بارہویں ترے صدقے، ہے بہار گیارہ میں
اے ربیع الاول! تو عید سے بھی بڑھ کر ہے
(راقم الحروف)
حضورﷺ کی ذات! در حقیقت مؤمن کا وظیفۂ حیات، اہل دل کا سامان شوق، شب زندہ دار کی آخری پہر کی بانگ بلال، آئینۂ روح کی تاب، آبشار محبت کا ترنم، قلزم عشق کی موج، منزل سعادت کا چراغ، کتاب زیست کا عنوان، سینۂ کائنات کا راز، قلب کا گداز، دیدۂ نمناک کا در عظیم، خاک حجاز کی مہک، فضائے طیبہ کی نکہت، ازل کی صبح، ابد کی شام، ادیب کا سرمایۂ فن، دانشور کی آبروئے فکر اور شعرائے نعت کے تخیل کا حاصل ہے اور اسی ذات سے غنچۂ روح کھِلتا، چشمۂ جاں ابلتا، گلشن ایماں مہکتا، بحر شوق امنڈتا، سینۂ ذوق مچلتا، افق فکر چمکتا، قلب کون و مکاں دھڑکتا، حسن زندگی نکھرتا، قد علم و فن ابھرتا اور وجود عشق و عرفان سنورتا ہے
آمد جان کائناتﷺ کی مبارک و مسعود ساعت پر عشق کے پرچم کو نصب سقف کرنا، بیوت و مساکن کو نور سے معمور کرنا، مجالس و محافل ذکر خیر کا انعقاد کرنا استقبالیہ جلوس اور لینگر و شیرینی کا اہتمام کرنا اور کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا یا دیگر امور جائزہ و مستحسنہ کو عملی جامہ پہنانا خیالات میں ایک سوال پیدا کرتا ہے کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے؟
ہر عاشق رسولﷺ کا جواب یہی ہوگا کہ اول مقصد سلطان الانبیاءﷺ کی ولادت پر قلبی فرحت و مسرت کا اعلان و اظہار کرنا ہوتا ہے اور دوم ممدوح رب کعبہ کا کثرت کے ساتھ ذکر خیر کرنا،
حاشیۂ ذہن پر پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کیا یہ تحسین خراج عقیدت قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہے_؟
پہلے ہم مقصد اول “اظہار مسرت” کی بات کرتے ہیں پھر مقصد دوم “ذکر مولد النّبیﷺ” کی بات کریں گے، بفضلہ تعالیٰ اہلسنت و جماعت کا ہر قول و عمل عین ادلہ شرعیہ کی روشنی میں ہوا کرتا ہے ماہ ربیع الاول یا خصوصاً 12 ربیع النور شریف کے موقع پر ہونے والے جملہ امور مذکورہ و مستحسنہ فرمان خدا وندی کے مطابق اور احادیث مبارکہ اور آثار بزرگاں سے مستفاد ہوتے ہیں،
اب ہم رفتہ_رفتہ افہامی قدم بڑھاتے ہیں اور آپ تفہیمی نظر اور انصافی بصر سے ملاحظہ کیجیے،
قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :-
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ° هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ_°
سورۂ یونس آیت 58
اے محبوب! تم فرما دو کہ ایمان والوں کو اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت پر اور اسی کی خوشنودی کے لئے خوشی منانی چاہیے اور انکا یہ عمل دنیوی اموال کو جمع کرنے سے زیادہ بہتر ہے.(تفسیر آیت)
مذکورہ آیت کریمہ میں دو لفظ ہمارا محل استدلال ہے “فضل” اور “رحمة” کیونکہ اس کے ملنے پر خوشی کا حکم ارشاد فرمایا ہے، جب ہم نے قرآن حکیم میں غور و فکر کیا کہ فضل اور رحمت سے کون اور کیا مراد ہے تو اللہ رب العزت نے اسی کلام لا ریب میں اپنے محبوب پاکﷺ کو ایک مقام پر “فضل” کہا ہے اور دوسرے مقام پر “رحمت” کا مصداق قرار دیا ہے اور یہ توضیح تفسیر الایة بالآیة کی قبیل سے ہے جو احسن التفاسیر کا درجہ رکھتی ہے اب ذیل میں یکے بعد دیگرے دونوں آیتیں ملاحظہ فرمائیں
آیت “فضل”، چنانچہ ارشاد حق تعالیٰ ہے
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ° وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا° وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا
سورۂ احزاب آیت 45، 46 اور 47
اے غیب کی خبریں بتانے والے نبیﷺ! بیشک ہم نے تمہیں حاضر و ناظر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور تمہاری شان یہ ہیکہ تم اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہو اور تمہارا وجود مسعود ایسا آفتاب عالم تاب ہے جس نے کفر و شرک کی ظلمات شدیدہ کو نور حقیقت افروز سے دور کر دیا اور خلق کے لئے معرفت و توحید الہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کر دیں اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو کیونکہ تمہارا وجود مسعود ان کے لئے اللہ کا بڑا فضل ہے.
(تفسیر آیت)
آیت “رحمة”، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :-
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ
اور اے محبوب! ہم نے تمہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے.
سورۂ انبیاء آیت 107
اب مفہوم بالکل اظہر من الشمس ہے کہ پہلے حکم ہوا فضل و رحمت ملنے پر خوشی مناؤ اور پھر خود رب تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرمﷺ کی ذات مبارکہ کو فضل اور رحمت قرار دیا یعنی صغری اور کبری کی تشکیل کے بعد حد اوسط کو گرا دیا جائے تو نتیجہ خود برآمد ہو جائے گا اور وہ یہ ہے
اے مومنو! میرے محبوبﷺ کے ملنے پر خوب خوشیاں مناؤ! (سبحان اللہ)
اب تو ہر بالغ النظر اور خرد مند کو بآسانی سمجھ لینا چاہیے کہ جشن میلاد مصطفیٰﷺ خود کلام الہی سے ثابت شدہ ہے، بہر صورت واضح ہو گیا کہ حضور کی ذات ہی فضل اور رحمت الہی ہے اور حکم بھی یہی ہیکہ اس نعمت عظمیٰ کے حصول پر خوشی مناؤ لیکن حاشیۂ ذہن پر سوال ابھر سکتا ہے کہ اہتمام جشن کا حکم دینے میں آخر وجہ کیا ہے_؟
تو وجہ وہی جان سکتا ہے جسکا سینہ عشق رسول کا مدینہ ہوگا یہ اس کے بس کی بات ہی نہیں ہے جسکا سیاہ دل شر شیاطین کا بسیرا ہو پس وجہ اعلان فرحت یہی ہیکہ یہ نعمت کوئی عام نعمت نہیں ہے بلکہ حضور کا وجود مسعود اخص النعم ہے اور حضور کی ذات مقدسہ ہی وجہ تخلیق کائنات ٹھہری ہے مطلب یہ کہ کائنات کا وجود اور اس کی بہاریں حضور ہی کی آمد_امد کا تصدق ہے، آدم صفی اللہ سے سیّدنا عیسٰی روح اللہ تک یکے بعد دیگرے متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کی تشریف آوری ہوتی رہی مگر کسی کی بعثت پر اللہ رب العزت نے اظہار احسان نہ فرمایا لیکن باری جب محبوب کی آئی تو اس کی جلوہ گری پر ارشاد ہوا :-
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ
سورۂ آل عمران آیت نمبر 163
بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان عظیم فرمایا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول
(اپنے محبوب محمد مصطفیٰﷺ کی صورت میں) مبعوث فرمایا ہے (تفسیر آیت)
فی زماننا بعض ایسے بھی بد عقیدہ اور بدبخت انسان پائے جاتے ہیں جو جشن میلاد مصطفیٰﷺ کو بدعت و ضلالت سے تعبیر کرتے ہیں مگر میرا مشورہ ہیکہ اس مسئلہ میں ان سے الجھنے یا نپٹنے کی ضرورت نہیں ہے بس پہچاننے اور بچنے کی ضرورت ہے علامہ بقی بن مخلد (م276ھ) روایت کرتے ہیں :-
ابلیس لعین چار مواقع پر سب سے زیادہ رویا تھا،
(1) “…جب اللہ کی بارگاہ سے ملعون ہوا،
(2) جب باغ جنت سے مردود و مخروج ہوا،
(3) جب اللہ کے مقدس کلام کا نزول ہوا،
(4) جب مکہ مکرمہ کی دھرتی پر سیّد المرسلینﷺ کا ظہور ہوا…”
علامہ احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں_:
نثار تیری چہل_پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاؤل
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
اور آج بھی اسی ابلیسی فکر کے متحملین پائے جا رہے ہیں جنہیں حضورﷺ کی پیدائش کے جشن سے تکلیف ہوتی ہے اور یقیناً ہوتی ہے بلکہ ان کے مردہ دل تلخ مرچیوں کے مانند جل کر دھواں_دھواں بھی ہوتے ہیں لیکن اس میں حیرانی کی بات نہیں ہے در حقیقت بیٹا باپ ہی کی روش کو اپناتا ہے اور یاد رکھیں!! یہ کوئی آج کا حال نہیں ہے حضورﷺ سے بغض و کینہ پروری اور ان کے ذکر پاک سے نفرت کرنے والے مخالفین اسلام خیر القرون سے آج تک ہر دور میں پائے گئے ہیں 1450 سال پہلے اگر ابو جہل و لہب و عتبہ و شیبہ کی منحوس شکل میں تھے تو آج اسلامی لبادہ میں مستور وہابیت اور دیوبندیت کے ایجینٹ کی صورت میں ہیں جنہیں ربیع النور میں حضور کا ذکر خیر اور ان کی ولادت باسعادت پر جشن چراغاں کرنا بدعت و ضلالت نظر آتی ہے، غیر مقلد تو سرے سے ہی منکر و مخالف ہے لیکن طواغیت اربعہ پہلے جشن میلاد کے قائل تھے مگر جب برطانوی سیاست کی دلالی اور سعودی ریال خوری میں مست ہوئے تو اپنے ہی مرشد شیخ مکہ علامہ امداد اللہ مہاجر مکی رضی اللہ عنہ سے بغاوت کر بیٹھے بالآخر کفر آلودہ عناصر ہوکر خارج بیعت و اسلام ہو گئے اس لئے عدل و فہم کی نظر سے اب ایسے لوگوں کو پہچاننے کی اشد ضرورت ہے،
مقصد دوم پر قدرے تبصرہ
جشن مولد النبیﷺ کے حسین اور پر بہار موقع پر اہلسنت و جماعت جگہ_جگہ محافل کا انعقاد کرتے ہیں اور اس میں حضورﷺ کی تعریف و توصیف ہوتی ہے معلم کائنات کی شان و عظمت کا تذکرہ ہوتا ہے آقا علیہ السلام کی پیدائش کے واقعات سنائے جاتے ہیں ممدوح رب کعبہ کی شان میں مدح سرائی کی جاتی ہے رسول اعظمﷺ کی بارگاہ کرم میں کثرت سے درود پاک اور صلاة و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کیا جاتا ہے صدقات و خیرات دئے جاتے ہیں وغیرہ، یہی سب تو ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے؟
لیکن ریال خور مولیوں کو اس پر بھی دلیل چاہیے ان کے نزدیک یہ سب ناجائز و بدعت ہے، خود ہر سال 23 ستمبر کو بدبخت بدعقیدہ نجدی وہابی شوق سے “جشن سعودی ڈے” منائیں تو ریال خور مولیوں کے منہ پر تالا لگ جاتا ہے پھر انہیں بدعت و ضلالت نظر نہیں آتی ہے_؟ خود ہر سال یوم آزادی پر وطن کی محبت میں ملکی ترنگا لگائیں تو کوئی حرج نہیں اور ہم جان کائناتﷺ کی محبت میں مولد النبی پر پرچم لگائیں، جشن چراغاں اور ذکر حبیب کریں تو الزام بدعت و معصیت؟ بفضلہ تعالیٰ ہمارے اکابر و اسلاف بد عقیدوں کی طرف سے کئے گئے تمام اعتراضات پر پہلے ہی دلائل و براہین کے انبار لگا چکے ہیں جو تاقیام قیامت کافی و وافی ہیں مزید کی حاجت ہی نہیں ہے لیکن جسکا وجود ہی نور ایمان سے محروم اور “فی قلوبہم مرض” کا مصداق ہو جسکا دل سیاہ اور آنکھیں بے بصیرت ہوں وہ بھلا حق آشنا کیسے ہو سکتا ہے
سیّدی اعلیٰ حضرت نے بہت پہلے فرما دیا
مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکرِ آ یاتِولادت کیجیے
کیجیے چرچا انہی کا صبح و شام
جانِ_کافر_پر_قیامت_کیجیے
ہرسال چشن آمد اور بد عقیدوں کو جواب
بعض بدعقیدہ مولوی مجبور محض ہوکر بڑے سوکھے منہ سے کہتے ہیں چلو ٹھیک ہے ایک بار منا لو کافی ہے یہ کیا کہ ہرسال جشن میلاد مناتے رہو،
ہم نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ بفضلہ تعالیٰ ہمارا ہر قول و عمل شرع و سننت کا پاسدار ہوتا ہے اب آپ خود اس بکواس کا جواب توضیح حدیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں اور دل کے نہاں خانوں میں محفوظ بھی کر لیں،
مشہور صحابئ رسول سیّدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیکہ رسول اعظمﷺ سے پیر شریف کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا :-
“…ذَاكَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیْهٖ وَ یَوْمٌ بُعِثْتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْهٖ…الخ،”
میں اس دن پیدا ہوا، اس دن مجھے مبعوث کیا گیا، یا اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا.
صحیح المسلم شریف کتاب الصیام
توضیح حدیث
رسول اعظمﷺ کا معمول تھا آپ پیر کا روزہ رکھتے تھے، جب صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی جانب سے اضافہ علم کی غرض سے سوال ہوا تو وجہ بیان فرمائی کہ در اصل اسی دن میری پیدائش ہوئی ہے اور اسی دن مجھ پر اللہ کی جانب سے نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس لئے معمول ہے، اور معمول کہتے ہی اسے ہیں جس کام کو پابندی سے بار_بار کیا جائے، آقا علیہ السلام کے معمول صوم پیر میں وجہ اور تعلیم امت یہی تھی کہ شکر خدا، تعظیم یوم اور تحدیث نعمت کا اظہار کیا جائے، اب بدعقیدہ محیض متخلل کے بقول تو نبی کریمﷺ بھی صرف ایک بار صوم پیر رکھ لیتے کافی تھا معمول بنانے کی کیا ضرورت تھی_؟ لیکن سوال کرنے والے نفوس قدسیہ صحابی تھے وہابی نہیں تھے آمنا و صدقنا کے پیکر تھے معترض نہیں تھے جو آج کے بدعقیدہ گستاخ وہابیوں کی طرح اعتراض کر بیٹھتے، جب اس طرح منہ کی کھا گئے تو کہا آپﷺ تو اس لئے پیر کا روزہ رکھتے تھے کہ اس دن نامۂ اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو ہم پوچھتے ہیں پھر روزے کا کیا مقصد تھا_؟ کیا شفیع المذنبینﷺ نیکیوں کے محتاج تھے معاذ اللہ_؟ بیشک نامۂ اعمال پیش کئے جاتے تھے مگر روزے رکھنے میں خالص نیت یہ ہوتی تھی کہ جب میرے رب کی بارگاہ میں اعمال پیش کئے جائیں تو میں محمدﷺ اس وقت بھی روزے کی حالت میں رہوں تاکہ میرا شمار سب سے عظیم باطنی عبادت میں ہو اور یہ آقا علیہ السلام کی نیت تھی سبب (وجہ) نہیں سبب وہی تھا جو فقیر نے اوپر ذکر کیا لیکن ریال خور مولوی کو تو “نیت” اور “سبب” میں فرق تک نہیں معلوم وہ کیا سمجھے گا مراد اور مقام رسولﷺ لہٰذا یہ اعتراض بھی کالعدم ہوا،
بحمدہ تعالیٰ ٹھیک اسی طرح صدیوں سے آج تک ہم اہلسنت و جماعت بھی ہر سال 12 ربیع الاول شریف میں مولد النبیﷺ کے موقع پر جشن چراغاں اور ذکر ولادت کرکے شکر خدا، تعظیم یوم اور تحديث نعمت کا اظہار کرتے ہیں اسی پروردگار عالم کی رضامندی کے لئے جس نے ہم ایمان والوں کو سب سے عظیم و کبیر نعمت کی شکل میں اپنا محبوب عطا فرمایا اور اس بابت حکماً ارشاد فرمایا
وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠
سورۂ والضحٰی آیت 11
اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو.
ہمارا چیلینج ہے
اہلسنت و جماعت جس کی شناخت اس زمانے میں مسلک اعلیٰ حضرت ہے اس کے بالمقابل جتنے بھی فرقے ہیں ان تمام فرقہائے باطلہ و ناریہ کی ذریت سے فقیر مطالبہ کرتا ہے کہ تم صرف ایک ایسی آیت قرآنیہ یا حدیث صحیح یا قول معتبر دکھا دو جس میں “جشن میلاد مصطفیٰﷺ” پر ممانعت وارد ہوئی ہو_؟
بحمدہ تعالیٰ ہم نے تو قرآن و حدیث کی رو سے “جشن میلاد مصطفیٰﷺ” کا جواز ثابت کر دیا لیکن ہمارا چیلینج ہے تم یا تمہاری نسلیں صبح قیامت تک “جشن میلاد مصطفیٰﷺ” کا عدم جواز اور اس کا ممنوع ہونا ثابت نہیں کر پائیں گی،
صحابہ کرام، اہل بیت اطہار، تابعین، تبع تابعین، ائمۂ مجتہدین، صوفیائے عظام اور اولیائے کاملین حتی کہ ہر زمانے میں میلاد مصطفیٰ علیه التحیة والثناء کا جشن ہوا، ہوتا ہے اور ان شاء اللہ الرحمن ہماری آنے والی نسلوں کے ذریعہ ہوتا رہے گا اور ہم سیّدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی زبانی کہتے رہیں گے :-
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولیٰ کی دھوم
مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
دم میں جبتک دم ہے ذکر انکا سناتے جائیں گے
وما التوفیق الا بالله
سیّد عبد الحمید قادری بخاری امجدی
(جاجمؤ شریف کانپور یوپی)