دور حاضر میں انسانی زندگی کے مختلف گوشوں میں موبائل کے جو حیرت انگیز اثرات مرتب اور تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ محتاج بیان نہیں۔ اسی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ آج پورے سماج میں تصویر کشی، فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی کا خبط، بلاتفریق جنس، چھوٹے سے لے کر بڑے تک، جوان سے لے کر بوڑھے تک ہر ایک پر سوار ہے۔ سیاسی تقاریب ہوں یا سماجی مجالس، مذہبی اجتماعات ہوں یا نجی محافل کوئی بھی اس پرتو سے دور نہیں۔خیر! ہمیں ان سے سروکار نہیں ہمارا موضوع سخن یہ ہے کہ اب یہ نحوست ہماری عبادات و مذہبی سرگرمیوں میں بھی درآئی ہے۔ جو کہ نہایت فکر انگیز اور افسوس ناک بات ہے۔ اس سے بھی زیادہ الم ناک بات یہ ہے کہ حرمین شریفین جیسی مقدس ترین سر زمین میں بھی یہ بڑی سرعت کے ساتھ اپنا پیر پسار رہی ہے۔ حج و عمرہ کرنے کی سعادت پانے والے حضرات اپنی عبادت و ریاضت کو موبائل کی زینت بنانے سے نہیں ہچکچاتے۔ مطاف ہو یا منی، صفا و مروا ہوں یا میدان عرفات، مزدلفہ ہو یا روضۂ رسول، مسجد نبوی شریف ہو یا دوسرے مقامات مقدسہ ہر مقام پر ایسے کثیر افراد مل جائیں گے۔
حج کی توفیق سے مالا مال ہونا، رب کی عظیم نعمت اور کسی بھی مومن کی قسمت کی معراج ہے۔ مگر اس سے کما حقہ فائدہ اٹھانا اور اس کی روحانیت سے شادکام ہونا اس سے بھی بڑی سعادت ہے۔ کیونکہ حرمین شریفین میں جہاں ایک نیکی پر بےشمار ثواب کی بشارت ہے تو ایک معصیت پر بےشمار گناہ کی وعید بھی بلکہ شعائر اللہ کی ادنی سی گستاخی سے پورا حج اکارت ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ایک حاجی کی شان ہے کہ ہر طرح کی معصیت بلکہ اس کے خیال سے بھی حتی الامکان گریز کرتے ہوئےشب و روز، عبادت و ریاضت اور ذکر و فکر سے اس کا دل و دماغ اور اعضاء و جوارح شاد کام رہے۔ خوف و رجا کے درمیان اپنے تمام امور انجام دے مگر یہ کتنی محرومی کی بات ہے کہ اتنی اہم عبادت کو بھی موبائل کی زینت بنایا جائے اور سیلفی وغیرہ جیسے بےکار کاموں کی طرف توجہ دیاجائے جو کہ علماء کے ایک طبقہ کے نزدیک بلاضرورت ناجائز ہے۔ بلکہ سوشل میڈیا کے توسط سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اتنے جری ہوتے
ہیں کہ ارکان حج کی ادائگی کے دوران بلاجھجک ویڈیو گرافی یا لائیو چلانے جیسے مکروہ فعل میں مصروف ہونے سے گریز نہیں کرتے بلکہ ذرائع ابلاغ کی وساطت سے پتہ چلتا ہے کہ دوران دعا بھی کچھ لوگ فوٹو کھنچواتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انہیں اس کے انجام و نتیجہ کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی ایسا لگتا ہے کہ سیر و تفریح کو آئے ہیں یا بغیر سیلفی وغیرہ کے حج یا عمرہ پائے تکمیل کو نہیں پہنچے گا۔
یہ کتنی حرماں نصیبی کی بات ہے کہ ایک طرف تو طواف کا سلسلہ جاری رہے جو عجز و انکسار اور تواضع و فروتنی کا پیکر بن جانے کا متقاضی ہے اور ساتھ ہی ساتھ حجاج کا تانتا بھی بندھا ہوا ہے دوسری طرف اپنا بےجا شوق کی خاطر ایسے نازیبا حرکات میں مشغول ہوا جائے اس سے نا صرف یہ کہ طواف جیسے مقدس عمل میں ایک لایعنی چیز کی شمولیت ہوجاتی ہے اللہ سے تعلق منقطع ہوجاتا ہے اور تھوڑی دیر ہی کے لیے سہی، ساری توجہ موبائل اور سیلفی وغیرہ کی طرف مبذول ہوجاتی ہے بلکہ اس سے دوسرے کو ڈسٹرب بھی ہوتا ہے بعض لوگ گزر گاہوں میں بھی یہ کام شروع کردیتے ہیں۔ اس سے لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے اور انہیں زحمت بھی جب کہ حدیث شریف میں ایک مومن کی شان یہ بتائی گئی ہے کہ “المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ“(کامل مسلمان وہ ہےجس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں)وہاں دوران احرام تو جوں تک کو مارنا منع ہے تو کسی مومن کے لیے باعث ایذا فعل کا ارتکاب کرنا بدرجہ اولی جرم ہوگا۔ دگر مقامات مقدسہ مثلاً عرفات وغیرہ میں بھی ہاتھوں میں قرآن مجید اور تسبیح کے بجائے موبائل کی نحوست ہوتی ہے۔ اس سے مقامات مقدسہ کا احترام ملحوظ نہیں رہ پاتا ہے۔ حج کی روح مجروح ہوجاتی ہے۔ اس کی روحانیت و لذت اور رحمت الہی سے محرومی ہاتھ آتی ہے۔
توفیق حج سے بہرہ ور ہونا جتنی نیک بختی ہے، حج کا حج مبرور کی صف میں جگہ بنانا، اس سے کہیں زیادہ نیک بختی ہے حج مبرور کے متعلق کئ اقوال ہیں ان میں دو ملاحظہ ہو:پہلا یہ کہ جس میں گناہ کا ارتکاب نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ جس میں ریا نہ ہو.[عمدۃ القاري، ١٨٨/١]
جب کوئی حاجی سیلفی وغیرہ کا کام کرتا ہے تو کہیں نہ کہیں ضرور ان دونوں امور کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے۔
روضۂ رسول ﷺ کے پاس بھی ویڈیو کالنگ کرتے ہیں یا سیلفی لیتے ہیں۔ ظاہر اس کی وجہ سے وہاں آواز
بلند ہے جو کہ سرا سر روضۂ انور کے ادب کے خلاف ہے۔ یہ احترام و عقیدت کی جا ہے بلکہ
ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
بارگاہ رسول کے ادب کی تعلیم خود رب تعالی دیتا ہے ارشاد ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ.(سورۃ الحجرات)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
یہ حکم جس طرح حیات ظاہری کے لیے تھا، اسی طرح اب بھی ہے اور تا قیام ساعت رہےگا۔ اس لیے حجاج کو چاہیے کہ وہ آداب بارگاہ رسالت مآب کی پاس داری کرے۔ درود و سلام کا نذرانہ بھی پیش کرے تو پست آواز میں۔
اسی طرح مسجد نبوی شریف میں بھی آداب مسجد کی بجا آوری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ سیلفی وغیرہ سے اجتناب کرے۔ اس سے اس کی حرمت کی پامالی ہوتی ہے۔ دنیاوی امور تو عام مسجدوں میں منع ہے تو مسجد رسول میں ان کا کیا حکم ہوگا
کئی لوگ سیلفی لے کر یا اپنی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کرتے ہیں اس میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس سے خود نمائی اور خود ستائی کا پہلو رہتا ہے اخلاص جو کہ کسی بھی عبادت و عمل کا جوہر و عنصر ہوا کرتا ہے، اس میں کہیں نا کہیں کمی آجاتی ہے ایک بندۂ مومن کے بارے میں تو ایسا خیال نہیں کیا جاسکتا ہے مگر شیطان انسان کا بڑا دشمن ہے ذرا سا موقع پاتے ہی اپنے وسوسوں کے جال میں پھنسا لیتا ہے اور بندے کو احساس بھی نہیں ہوپاتا نتیجتاً اس اہم عبادت میں ریا و سمعہ کی آمیزش ہوجاتی ہے جو کہ کسی بھی عمل کے لیے سم قاتل ہوا کرتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے:
من سمع الناس بعمله سمع الله به أسامع خلقه وحقره وصغره[مرقاۃ المفاتيح، ٣٣٣٤/٨]
یعنی: جو شخص لوگوں میں اپنے عمل کا چرچہ کرےگا، اللہ تعالی اس کی ریاکاری کو لوگوں میں مشہور کردےگا اور اس کو ذلیل و رسوا کرے گا۔
إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمال[مرقاۃ المفاتيح، ٣٣٣١/٨]
ترجمہ: بےشک اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا ہے مگر وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
لعل احمد مصباحی
جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور