ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی اور اس کی شرعی حیثیت

تمہید : انسانی زندگی کا ہر دور نئے نئے تجربات، اور ایجادات سے معمو رہا ہے، لیکن دور حاضر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں ٹیکنالوجی نے ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کر رکھا ہے، اس کی ترقی نے حیاتِ انسانی کے ہر شعبے کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔
آج زندگی کے جس شعبے پر نظر ڈالو وہاں سائنسی ترقی کی جھلک نمایا ہے ،خصوصا ًمعاشی اور اقتصادی نظام میں ایسے بنیادی تغیرات سامنے آئے ہیں جنہوں نے انسان کے خرید و فروخت کےطریقوں ،تجارت اور سرمایہ کاری کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی تاریخ : مالیاتی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو یہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کرنسی کی شکلیں بہت عجیب اور حیرت انگیز تبدیلیوں سے گزری ہیں۔ ابتدائی دور میں خرید و فروخت کا تعلق تبادلہ اشیاBarter system تک محدود تھا یعنی ایک چیز دے کر کے دوسری چیز لے لی جاتی تھی، اس کے بعد سونا چاندی جیسی دھاتیں زر کی حیثیت سے استعمال میں آئیں اور انہی دھاتوں سے ڈھلے ہوئے سکے لین دین کا ذریعہ بنے ۔پھر زمانے نے کروٹ لی اور ایک نیا مرحلہ آیا کہ لوگ اپنےسونے چاندی کے سکے صرّافوں کے پاس امانت رکھتے اور ان کے بدلے لکھی ہوئی رسیدیں لے لیتے تھے، اور وہ رسیدیں بوقت ضرورت نقد کے طور پر استعمال ہوتیں، انہی رسیدوں نے اگے چل کر کاغذ کے نوٹ کی شکل اختیار کر لی لیکن دور حاضر میں دنیا ڈیجیٹ ائزیشن کی طرف بڑھی تو لوگوں کو کاغذی نوٹ اور سکے بھی بوجھ لگنے لگے، جس کے نتیجے میں ایک نئی جہت سامنے آئی جو ما قبل کی سبھی کرنسیوں سے بالکلیۃ مختلف ہے اسی کرنسی کو کرپٹو کرنسی کہا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کیا ہے ؟
دور حاضر کی کرنسی مثلاً: روپیہ، ڈالر، ریال،اور پاؤنڈ وغیرہ کی ڈیجیٹل شکلیں موجود ہیں جسے ہم آن لائن ایپلیکیشن کے ذریعہ ٹرانسفر کرتے ہیں ،لیکن ان کی خارجی شکلیں بھی موجود ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو نوٹوں کی شکل میں بھی نکلوا سکتے ہیں ،لیکن کرپٹو کرنسی مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنسی ہے خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے ،یہ بس انٹرنیٹ پر موجود ہوتی ہے ،نہ اس کو خارج میں نکلوا سکتے ہیں، نہ ہاتھ میں لے سکتے ہیں،اور نہ جیب میں رکھ سکتے ہیں، یہ بس نیٹ کی دنیا تک ہے، اور اکاؤنٹ ہولڈر کے اکاؤنٹ میں گنتی اور نمبرات کی شکل میں موجود رہتی ہے۔
اس کرنسی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ملک یا کسی بینک کے ماتحت نہیں ہے،اور نہ ہی کوئی ادارہ یا تنظیم اس پر قابض ہے ۔کرپٹو کرنسی کی ابتدا سن 2008 ءمیں ہوئی، اس کا تصور ستوسی ناکا موتو (Satoshinakamato )نے دلایا جس نے ایک مضمون شائع کیا اور اس میںکرپٹو کرنسی کی وضاحت کی لیکن اب تک یہ نہ پتہ چل سکا کہ یہ کوئی شخص تھا یا کوئی ادارہ۔کرپٹو کرنسی کیسے بنتی ہے:کرپٹو کرنسی کی کئی قسمیں ہیں جن میں سب سے پہلی اور مشہور کرنسی بٹ کوائن Bitcoin ہے یا یوں سمجھیں کہ کرپٹو کرنسی ایک فیملی ہے اور بٹ کوائن اس فیملی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا رکن ہے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ کرنسی کسی حکومت، ادارہ یا کسی بھی تنظیم کے ماتحت نہیں ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ پھر یہ کرنسی کیسے بنتی ہے ؟کون بناتا ہے اور اس کا استعمال کہاں ہوتا ہے؟
یہ کرنسی کمپیوٹر کے ذریعے بنائی جاتی ہے اس کے بنانے کے عمل کو مائننگ(Mining )کہتے ہیں جس کے معنی ہیں: کان کھودنا ۔مطلب یہ ہے کہ جس طرح کان کھود کر قیمتی چیزیں نکالی جاتی ہیں اسی طرح طاقتور کمپیوٹر کے مسلسل عمل کے ذریعے کرپٹو کرنسی وجود میں اتی ہے ۔مائننگ میں ہوتا یہ ہے کہ ریاضی کے بے حد مشکل سوالات کمپیوٹر کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں لیکن کمپیوٹر سے سوال حل کرنے والا کوئی انسان نہیں بلکہ کمپیوٹر میں کچھ سافٹ ویئر انسٹال (Software install)کیے جاتے ہیں جن سے خود کمپیوٹر ان مشکل سوالوں کو حل کرتا ہے اور ان کا صحیح جواب دینے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ کام بہت سے کمپیوٹر مل کر کے ایک ساتھ کرتے ہیں جو کمپیوٹر سب سے پہلے سوال حل کرتا ہے اسے انعام کے طور پر ایک بٹ کوائن ملتا ہے ،جتنے زیادہ کمپیوٹر مقابلہ کرتے ہیں سوال اتنا ہی مشکل کر دیا جاتا ہے۔ مائننگ کے اس عمل میں بہت پاور فل کمپیوٹر دن رات چلتے ہیں۔اگر اس کی قیمت کے بارے میں بات کی جائے تو اس کرنسی کی قیمت میں بہت اتار چڑھاؤ ہوتا ہے آج اس وقت ایک بٹ کوائن کی قیمت ایک کروڑ، چوہتر ہزار، نو سو پچیس روپے (10,074925 )ہے۔یہ کرنسی کسی ادارے یا حکومت سے جڑی نہیں ہے تو اس کی قیمت بھی وہ مقرر نہیں کر سکتے لہذا اس کی قیمت لوگوں کے تعامل، مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ(Demand)کی بنیاد پر مقرر ہوتی ہے۔ اس کرنسی کی اتنی زیادہ ویلو Valueہے اسی لیے ماہرین اس کے حصول میں بہت محنت، اور انتھک کوشش کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2020-2021ءمیں دنیا بھر میں 173 ٹیرا واٹ (۱) بجلی کرپٹو کرنسی بنانے میں استعمال ہوئی ہے۔

[انڈپینڈنٹ اردو31 مئی 2025 ]اوپر کی مذکورہ گفتگو میں کرپٹو کرنسی اور بٹ کوائن کا مختصر تعارف ذکر کیا گیا ، اب اس کے بارے میں شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے چونکہ وقت اور زمانے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے مسائل بھی سامنے آتے ہیں وہیںدوسری طرف وارثین انبیا ،ماہرین علم و فن،اور کبار علماےکرام کی جماعت ان پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے کمربستہ رہتی ہے جب بھی نیا مسئلہ آتا ہے علماےکرام اس کا شرعی حل تلاش کرتے ہیں اور لوگوں کو درست فیصلہ سنا کر ان کے دین و دنیا اور جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ ماقبل کی گفتگو سے آپ نے جان لیا کہ بٹ کوائن Bitcoin اور ون کوائن Onecoinوغیرہ جو بھی کرپٹو کرنسی کی قسمیں ہیں یہ محض ایک فرضی کرنسی ہے ،خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے، نہ اس پر شرعی قبضہ ہوتا ہے سوائے اس کےکہ اکاؤنٹ میں چند عدد ا ٓجاتے ہیں ،یہ کرنسی کسی حکومت یا ادارے کے تحت بھی نہیں ہے لہذا اگر کبھی دھوکہ یا فراڈ ہو جائے تو کوئی اس کی ذمہ داری لینے والا نہیں ہےاب شرعی رو سے یہ سوال سامنے آتے ہیں کیا کرپٹو کرنسی ،بٹ کوائن اور ون کوائن مال یا ثمن بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ؟کیا اس کرنسی کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے؟ کیا اس میں کسی طرح سے حصہ لینا یا سرمایہ کاری کرنا جائز ہے؟

شہر بریلی شریف میں سن2018 ءمیں سالانہ فقہی سیمینار شرعی کونسل آف انڈیا ہوا ،جس میں اس مسئلے کو زیر بحث لایا گیا۔ اور اس میں جو فیصلہ ہوا اس کا خلاصہ یہاں ذکر کیا جاتا ہے کرپٹو کرنسی مادی نہیں ہے نہ اس کا خارج میں کوئی وجود ہے لہذا یہ کرنسی مال بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی چونکہ مال وہ ہے جو اعیان کے قبیل سے ہو، رد المحتار میں علامہ       ابن عابدین شامی مال کی تعریف یوں ذکر کرتے ہیں
الْمُرَادُ بِالْمَالِ مَا يَمِيلُ إلَيْهِ الطَّبْعُ وَيُمْكِنُ ادِّخَارُهُ لِوَقْتِ الْحَاجَةِ [الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین، ج۴،ص۵۰۱،کتاب البیوع]
ترجمہ: مال سے مراد وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور جسے ضرورت کے وقت کے لیے ذخیرہ کیا جا سکے۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں :لِأَنَّ الْمَالَ عَيْنٌ يُمْكِنُ إحْرَازُهَا وَإِمْسَاكُهَا (الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین، ج۵،ص۵۲،مطلب فی بیع المغیب فی الأرض)
ترجمہ: کیونکہ مال وہ عین شئ ہے جسے محفوظ کیا جا سکے اور اپنے پاس رکھا جا سکے۔ لہذا جب کرنسی مال ہی نہیں ہے تو ثمنِ اصطلاحی بھی نہیں بن سکتی ہے۔اس کرنسی کی خرید و فروخت کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ کرپٹو کرنسی جب مال ہی نہیں ہے تو اس کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے کیونکہ خرید و فروخت کے لیے مبیع کا مال ہونا ضروری ہے ۔ ہدایہ اور بحر الرائق میں بیع کی تعریف یوں ذکر کی گئی : البیع وھو مبادلة المال بالمال بالتراضي (الھدایۃ، ج۴،ص۳۲۰،کتاب الشفعۃ،باب ما تجب فیہ الشفعۃ وما لا تجب)      یعنی:بیع کہتے ہیں کہ مال کے بدلے مال کی باہمی رضامندی سے لین دین کیا جائے۔
(ملخص 15 واں،سالانہ فقہی سیمینار شرعی کونسل آف انڈیا ، بریلی شریف؛ منعقدہ :6،7 ،اپریل ,2018 )
الحاصل: بٹ کوائن، ون کوائن یا اس کے علاوہ جو بھی کرپٹو کرنسی کی اقسام ہیں ان کی خرید و فروخت کرنا یا ان میں سرمایہ کاری کرنا ناجائز ہے چونکہ اس کرنسی کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے اس لیے یہ مال یا ثمن بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے اور خرید و فروخت کے لیے مبیع کا مال ہونا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ اس کے ناجائز ہونے کے اسباب یہ بھی ہیں جن کو ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے: ۱۔ جاری کرنے والی جہت کا مجہول ہونا ۔
۲ دھوکہ اور غرر کا پایا جانا،اور حدیث شریف میں دھوکہ اور غرر والی بیع سے منع فرمایا ہے، جامع ترمذی کی حدیث پاک ہے : نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الغرر. (جامع الترمذی،أبواب البیوع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،رقم الحدیث: ۱۲۳۰)۳۔ اس کرنسی کی کوئی ذمہ دار ی یا گارنٹی لینے والا نہیں ہے، حکومتی سطح پر نگرانی یا ذمہ داری بھی نہیں ہے۔۴۔ اس کی قیمت میں بے حد اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔
اب ایک شبہ یہ ہوتا ہے کہ موبائل فون میں ایپ گوگل پہ(Google pay) فون پہ Phone pay)) یا اس کے علاوہ جو اور طریقوں سے آن لائن پیسے یا دوسری کرنسی ٹرانسفر کرتے ہیں یہ بھی تو کرپٹو کرنسی کے مانند ہے جس طرح اس سے آن لائن خرید و فروخت کرتے ہیں اسی طرح کرپٹو کرنسی کی بھی،پھر ایک جائز اور دوسرا ناجائز کیوں؟
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی اور سینٹرل بینک کی ڈیجیٹل کرنسی میں بہت فرق ہے، سب سے بنیادی فرق یہ ہے کہ سینٹرل بینک کی ڈیجیٹل کرنسی جسے ہم گوگل پہ، فون پہ وغیرہ سے ٹرانسفر کر کے خرید و فروخت کرتے ہیں یہ درحقیقت کیش اور خارجی پیسوں کی ہی ایک شکل ہے اس لیے کہ جب چاہیں ہم اس کو خارج میں نکلوا سکتے ہیں اور قبضہ کر سکتے ہیں جبکہ کرپٹو کرنسی محض ایک فرضی کرنسی ہے اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے۔
تمت بالخیر، والحمد للہ رب العالمین                                             

                                                                                                                                                                از  : مفتی نظام احسنی مصباحی ازہری

_________________________________

(۱) بجلی کی مقدار کو واٹ میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی سب سے چھوٹی اکائی واٹ کہلاتی ہے
اس کے بعد کلو واٹ( KW) =1000 واٹ ۔پھر میگا واٹ (MW) = ,000, 1000 واٹ ۔ پھر گیگا واٹ (GW) = 000,000,1000 واٹ۔ اس کے بعد ٹیرا واٹ (TW) = 000,000,000,1000  واٹ کا ہوتا ہے ۔