ۳۶۹۷،سنن أبي داود رقم الحدیث،۴۶۲۷،مشكاة المصابيح – الفصل الأول،جلد ۳ صفحہ ۱۶۹۸ رقم الحدیث۶۰۲۵)
قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ : أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم حضور ﷺ کی زندگی میں کہا کرتے تھے:نبی کریم ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر ہیں ، پھر حضرت عمر ہیں اور پھر حضرت عثمان ہیں ہ ۵۷۵ رقم الحدیث ١٣٥٣،الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة – الفصل الثاني في ذكر فضائل أبي بكر الواردة فيه وحده وفيها آيات وأحاديث،جلد ۱ صفحہ ۱۹۵،مصابيح الس۔(رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)(سنن أبي داود ۔باب في التفضيل،جلد ۴ صفحہ ۳۳۷ رقم الحدیث،مشكاة المصابيح – الفصل الأول،جلد ۳ صفحہ ۱۶۹۸،جامع الأصول لابن اثیر – نوع سادس -جلد ۸ صفحہ ۵۷۹ رقم الحدیث ۶۳۹۴،تاريخ دمشق لابن عساكر – عبد الله ويقال عتيق بن عثمان بن قحافة بن عامر ابن عمرو بن كعب بن سعيد،جلد ۳۰ صفحہ ۳۴۴،السنة لابن أبي عاصم – باب في فضل أبي بكر وعمر وعثمان رضوان الله عليهم ،جلد ۲ صفحہ ۵۶۶ رقم الحدیث ۱۱۹۰،السنة لعبد الله بن أحمد – سئل عمن قال خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر،جلد ۲ صفحنة – باب مناقب أبي بكر رضي الله عنه للبغوی جلد ۴ صفحہ ۱۵۰رقم الحدیث ۴۷۱۵،شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للھبۃ اللہ اللالکائی ۔ سياق ما روي في التفضيل،جلد ۸ صفحہ ۱۴۴۶ رقم الحدیث ۲۶۰۱،هداية الرواة لابن حجر العسقلانی جلد ۵ صفحہ ۳۹۴ رقم الحدیث ۵۹۷۱،المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ۔الطبقة الثانية عشر صبيان أدركوا النبى ﷺ ورأوه عام الفتح وبعده،جلد ۲ صفحہ ۷۰۱)اگر کسی کو شک ہو کہ یہ بات حضور کی حیات پاک میں کہی تو جاتی تھی،مگر آپ تک پہنچی نہیں تھی، تو وہ معجم الاوسط میں اس حدیث کا مطالعہ کرلے۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:( كُنَّا نُفَاضِلُ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقُولُ:أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَيَبْلُغُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَيْنَا 
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضور ﷺکے صحابہ کے درمیان فضیلت بیان کرتے (تو اس ترتیب سے) بیان کرتے کہ’’حضرت ابوبکر‘‘ اور (پھر) ’’حضرت عمر‘‘اور (پھر) ’’حضرت عثمان‘‘ہیں۔ یہ بات حضور ﷺ تک پہنچی تو آپ نےہماری بات کا انکار نہیں فرمایا۔ (المعجم الاوسط،جلد ۸،صفحہ ۳۰۳،رقم الحدیث ۸۷۰۴)
بخاری شریف وغیرہ میں ہے کہ بیعت خلافت کے وقت، حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا:بَلْ نُبَايِعُكَ أَنْتَ ؛ فَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلکہ ہم آپ کی بیعت کریں گے؛ کیونکہ آپ ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے بہتر ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔(صحیح البخاری رقم الحدیث ۳۶۶۸،سنن ترمذی رقم الحدیث ۳۶۵۶،المستدرك على الصحيحين،رقم الحدیث۴۴۷۶،۴۷۶،صحيح ابن حبان رقم الحدیث۶۸۶۲،شرح السنة للبغوی جلد ۵ صفحہ ۳۲۳،،كتاب السنة لابن أبي عاصم جلد ۲ صفحہ ۵۵۶،رقم الحدیث۱۱۶۶،فضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم الأصبهاني جلد ۱ صفحہ  ۱۴۹رقم الحدیث ۱۸۵،تحفة الصديق في فضائل أبي بكر الصديق لابن بلبان جلد ۱ صفحہ ۱۲۲،تاريخ دمشق لابن عساكر،جلد ۳۰ صفحہ ۲۷۴،التاريخ الأوسط للبخاری،جلد ۱ صفحہ ۳۹ رقم الحدیث ۱۳۵،التلخيص الحبير لابن حجر العسقلانی،جلد ۶ صفحہ ۲۷۰۶ رقم ۵۷۳۵،) عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِعُمَرَ:مَا رَأَيْتُ رَجُلًا خَيْرًا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَأَيْتَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ: لَوْ قُلْتَ: نَعَمْ، لَجَلَدْتُكَ.
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میں نے آپ سے بہتر شخص نہیں دیکھا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا تو نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ہے؟(یعنی کیا  ان کا مرتبہ جاننے کے بعد مجھے ان سے بہتر کہہ رہا ہے؟)اس نے کہا نہیں۔تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو ہاں کہتا تو میں تجھے کوڑے لگاتا۔( فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل جلد۱صفحه ۱۴۴رقم الحديث ۱۲۲)
عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ، لِعُمَرَ:يَا خَيْرَ النَّاسِ، فَقَالَ:إِنِّي لَسْتُ بِخَيْرِ النَّاسِ، فَقَالَ:وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ قَطُّ رَجُلًا خَيْرًا مِنْكُ، قَالَ:مَا رَأَيْتَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا،  قَالَ، وَقَالَ عُمَرُ: مَنْ لَهُمْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، يَوْمٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ
حسن بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے لوگوں میں سب سے بہتر! تو حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے آپ سے بہتر شخص کبھی نہیں دیکھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا تو نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا؟اس نے کہا نہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو ہاں کہتا تو میں تجھے ضرور سزا دیتا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میرے اور ابو بکر کے درمیان جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ، ابو بکر کا ایک دن عمر کے خاندان سے بہتر ہے۔( مصنف ابن ابي شيبه جلد ۶ صفحه ۳۵۲ رقم الحديث ۳۱۹۵۷)
عَن أبي هُرَيْرَة كُنَّا معشر أَصْحَاب رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَنحن متوافرون نقُول أفضل هَذِه الْأمة بعد نبيها أَبُو بكر ثمَّ عمر ثمَّ عُثْمَان
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ ہم رسول اللہ ﷺکے صحابہ بڑی تعداد میں موجود ہوتے تو ہم کہا کرتے تھے کہ اس امت میں نبی ﷺکے بعد سب سے افضل شخصیت حضرت ابو بکر صدیق ہیں، پھر حضرت عمر فاروق ہیں، پھر حضرت عثمان غنی ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)(جامع الأحاديث۔ مسند أبى هريرة۔جلد ۳۹ صفحہ ۲۷۶ رقم الحدیث ۴۲۵۲۰،تاريخ الخلفاء ۔ الخليفة الأول ابو بكر الصديق رضي الله عنه۔جلد ۱ صفحہ ۳۹،كتاب كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال۔ جامع الخلفاء۔جلد ۱۳ صفحہ ۲۴۱ رقم الحدیث ۳۶۷۲۱،جمع الجوامع المعروف بالجامع الكبير ۔ مسند أبي هريرة رضي الله عنه ۔جلد ۲۲ صفحہ ۸۰۴،الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة ۔ الفصل الثاني في ذكر فضائل أبي بكر الواردة فيه وحده وفيها آيات وأحاديث۔جلد ۱ صفحہ ۱۹۵)
حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ما طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَىٰ أَحَدٍ مِنْكُمْ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ تم میں سے کسی ایسے شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو۔ (تاریخ الخلفاء جلد ۱ صفحہ ۴۰ مطبوعہ مکتبۃ نزار مصطفٰی الباز)
خود مولائے کائنات اور اہل بیت اطہار کا بھی یہی عقیدہ تھا ۔بخاری شریف میں ہے:عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ قَالَ مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
حضرت محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکے بعد سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا ابوبکر ( رضی اللہ عنہ )۔ میں نے پوچھا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا، اس کے بعد عمر( رضی اللہ عنہ) ۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب ( پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون ؟ تو ) کہہ دیں گے کہ عثمان رضی اللہ عنہ، اس لیے میں نے خود کہا ، اس کے بعد آپ ہیں ؟ یہ سن کر آپ نے(بطور عاجزی) فرمایا کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں۔صحيح البخاري ج؍۳،ص ۱۳۴۲، کتاب المناقب،رقم الحديث۔۳۶۷۱،سنن ابی داودج؍۴ص؍۲۰۶۔ کتاب السنة،رقم الحديث۔۳۶۲۹، المعجم الاوسط ج ؍۱ ص ؍ ۲۴۸۔رقم الحديث۔۸۱۰،فضائل الصحابة للامام احمد بن حنبل ج؍۱ ص؍ ۳۲۱۔رقم الحديث۔۴۴۵،۵۵۳ ، السنه لابن أبي عاصم ج؍ ۲ص؍ ۴۸۰۔رقم الحديث۔۹۹۳، صفة الصفوة لابن الجوزي ج؍۱ ص؍۲۵۰۔ ،السنه لعبدالله بن احمد، ج؍۲ ص؍۵۶۹۔رقم الحديث۔۱۳۶۳،۱۳۶۳،الرياض النضرۃ ج؍۱ ص؍ ۳۲۱۔تهذيب الاسماء لنووي، ج؍۲ ص؍۳۲۸۔ الاعتقاد للبيهقي، ج؍۱ ص؍ ۳۶۱
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَلَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُ الثَّالِثَ.
حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ سیدنا 
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے کا نام بھی بتا سکتا ہوں.مسند امام احمد بن حنبل(رقم الحدیث۔۹۳۴،۳۳۳،۹۲۲)،تخريج المسند لشاكر ،ج؍۲ ص؍۱۸۵۔مسند ابی یعلی ،رقم الحدیث ۵۴۰۔ فضائل خلفاء الراشدین(رقم الحدیث۔۱۴۸)،المعجم الاوسط (رقم الحدیث ۳۴۱۷)
  عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ: لَا أَجِدُ أَحَدًا يُفَضِّلُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي.
حضرت عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ میں جس کو دیکھوں گا کہ مجھے حضرت ابو بکر و عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)سے افضل کہتا ہے اس پر الزام تراشی کی حد لگاؤں گا(یعنی اسی(۸۰) کوڑے ماروں گا)۔ تاریخ دمشق لابن عساکر،جلد ۳۰،صفحہ ۳۸۳،مطبوعہ دار الفکر،الاعتقاد و الہدایہ الی سبیل الرشاد للبہیقی صفحہ  ۸۵۳،المؤلف و المختلف للدار قطنی،باب الحاء،جلد ۳ صفحہ ۲۹ ،السنہ،باب ما روی عن علی۔۔الخ صفحہ۱۸۲)قوام السنہ حضرت ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن فضل بن علی القرشی طلیحی التیمی الاصبہانی قدس سرہٗ العزیز  الحجة في بيان المحجة میں حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں:
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ:بَلَغَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ  أَنَّ أَقْوَامًا يُفَضِّلُونَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا 
النَّاسُ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ قَوْمًا يُفَضِّلُونِی عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَعَاقَبْتُ مِنْهُ، فَمَنْ سَمِعْتُهُ بَعْدَ الْيَوْمِ يَقُولُ هَذَا فَهُوَ مُفْتَرٍ عَلَيْهِ حَدُّ الْمُفْتَرِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا: أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِالْخَیرِ بَعْدُ. قَالَ: وَفِي الْمَجْلِسِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۔ فَقَالَ وَاللَّهِ لَوْ سَمَّى الثَّالِثَ لَسَمَّى عُثْمَانَ۔
حضرت علقمہ سے مروی ہے کہ حضرت مولاعلی مشکل کشا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ انہیں حضرت صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر فضیلت دیتے (اور حضرت مولاعلی کو ان سے افضل بتاتے)ہیں،پس حضرت علی منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا:اے لوگو!مجھے خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہما)سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے سنا ہوتا تو اس پر سزا دیتا ۔بار ِتفہیم (و تنبیہ)پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے کہتے سنوں گا تو وہ مفتری (بہتان باندھنے والا) ہے اس پر مفتری کی حد لازم ہے،پھر فرمایا :بے شک اس امت  میں نبی علیہ السلام کے بعد سب سے بہتر  ابو بکر ہیں پھر عمر،پھر خدا خوب جانتا ہے کہ ان کےبعد بہتر کو ن ہے۔راوی کہتے ہیں کہ مجلس میں امام حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی جلوہ فرما تھے انہوں نے ارشاد فرمایا:خدا کی قسم!اگر تیسرے کا نام لیتے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیتے۔(الحجۃ فی بیان المحجۃ باب فی فضائل الصحابۃ،فصل فی ذکر ما روی۔۔۔۔۔الخ جلد ۲ صفحہ ۳۶۹،رقم الحدیث ،۳۲۷، مطبوعہ دار الرایۃ،ریاض)
عن جعفر بن محمد وقد سئل عن أبي بكر فقال ما أقوله فيه لا أقول فيه الا خيرا او قال الاالخير بعد حديث حدثنيه أبي محمد قال حدثني أبي علي قال حدثني أبي الحسين قال سمعت أبي علي بن أبي طالب يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما طلعت شمس ولا غربت الحديث بتمامه(ای ما طلعت شمس ولا غربت على أحد بعد النبيين والمرسلين أفضل من أبي بكر) ثم قال لاأنالني الله شفاعة جدي ان كنت كذبت فيما رويت لك واني لارجو شفاعته يوم القيامة يعني أبا بكر ۔حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا میں ان کے متعلق کوئی بہتر بات ہی کہہ سکتا ہوں کیونکہ میں نے اپنے والد امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سن لی ہے جو انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ انبیاء کرام اور رسولان عظام کے علاوہ ابوبکر سے بہتر انسان پر آج تک آفتاب نہ طلوع ہوا نہ غروب اس کے بعد امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر میں نے روایت میں غلط بیانی کی ہو تو مجھے نبی اکرم ﷺ کی شفاعت حاصل نہ ہو اور میں تو روز قیامت صدیق اکبر کی شفاعت کا طلبگار ہوں گا ۔(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ،جلد ۱،صفحہ ۱۳۶،مطبوعہ بیروت)
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث پاک سے جسے انہوں نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے مولاعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے معلوم ہوا کہ حضرت سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺکے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اگر ان کا یہ عقیدہ نہ ہوتا تو اس حدیث شریف کو روایت نہ کرتے۔(یہ صرف چند حوالے تھے، افضلیت صدیق اکبر پر احادیث و اقوال صحابہ و اقوال ائمہ اہل بیت اطہار کا مطالعہ کرنےکےلئے میری کتاب’’افضلیت صدیق اکبراحادیث کی روشنی میں‘‘،’’فضائل ثانی اثنین علی لسان اسرۃ سید الکونین‘‘،افضلیت صدیق اکبر اقوال صحابہ کی روشنی میں‘‘کا مطالعہ کریں)یہاں یہ نکتہ بھی پیشِ نظر رہے کہ قرآن و حدیث اور دیگر شرعی دلائل کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں افضلیت کا اصل معیار اُس کی بارگاہ میں قرب اور تقویٰ ہے۔ محض نسب و حسب جیسے جزوی فضائل و خصائص کی بنیاد پر کسی کو بھی علی الاطلاق سب سے افضل اور اعلیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی حقیقت کی توضیح کرتے ہوئے امام اہلِ سنت، مجددِ دین 
و ملت، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ہے:قرآن و حدیث نے ہمیں کان کھول کر سنا دیا کہ نسب و جزئیت عند اللہ مدار افضلیت نہیں بلکہ اس کا مدار مزیت دین و تقوی ہے۔(مطلع القمرين في ابانة سبقة العمرين صفحہ 64)
اگر حسب و نسب کو ہی افضلیتِ مطلقہ کا معیار قرار دے کر مولائے کائنات، حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو افضل کہا جائے، تو لازم یہ آئے گا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے چچا، حضرت 
عباس اور حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل قرار پائیں، کیونکہ وہ نسب کے اعتبار سے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہیں۔ مگر یہ بات واضح ہے کہ حضرت عباس و امیرِ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی افضلیت مطلقہ کا عقیدہ نہ اہلِ سنت  کا ہے اور نہ تفضلیہ و روافض کا۔مزید برآں، اگر نسب ہی کو افضلیتِ مطلقہ کا پیمانہ بنا دیا جائے، تو پھر حضورِ اقدس ﷺ کے شہزادگان اور نواسوں کی افضلیت مطلقہ کا عقیدہ رکھنے سے کون سی شے مانع ہوگی؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ اہلِ سنت اور مخالفین دونوں میں سے کوئی ان کی افضلیت مطلقہ کا قائل نہیں۔لہٰذا یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ افضلیتِ مطلقہ کا معیار صرف و صرف نسب و حسب نہیں، بلکہ وہ قربِ الٰہی اور تقویٰ ہے جس پر قرآن و سنت کی صریح نصوص شاہد ہیں۔یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ افضلیت اور فضیلت میں ایک بڑا فرق یہ بھی 
ہے کہ کسی شخصیت یا عمل وغیرہ کی فضیلت کے اثبات میں سند کے اعتبار سے ضعیف احادیث و روایات بھی قبول کر لی جاتی ہیں جبکہ ان میں شدید ضعف نہ پایا جائے۔ لیکن کسی شخصیت کی افضلیت کو ثابت کرنے کے لیے خبر واحد یا ضعیف روایات ہرگز قبول نہیں کی جاتیں۔اعلی حضرت امام اہل سنت فرماتے ہیں:جان لو کہ فضیلت ایک الگ شے ہے اور افضلیت ایک دوسری شے ہے اور اول یعنی فضیلت کے معاملے میں ضعیف روایات قبول کی جاتی ہیں جب تک ان میں شدید ضعف نہ ہو بخلاف ثانی کے کہ (افضلیت میں ضعیف روایات قبول نہیں کی جاتیں) اور یہ نقطہ واجب الحفظ ہے پس کثیر ابنائے زمانہ اس سے غافل ہیں اور اللہ تعالی ہی ہدایت دینے والاہے۔ (مطلع القمرین صفحہ 80)
مرتب: محمد میاں قادری ازہری