حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراضات اور ان کے تحقیقی و علمی جوابات)

اسلامی تاریخ کے سنہرے ابواب صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تذکروں سے مزین ومنور ہیں۔قرآن کریم نے انہیں ضیائے ہدایت اور امت کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔ارشادِ باری تعالیٰ:﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ (التوبہ: 100)    
انہیں عظیم ہستیوں میں ایک نام حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا ہے،آپ جلیل القدر صحابی، کاتبِ وحی، شجاع، مدبر اور اسلامی سلطنت کے بانی و حکمران تھے ،مگر تاریخ کے غیر معتبر اوراق کو سامنے رکھکر آپ کی عظیم شخصیت کو مختلف الزامات کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور آپ پر بیجا اعتراضات کئے جارہے ہیں، اس لئے بعض احباب کے حکم پر ایک سلسلہ وار تحقیقی مضمون لکھنے کا عزم و ارادہ کیا گیا ہے ، جس میں ان شاء اللہ العزیز ان بیجا اعتراضات کا غیرجانبدارانہ اور تحقیقی جواب دیا جائےگا۔ وماتوفیقی الا باللہ۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تعارف و مقامنسب و قبولِ اسلامآپ کا نام معاویہ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ ہے۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز خاندانِ بنی امیہ سے تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔
کاتبِ وحیرسول اللہ ﷺ نے وحی لکھنے کے لیے جن صحابہ کو منتخب فرمایا ان میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔دعائے رسول ﷺعبدالرحمن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی:اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ(جامع الترمذي، حدیث: 3842)
ترجمہ: اے اللہ! معاویہ کو ہادی اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔الھم علم معاویة الکتاب والحساب وقہ الغذاب 
ترجمہ: اے اللہ معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطا فرما ، اور عذاب سے حفاظت فرما۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اور ان کے تحقیقی جوابات اعتراض
کہا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ نے مولائے کائنات حیدر کرار حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی خلافت کو تسلیم نہ کیا اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور جنگ کی جس کی وجہ سے وہ لائق ملامت ٹہرے ۔
جواب:اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اختلاف دراصل اجتہادی تھا، نفسانی اوردنیوی نہیں تھا،حضرت سیدنا مولاعلی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم چاہتے تھے کہ قاتلانِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بعد میں سزا دی جائے جبکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فوری قصاص کے خواہاں تھے اور دونوں بزرگوں کا مقصد صرف اور صرف اسلام اور اہل اسلام کی سربلندی تھا ، حضر سیدنا مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پیش نظر تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے جو افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا ہے پہلے اسکو معمول پر لایا جائے اور اسلام کا دبدبہ پہلے ہی کی طرح برقرار رکھا جائے جبکہ حضرت امیر معاویہ کی فکر یہ تھی کہ امیر المومنین جیسی عظیم اسلامی ہستی کا قتل ہوا ہے اور قاتل ہماری ہی صفوں میں دندناتے پھررہے ہیں اس سے عظمت اسلام پر حرف آرہا ہے اس لئے عظمت اسلام کی خاطر فورا انہیں قتل کیا جائے تاکہ آئندہ کسی میں ایسی جراءت کرنے کی ہمت نہ ہو۔     
یہ دونوں بزرگ مرتبہ اجتہاد پر فائز تھے ، عظیم المرتبت مجتہد تھے، حضرت سیدنا مولائے کائنات حیدر کرار علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے مجتھدانہ شان کا کون منکر ہوسکتا ہے ہاں کچھ لوگوں کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مجتہد ہونے میں ضرور شک و شبہ ہوسکتا ہے ان کے لئے خاندان نبوت کے عظیم المرتبت بزرگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد بطور ثبوت پیش ہے کہ آپ نے فرمایا : دعہ فانہ فقیہ کہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو وہ مجتہد ہیں ۔ 
ایک دوسری روایت میں آپ سے یہ الفاظ منقول ہیں :دعہ فانہ قد صحب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ انہیں انکی حالت پر چھوڑ دو انہیں صحبت رسول اللہ ﷺ کا شرف حاصل ہے یعنی وہ جو کچھ کررہے ہیں یہ انکا اجتہاد ہے وہ لائق طعن و تشنیع نہیں۔اور مجتہدین کے بارے میں یہ بھی بڑی مشہور بات ہے کہ مجتھد کا اجتہاد کبھی خطا کرجاتا ہے اور کبھی درستگی کو پہونچتا ہے جب درستگی کو پہونچتا ہے تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور خطا کرجاتا ہے تو بھی وہ لائق ملامت و مستحق طعن و تشنیع نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک اجر کا مستحق قرار پاتا ہے اور لائق تعریف و تحسین ہی رہتا ہے۔
متفق علیہ حدیث پاک میں ہے:عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:”إِذَا حَكَمَ الحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ.”علامہ تفتازانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :وما وقع من المخالفات والمحاربات بین علی و معاویة لم يكن من نزاع في خلافته بل عن خطاء في الاجتهاد.
ترجمہ : حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت معاویہ کے مابین جولڑائی ،جھگڑا ہوا وہ ان کی خلافت میں اختلاف کی وجہ سے نہ تھا بلکہ خطاء اجتہادی کی وجہ سے تھا۔ (شرح العقائد النسفیہ : ص 109)
علامہ خفاجی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :انها امور وقعت باجتهاد منهم لا اغراض نفسانية و مطامع دنيوية كما يظنه الجهلة.
ترجمہ: یہ اختلاف ان سے اجتہادا صادر ہوئے ، دنیوی خواہشات ہرگز پیش نظر نہ تھے جیسا کہ جہلا گمان کرتے ہیں ۔( نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض : 467/3)امام ابو بکر اسماعیلی رحمہ اللہ محدثین محمدثین کرام کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :وَالْكَفُ عَنِ الْوَقِيعَةِ فِيهِمْ، وَتَأَوَّلِ الْقَبِيحِ عَلَيْهِمْ، وَيَكِلُونَهُمْ فِيمَا جَرَى بَيْنَهُمْ عَلَى التَّأْوِيلِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ : ائمہ حدیث صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں ، بری باتیں ان پر نہیں تھوپتے اور اجتہادی طور پر ان کے مابین جو بھی ناخوشگوار واقعات ہوئے، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں۔(اعتقاد ائمة الحديث : ص 79)
امام ابوالحسن الاشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :  فَأَمَّا مَا جَرَى مِنْ عَلِي وَالزُّبَيْرِ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فَإِنَّمَا كَانَ عَلَى تَأْوِيلٍ وَاجْتِهَادٍ، وَعَلَى الْإِمَامُ، وَكُلُّهُمْ مِنْ أَهْلِ الاجْتِهَادِ، وَقَدْ شَهِدَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ وَالشَّهَادَةِ فَدَلْ عَلَى أَنَّهُمْ كُلُّهُمْ كَانُوا عَلَى حَقِّ فِي اجْتِهَادِهِمْ، وَكَذَلِكَ مَا جَرَى بَيْنَ سَيِّدِنَا عَلِي وَمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَدَلْ عَلى تَأْوِيلِ وَاجْتِهَادٍ، وَكُلُّ الصَّحَابَةِ أَيْمَةٌ مَأْمُونُونَ غَيْرُ مُتَهَمِينَ فِي الدِّينِ، وَقَدْ أَثْنَى اللهُ وَرَسُولَهُ عَلَى جَمِيعِهِمْ، وَتَعَبَّدَنَا بِتَوْقِيرِهِمْ وَتَعْظِيمِهِمْ وَمُوَالَاتِهِمْ ، وَالتَّبَرِى مِنْ كُلِّ مَنْ يَنْقُصُ أَحَدًا مِّنْهُمْ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ .
ترجمہ : سیدنا علی ، سید نا ز بیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے مابین جو اختلافات ہوئے ، وہ اجتہادی تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور سب صحابہ کرام مجتہد تھے نبی اکرم ﷺ نے ان کو جنت اور شہادت کی خوشخبری سنائی ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ سب اپنے اجتہاد میں حق پر تھے اسی طرح سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنھما کے مابین جو اختلافات ہوئے ، وہ بھی اجتہادی تھے تمام صحابہ کرام با اعتماد اور با کردار ائمہ تھے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے سب کی تعریف کی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی عزت و تعظیم کریں ، ان سے محبت رکھیں اور جو شخص ان کی تنقیص کرتا ہے، اس سے براءت کا اعلان کریں اللہ تعالیٰ انسب پر راضی ہو چکا ہے۔(الابانة عن أصول الديانة : ص 78)
امام ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :  فَالْوَاجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِظْهَارُ مَا مَدَحَهُمُ الله تَعَالَى بِهِ وَشَكَرَهُمْ عَلَيْهِ مِنْ جَمِيلِ أَفْعَالِهِمْ وَجَمِيلِ سَوَابِقِهِمْ وَأَن يَغُضُّوا عَمَّا كَانَ مِنْهُمْ فِي حَالِ الْغَضَبِ وَالْإِغْفَالِ وَفَرَطٍ مِنْهُمْ عِنْدَ اسْتَزْلَالِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُمْ وَناخُذُ فِي ذِكْرِهِمْ بِمَا أَخْبَرَ اللهُ تَعَالَى بِهِ، فَقَالَ تَعَالَى : وَالَّذِينَ جَاءُ وَا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} (الحشر 10:59) الْآيَةَ، فَإِنَّ الْهَفْوَةَ وَالزَّلل وَالْغَضَبَ وَالْحِدَةَ وَالْإِفْرَاطَ لَا يَخْلُو مِنْهُ أَحَدٌ، وَهُوَ لَهُم غَفُورٌ وَلَا يُوجِبُ ذَلِكَ الْبَرَاءمِنْهُمْ وَلَا الْعَدَاوَةَ لَهُمْ ، وَلَكِنْ تُحِبُّ عَلَى السَّابِقَةِ الْحَمِيدَةِ، وَيَتَوَلَّى لِلْمنْقَبَةِ الشَّرِيفَةِ. 
ترجمہ:اصحاب رسول کے بارے میں مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح میں جو کچھ فرمایا ہے اور ان کے اچھے افعال و کارناموں کی جو تعریفات کی ہیں، انہیں بیان کیا جائے اور شیطان کے بہکاوے آکر ان سے غصے غفلت اور شدت میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ، ان سے چشم پوشی کی جائے اس سلسلے میں ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو دلیل بناتے ہیں :وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُوْنَا بِالْإِيمَانِ.جو لوگ ان کے بعد آئیں اور کہیں کہ اے ہمارے رب تو ہمیں بھی معاف فرمادے اور ہم سے پہلے ایمان والوں کو بھی۔کیونکہ لغزش غلطی ، غصے ، شدت اور کوتاہی سے کوئی بھی مبرا نہیں اور اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی ایسی لغزشوں کو معاف فرما دیا ہے صحابہ کرام کی ایسی بشری لغزشیں ان سے براءت اور عداوت کا باعث نہیں بن سکتیں ،اللہ تعالی ان کی قابل ستائش سبقت اسلام کی بنا پر ان سے محبت رکھتا ہے اور عزت والے مرتبے کی وجہ سے انہیں دوست رکھتا ہے”۔( كتاب الامامة والرد علی الرافضہ : ص 341 342)
شیخ الاسلام ابو عثمان ، اسماعیل ، صابونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :وَيَرَوْنَ الْكَفَّ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَطْهِيرَ الْأَلْسِنَةِ عَنْ ذِكْرِ مَا يَتَضَمَّنُ عَيْبًا لَّهُمْ وَنَقْصًا فِيهِمْ وَيَرَوْنَ الترَحْمَ عَلَى جَمِيعِهِمْ وَالْمُوَالَاة لكافتهم
ترجمہ :اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں خاموشی اختیار کی جائے اور زبان کو ایسی باتوں سے پاک رکھا جائے جن سے صحابہ کرام کا کوئی عیب و نقص ظاہر ہوتا ہو، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دعا کی جائے اور ان سب سے محبت رکھی جائے ( عقیدة السلف أصحاب الحدیث ص (93)امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :وَمَا جَرَى بَيْنَ مُعَاوِيَةً وَعَلِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ مَبْنِيًّا عَلَى الاجْتِهَادِ وَلَا مُنَازَعَةً مِنْمُعَاوِيَةً فِي الْإِمَامَةِ.
ترجمہ: سیدنا معاویہ اور سید ناعلی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے باہمی اختلافات اجتہاد پر مبنی تھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے امامت و خلافت کا کوئی تنازع نہیں تھا “(احیاء علوم الدین : 1 /115)علامہ ابن حزم اندلسی فرماتے ہیں :فَبهذا قَطَعْنَا عَلَى صَوَابِ عَلَيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصحة أَمَانَتهُ وَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَأَنَّ لَهُ أَجْرَيْنِ أَجْرُ الإِجْتِهَادِ وَأَجْرُ الْإِصَابَةِ وَقَطَعْنَا أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ وَمَنْ مَعَهُ مخطِئُونَ مُجْتَهِدُونَ مَأْجُورُونَ أَجْرًا وَاحِدًا.
ترجمہ : ان دلائل کی رو سے ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ درستی پر تھے، صاحب حق و امانت تھے اور ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا ہم یہ بھی یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی غلطی پر تھے لیکن مجتہد تھے اور ان کو اجتہاد کا ایک اجر ملے گا۔(الفصل في الملل والأجواء والنحل : 161/4)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :وَاتَّفَقَ أَهْلُ السُّنَّةِ عَلَى وُجُوبِ مَنْعِ الطَّعْنِ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بِسَبَبٍ مَا وَقَعَ لَهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَلَوْ عَرَفَ الْمُحِقِّ مِنْهُمْ لِأَنَّهُمْ لَمْ يُقَاتِلُوا فِي تِلْكَ الْحُرُوبِ إِلَّا عَنِ اجْتِهَادٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنِ الْمُخْطِ فِي الاجْتِهَادِ بَلْ ثَبَتَ أَنَّهُ يُؤْجَرُ أَجْرًا وَاحِدًا، وَأَنَّ الْمُصِيبَ يُوجَرُ أَجْرَيْنِ .
ترجمہ :اہل سنت و جماعت کا اتفاق ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کی بنا پر کسی بھی صحابی پر طعن کرنا حرام ہے، اگر چہ کسی کو ان میں سے اہل حق کی پہچان ہو بھی جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اجتہادی طور پر یہ لڑائیاں کی تھیں، اللہ تعالی نے اجتہاد میں غلطی کرنے والے سے درگزرفرمایا ہے، بلکہ اسے ایک اجر ملنا بھی ثابتہے اور جو شخص حق پر ہو گا، اسے دوا جر ملیں گے۔( فتح الباری شرح بخاری : 34/13)علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :والْحَقِّ الَّذِي عَلَيْهِ أَهْلُ السُّنَّةِ الْإِمْسَاكُ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَ الصَّحَابَةِ وَحُسْنُ الظَّنِّ بِهِمْ وَالتَّأْوِيلُ لَهُمْ وَأَنَّهُمْ مُجْتَجِدُونَ مُتَّأَوَّلُونَ لَمْ يَقْصُدُوا مَعْصِيَةً وَلَا مَحْضَ الدُّنْيَا فَمِنْهُمُ الْمُخْطِئُ فِي اجْتِهَادِهِ وَالْمُصِيبُ، وَقَدْ رَفَعَ اللهُ الْحَرَجَ عَنِ الْمُجْتَهِدِ الْمُخْطِ فِي الْفُرُوعِ وَضَعْفِ أَجْرِ الْمُصِيبِ.
ترجمہ : حق ودرست نظریہ جس پر اہل سنت وجماعت قائم ہیں ، وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین ہونے والے اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، ان کے بارے میں حسن ظن سے کام لیا جائے ، ان کے لیے تاویل کی جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ مجتہد تھے اور ان سب کے پیش نظر دلائل تھے۔ ان اختلافات میں سے کسی صحابی نے بھی کسی گناہ یا دنیاوی متاع کا ارادہ نہیں کیا تھا اجتہاد میں بعض کو غلطی لگی اور بعض درستی کو پہنچے اللہ تعالیٰ نے فروعی معاملات میں اجتہادی غلطی کرنے والے کو گناہ گار قرار نہیں دیا بلکہ ایک اجر کا حق دار ٹھہرایا ہے ، جبکہ درستی کو پہنچنے والے کا اجر دو گنا کر دیا گیا ہے۔( عمدۃ القاری شرح بخاری : 1 / 212)ابن تیمیہ کا بیان ہے:وَأَمَّا الْفِتْنَةُ الَّتِي وَقَعَتْ بَيْنَ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ… فَكُلٌّ مِنْهُمَا مُجْتَهِدٌ قَصَدَ اتِّبَاعَ الْحَقِّ(منهاج السنة، 4/383)
ترجمہ: “حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو اختلاف ہوا وہ دونوں کا اجتہادی معاملہ تھا، دونوں حق کے متلاشی تھے۔”    
مذکورہ بالاارشادات سے یہ بات بالکل واضح وروشن ہوجاتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو بھی ناخوشگوار واقعات پیش آئے ، معرکہ صفین رونما ہوا وہ اجتہادی اختلاف پر مبنی تھا ، جس کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو شرف صحابیت اور شرف اجتہاد حاصل ہے وہ ہرگز زائل نہ ہو گا بلکہ وہ لائق تعظیم اور قابل تحسین ہی رہیں گے۔ ان پر طعن و تشنیع کرنا ہرگز ہرگز جائز نہ ہوگا۔      
خود مولائے کائنات حیدر کرار حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برائ سے یاد کرنے سے منع فرمایا ہے ، اور خاص جنگ صفین کے شرکاء کے بارے میں فرمایا ہے : قتلای وقتلی معاویہ کلاھما فی الجنة کہ میری طرف سے لڑنے والے اور معاویہ کی طرف سے لڑنے والے دونوں جنتی ہیں نیز نہج البلاغہ میں آپ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے: والظاهر ان ربنا واحد ونبينا واحد ودعوتنا في الإسلام واحدۃ لا نستزيدهم في الإيمان باللہ والتصديق برسوله ولا یستزیدوننا۔کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اور معاویہ کا پروردگار ایک ہے، ہمارا نبی بھی ایک ہے، اسلام کے سلسلے میں ہماری دعوتیں بھی ایک ہیں، نہ ہم ان سے اللہ ورسول کی تصدیق میں زیادہ ہیں اور نہ وہ ہم سے زیادہ۔اس لئے امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ دو ٹوک لفظوں میں فرماتے ہیں: فرق مراتب بے شمار ، حق بدست حیدر کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار ، طعن ان پر کار فجار۔ایک دوسرے مقام پر امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کرنا حقیقت میں اللہ جل مجدہ الکریم، اس کے رسول مصطفٰی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم، اور اہل بیت اطہار خصوصا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر زبان طعن دراز کرنا ہے العیاذ باللہ ۔آپ فرماتے ہیں:اما عند أهل الحق فاستقامة الخلافة للامير معاوية رضى الله عنه من يوم صلح السيد المجتبى صلى الله على جده الكريم وأبيه وعليه وعلى أمه وأخيه وسلم وبه ظهر أن الطعن على الامير معاوية رضى الله تعالى عنه طعن على الامير المجتبى بل على جده الكريم صلى الله تعالى عليه وسلم بل على ربه عز وجل فإن تفويض أزمة المسلمين بيد من هو كذا و كذا بزعم الطاعنين خيانة للاسلام والمسلمين وقد ارتكبها – معاذ الله – الإمام المجتبى وارتضاها رسول الله ﷺ وهو ما ينطق عن الهو إن هو إلا وحي يوحى.
ترجمہ : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا درست ہو نا اہل حق کے نزدیک اسی دن سے ہے جس دن امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے صلح فرمائی اور اس صلح سے ظاہر ہو گیا کہ حضرت امیر معاویه رضی الله تعالی عنہ پر طعن وشنیع کرنا درحقیت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالٰی عنہ پر طعن وتشیع کرنا ہے بلکہ پر آپ کے نانا جان مصطفی جان رحمت ﷺ پر زبان طعن دراز کرناہے بلکہ اللہ جل مجدہ الکریم طعن و تشنیع کرنا ہے کیونکہ اہل اسلام کی لگام ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دینا جو اسکا لائق نہ ہو بلکہ حضرت امیر معاویہ پر زبان طعن دراز کرنے والوں کے گمان کے مطابق ایسا ہو ویسا ہو حقیقت میں اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ خیانت کرنا ہے، جسکا ارتکاب حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا العیاذ باللہ اور رسول اللہ ﷺ نے اسے بند کیا جکہ آپ کی شان مبارک یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے، جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی خدا جل و علا ہے ۔ (المعتمد المستند) (جاری

از: مفتی محمد عالم رضا نوری ازہری