اس خاکدان گیتی پر تخلیق انسانی کا وجود محبوب کائنات ﷺ کی تعریف و توصیف کرنا اور بیش بہا نعمتوں کا مقدر ہونا اللہ تعالی کا احسان عظیم ہے ۔یقینا اللہ تعالی کا رسولان عظام کا سلسلۃ الذھب ارسال فرما کر لوگوں کی رہنمائی کا راستہ فراہم کرنا اور اپنے اور بندوں کے درمیان تعلق کا انسلاک فرمانا صدقۂ مصطفی ﷺہے۔ کچھ رسول و نبی خاص قوم یا امت کے لیے اپنی خصوصیات کے ساتھ جلوہ گر ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے وجہ تخلیق کائنات ﷺ کو خاتم النبیین کا سہرا پہنا کر جملہ انبیاء اور رسل میں تمام خصوصیات کے ساتھ مبعوث فرمایا نیز رحمت للعالمین کی صفت سے متصف فرمایا لہذا جب نبوت کا دروازہ بند ہو گیا تو رسول اکرم کی وراثت قوم کے علماء صلحاء و اولیاء کے ذمہ میں اگئی پھر ان مقدس ہستیوں کے ذریعہ اصلاحات کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ اولیاء اللہ کے گفتار و کردار سے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہونے لگی عالم اسلام کے علمی و روحانی تاریخ میں چند ایسی قدسی صفات ہستیاں سایہ فگن ہوئیں جن کے آثار و انوار زمان و مکان کی قید سے بالاتر ہو کر اج تک فیض رساں ہیں انہیں درخشندہ ہستیوں میں سے غوث اعظم شیخ عبدالقادر الجیلانی علیہ الرحمہ کی ذات ستودہ صفات ہے۔
یہ امر مسلم ہے کہ دنیا میں انسانی عظمت و شہرت کے ساتھ حقیقت کا توازن بہت کم قائم رہ سکا ہے عجیب بات یہ ہے کہ جو شخصیتیں عظمت و تقدس اور قبول شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہیں دنیا عموما تاریخ و حقیقت سے زیادہ افسانہ و تخیل کے انداز میں انہیں ڈھونڈنا چاہتی ہے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جاتی ہیں جن کا ساقط الاعتبار ہونے کا بداہت عقل ہی فیصلہ کر دیتی ہے۔ لہذا جو شخص جتنا مشہور ہوتا ہے اس کے خلاف اتنا ہی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کیونکہ اسی اصل کی نقل آتی ہے جس کی قدر و منزلت مسلم ہو۔
ایسے ہی کچھ واقعات پیران پیر شیخ عبد القادر الجیلانی رضی اللہ عنہ وارضاہ عنا کی ذات ولا قدر کو مجروح کرنے اور مذہب حق مسلک اہل سنت سے لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے ان کی جانب بھی منسوب کرنے سعی حاصل کی جسکا کا علماء اہلسنت والجماعت نے ہمیشہ دندان شکن جواب دیا اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کے قصر عالی کے استیصال کے لیے ہمہ وقت کاربند ہیں۔
حضور غوث پاک اور دھوبی کا جھوٹا واقعہبیان کیا جاتا ہے کہ حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کا ایک دھوبی تھا، جب اس کا انتقال ہوا تو قبر میں فرشتوں نے اس سے سوال کیے جیسا کہ سب سے کرتے ہیں- اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا کہ میں غوث پاک کا دھوبی ہوں اور اسے بخش دیا گیا
اس روایت کے متعلق فقیہ ملت، حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے-(فتاوی فقیہ ملت، کتاب الشتی، ج2، ص411)شارح بخاری،
حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حکایت نہ مَیں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے اور نہ کسی سے سنی ہے- احادیث میں تصریح ہے کہ اگر (مرنے والا) مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاے ہاے میں نہیں جانتا لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے مگر یہ بات حق ہے کہ حضرات اولیاے کرام، ائمۂ دین، بزرگان دین اپنے مریدین، معتقدین اور متعلقین کی قبروں میں نکیرین کے سوالات کے وقت تشریف لاتے ہیں اور جواب میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔(فتاوی شارح بخاری، کتاب العقائد، ج2، ص125)م
مفتی اعظم ہالینڈ، حضرت علامہ مفتی عبد الواجد قادری رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ غالباً یہی واقعہ یا اس کے مثل “تفریح الخاطر” میں ہے لیکن اس کے بیان
میں تحقیق ضروری ہے- یوں ہی مبہم طور پر بلا توضیح کے بیان کرنا خلاف احتیاط ہے جس سے بچنا ضروری ہے-(فتاوی یورپ، کتاب الصلوٰۃ، ص220)
حضرت مولانا محمد اجمل عطاری صاحب اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فقیہ ملت کا قول بیان کرتے ہیں کہ روایت مذکورہ بے اصل ہے- اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے…. الخ(امام الاولیاء، ص70)۲–
کیا حضور غوث پاک اور سرکار غریب نواز کی ملاقات ہوئی؟چند غیر معتبر کتابوں میں اس طرح کے واقعات درج ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیھم الرحمہ کی ملاقات ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کی ملاقات ثابت نہیں۔
اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:اس پر سارے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال 561ھ میں ہوا ہے، اس پر بھی قریب قریب اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت 537ھ میں ہوئی اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت غریب نواز نے 15 سال کی عمر سے علم ظاہری کے حصول کے لیے سفر کیا۔ ایک مدت تک آپ سمرقند و بخارا میں علم حاصل کرتے رہے۔ علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد کی تلاش میں نکلے پھر بیس سال تک مرشد کی خدمت میں حاضر رہے۔ بیس سال کے بعد خلافت سے سرفراز فرمائے گئے پھر مدینۂ منورہ میں حاضر ہوئے اور سرکار اعظم ﷺ نے ہندستان کی ولایت عطا فرمائی-اب
حساب لگائیں کہ 15 سال کی عمر تک حضرت غریب نواز اپنے وطن میں رہے اور بیس سال تک علم ظاہر طلب فرماتے رہے تو یہ (15+20) 35 سال ہو گئے- 537ھ میں ولادت ہوئی، 35 سال تک علم ظاہر کی طلب میں رہے537+35]عنی 572ھ میں آپ نے عراق کا رخ کیا جب کہ سرکار غوث اعظم کا وصال 561ھ میں ہو چکا تھا یعنی حضرت خواجہ اجمیری نے جب عراق کا رخ کیا اس سے11 سال پہلے حضور غوث پاک کا وصال ہو چکا تھا پھر ملاقات کیسے ہوئی؟(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص128 تا 131)
مذکورہ تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار غوث اعظم اور سرکار غریب نواز اجمیری علیہم الرحمہ کی ملاقات ثابت نہیں۔
تفریح الخاطر میں ایک جھوٹی روایت
مشہور کتاب تفریح الخاطر میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت سے یہ روایت داخل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک خادم فوت ہو گیا۔ اس کی بیوی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آہ وزاری کرنے لگی۔ اس نے آپ سے اپنے شوہر کو زندہ کرنے کی التجا کی۔ آپ نے علم باطن سے دیکھا کہ ملک الموت اس دن قبض کی گئی تمام روحوں کو لے کر آسمان پر جا رہے ہیں۔آپ نے اسے روکا اور کہا کہ میرے خادم کی روح واپس کر دو تو ملک الموت نے یہ کَہ کر منع کر دیا کہ میں نے یہ روحیں اللہ تعالی کے حکم سے قبض کی ہیں۔ جب ملک الموت نے روح واپس نہیں کی تو آپ نے اس سے روحوں کی ٹوکری (جس میں اس دن قبض کی گئی تمام روحیں تھیں، وہ) چھین لی! اس سے ہوا یہ کہ جتنی روحیں تھیں وہ سب اپنے اپنے جسموں میں واپس چلی گئیں-ملک الموت نے اللہ تعالی کے حضور عرض کی: مولا تُو تو جانتا ہے جو تکرار آج میرے اور عبد القادر کے درمیان ہوئی، اس نے تمام ارواح چھین لیں-اس پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ اے ملک الموت بے شک عبد القادر میرا محبوب ہے۔ تو نے اس کے خادم کی روح کو واپس کیوں نہیں کیا؟ اگر ایک روح کو واپس کر دیتے تو اتنی روحیں اپنے ہاتھوں سے دے کر پریشان نہ ہوتے-(تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبد القادر، المنقبۃ الثامنۃ، ص68)
اسی روایت کے بارے میں امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا، بس فرق اتناہے کہ یہاں خادم کی بیوی کا ذکر ہے اور سوال میں خادم کے بیٹے کا- سوال میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب ملک الموت نے روح واپس کرنے سے انکار کیا تو حضور غوث پاک نے انھیں ایک تھپڑ مارا جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر نکل گئی!اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ یہ روایت ابلیس کی گھڑی ہوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سننا دونوں حرام! احمق، جاہل، بے ادب یہ سمجھتا ہے کہ (اس روایت کو بیان کر کے) حضرت غوث اعظم کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کر رہا ہے-[فتاوی رضویہ، ج29، ص630 ]
۴: بارہ سال پہلے ڈوبی ہوئی باراتچند کتابوں میں حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک کرامت کا ذکر ملتا ہے کہ آپ نے بارہ سال پہلے ڈوبی ہوئی بارات کو واپس نکال دیا- یہ روایت عوام و خواص میں بہت مشہور ہے لہذا مکمل واقعہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
اس روایت پر گفتگو کرتے ہوئے خلیفۂ اعلی حضرت، حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامات درجۂ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں جیسا کہ امام یافعی نے لکھا ہے کہ آپ کی کرامات متواتر یا تواتر کے قریب ہیں اور علما کے اتفاق سے یہ امر معلوم ہے کہ آپ کی مانند کرامات کا ظہور آپ کے بغیر آفاق کے مشائخ میں سے کسی سے نہیں ہو مگر یہ بارات والی روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اس درجے کے نہ تھے- اکثر میلاد خواں (مقررین) واقف نہ ہونے کی وجہ سے مہمل روایات اولیا و انبیا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ یہاں غلط ہے تو بھی ان کی تعریف پوری ہم نے کر دی۔ یہ ثواب کی توقع بھی کرتے ہیں، خیر خدا ان پر رحم کرے۔ہزاروں کرامات اولیاءاللہ سے اور اصحاب رسول علیہ السلام سے ظاہر نہ ہوئیں تو کیا جھوٹی روایت کَہ دینے سے ان کا رتبہ بڑھ جائے گا؟
ہرگز نہیں؛ اصحاب رسول تمام غوث و قطب و اولیا سے افضل ہیں اور تحقیق سے ثابت ہے کہ اولیاءاللہ کی کرامات اکثر اصحاب سے زیادہ ہیں۔ بہر حال یہ روایت کسی معتبر نے نہیں لکھی ہے اور امکان عقلی سے کوئی امر یقینی نہیں ہو سکتی-ہاں جو شخص منکر کرامات غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہے وہ خطاکار ہو گیا کیوں کہ تواتر سے ثابت ہے-[ملخصاً: فتاوی دیداریہ، ص45 ]
امام اہل سنت، اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے جب اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگرچہ یہ روایت نظر سے کسی کتاب میں نہ گزری مگر زبان پر مشہور ہے اور اس میں کوئی امر خلاف شرع نہیں لہذا اس کا انکار نہ کیا جائے-[فتاوی رضویہ، ج29، ص630معلوم ہوا کہ اس روایت کا کوئی معتبر و مستند ماخذ موجود نہیں اور ایک پہلو یہ ہے کہ بہ قول امام اہل سنت اس روایت کا انکار بھی نہ کیا جائے لیکن پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ ایسی روایات کو بیان کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے کے لیے دیگر صحیح روایات کو شامل بیان کیا جائے۔
۵: جا تجھے سات بیٹے ہوں گےحضرت سیدنا غوث اعظم کی کرامت بتا کر یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: یا حضرت مجھے بیٹا دو! آپ نے فرمایا کہ لوح محفظ میں تیری قسمت میں بیٹا نہیں ہے- عورت نے کہا: اگر لوح محفظ میں ہوتا تو آپ کے پاس کیوں آتی؟آپ نے اللہ تعالی سے عرض کیا کہ یا خدا تو اس عورت کو ایک بیٹا دے دے، جواب آیا کہ لوح محفظ میں نہیں- عرض کیا کہ دو بیٹے دے، حکم ہوا کہ جب ایک نہیں تو دو کہاں سے دوں؟ عرض کیا کہ تین بیٹے دے، ارشاد ہوا کہ ایک بھی نہیں تو تین کہاں سے دوں، اس کی تقدیر میں بالکل نہیں!جب وہ عورت ناامید ہو گئی تو غوث اعظم نے غصے میں آکر اپنے دروازے کی خاک سے تعویذ بنا کر دے دی اور کہا کہ جا! تیرے سات لڑکے ہوں گے- وہ عورت خوش ہو کر چلی گئی اور اس کے سات لڑکے ہوئے۔اس روایت کے متعلق حضرت علامہ مفتی شاہ محمد اجمل قادری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی معتبر و مستند کتاب میں نظر سے نہ گزرا اور بہ ظاہر بے اصل اور لغو معلوم ہوتا ہے، ان سے احتراز کرنا چاہیے اور بہجۃ الاسرارسے حضرت کی کرامات بیان کرنی چاہییں۔ [فتاوی اجملیہ، کتاب الخطر والاباحۃ، ج4، ص9]
مرتب: محمد آصف صدیقی احسنی مصباحی