مرتب : سیّد عبد الحمید قادری بخاری امجدی
(جاجمؤ شریف کانپور)
ماہ رمضان المبارک میں خصوصاً مدارس اسلامیہ کے ماحول میں یا علما کی گفتگو میں ایک اصطلاح اکثر سننے میں آتی ہے “حیلۂ شرعی” بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور مدارس کے ساتھ اس کا اتنا گہرا اور لطیف تعلق کیوں بیان کیا جاتا ہے؟ سب سے پہلے یہ جان لیجیے کہ حیلۂ شرعی کوئی نیا تصور نہیں بلکہ صدیوں سے فقہ اسلامی میں معروف و مستعمل ہے لغت میں “حیلہ” کے معنیٰ تدبیر، چال، طریقہ یا ایسی حکمت عملی کے ہیں جس کے ذریعہ کسی مشکل کا حل نکالا جائے اور “شرعی” کا مطلب ہے شریعت کے مطابق اس طرح “حیلۂ شرعی” سے مراد یہ ہے کہ شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی جائز تدبیر کے ذریعہ حرام یا معصیت سے بچتے ہوئے حلال مقصد حاصل کیا جائے بوقت ضرورت ایسی تدبیر اختیار کرنا شریعت میں جائز ہے کیونکہ اس کی مثالیں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہیں.
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ°
“تو اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس کو مار دے اور اپنی قسم نہ توڑ”
(سورۂ ص، آیت 44)
مفسرین نے بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کسی موقع پر اپنی اہلیہ کے متعلق ایک قسم کھالی تھی بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرمائی تو آپ کو اس قسم کو پورا کرنے کی فکر ہوئی مگر آپ اپنی وفادار اور خدمت گزار اہلیہ کو تکلیف بھی نہیں پہنچانا چاہتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ ارشاد فرمایا کہ باریک تنکوں کا ایک گچھا لے کر ہلکے سے ضرب لگا دیں اس طرح قسم بھی پوری ہو جائے گی اور کسی کو تکلیف بھی نہیں پہنچے گی یہ ایک شرعی تدبیر کی مثال ہے
اسی طرح ایک موقع پر حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہما) کے درمیان کسی بات پر دوری ہو گئی اسی حالت ناراضگی میں حضرت سارہ نے قسم کھالی کہ اگر انہیں اختیار ملا تو وہ حضرت ہاجرہ کے بدن کا کوئی عضو ضرور کاٹیں گی بعد میں جب معاملہ ٹھنڈا ہوا تو اس قسم کو پورا کرنے کی صورت مشکل محسوس ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر وحی نازل فرمائی کہ دونوں کے درمیان صلح کرا دیجیے چنانچہ آپ نے مصالحت کرا دی لیکن حضرت سارہ نے عرض کیا کہ میں نے جو قسم کھائی تھی اس کا کیا حل ہوگا_؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ ہدایت فرمائی کہ حضرت ہاجرہ کے کان چھید دیے جائیں، ایسا ہی کیا گیا اس طرح حضرت سارہ کی قسم بھی پوری ہو گئی اور حضرت ہاجرہ کو کسی اذیت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑا، مروی ہیکہ عورتوں کے کان چھیدنے کی ابتدا اسی واقعہ سے ہوئی اور اسی روایت کو اس عمل کے جواز کی ایک دلیل کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے اور بعض نے نزدیک اسی موقع پر ناک چھیدنے کی روایت بھی معتبر ہے.*
جاء الحق حصہ اول
اسی طرح حدیث مبارک میں بھی ایک اصولی مثال ملتی ہے کہ سیّدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم(ﷺ💚) گھر میں تشریف لائے تو چولہے پر گوشت کی ہانڈی پک رہی تھی گھر والوں نے دوسرا شوربہ پیش کیا تو حضور(ﷺ💚) نے فرمایا کیا میں ہنڈیا کو جوش مارتا نہیں دیکھ رہا ہوں تو عرض کیا گیا کیوں نہیں حضور! مگر یہ گوشت کنیز بریرہ کو صدقے میں ملا تھا اور آپ صدقہ تناول نہیں فرماتے ہیں اس لئے پیش نہیں کیا گیا تو اس پر حضور(ﷺ💚) نے ارشاد فرمایا
وہ بریرہ کے لئے صدقہ تھا لیکن اگر وہ ہمیں دے دے تو وہ ہمارے لئے ہدیہ ہو جائے گا
صحیح البخاری، حدیث 5279
علمائے کرام نے اس حدیث سے یہ اصول بیان کیا کہ ملکیت تبدیل ہونے سے بعض اوقات مال کا حکم بھی تبدیل ہو جاتا ہے جب بریرہ کو صدقہ ملا تو وہ اس کی مالک بن گئیں اب اگر وہ اپنی طرف سے کسی کو بطور ہدیہ دے دیں تو اس کا لینا اور استعمال میں لانا جائز ہے اسی اصول کی بنیاد پر فقہائے کرام نے ایک مسئلہ واضح فرمایا کہ اگر زکوٰۃ کسی مستحق شخص کو دے کر اس کا مالک بنا دیا جائے اور وہ اپنی خوشی سے اس رقم کو کسی جائز دینی مصرف مثلاً مدرسہ میں دے دے تو اس کا استعمال جائز ہو جاتا ہے اسی تدبیر کو عرف میں “حیلۂ شرعی” کہا جاتا ہے
مدارس میں زکوٰۃ کیوں دی جاتی ہے؟
زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ کے اصل مستحقین قرآن کریم کی سورۂ توبہ (آیت 60) میں بیان کردہ فقرا و مساکین ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی مدارس اسلام کے علمی اور دینی نظام کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہیں ماضی میں اسلامی حکومتیں مدارس اور خانقاہوں کے لئے باقاعدہ اوقاف اور مالی انتظامات قائم کرتی تھیں ان کے ذریعہ طلبہ، اساتذہ اور اداروں کے اخراجات باقاعدگی سے پورے ہوتے تھے مگر آج وہ وسیع وسائل میسر نہیں نہ وہ مالی نظام باقی رہا جبکہ دین کی تعلیم اور اس کے تحفظ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور یہی مدارس اسلام کی بقا و تحفظ کے مضبوط قلعے ہیں اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اس اصول کی روشنی میں اس تدبیر کی اجازت دی ہے کہ زکوٰۃ مستحقین کو دے کر ان کی ملکیت میں دے دی جائے اور وہ اپنی مرضی سے اسے مدرسہ کے مصرف میں پیش کر دیں
سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں
“اگر روپیہ بنیتِ زکوٰۃ کسی مستحق کو دے کر اس کا مالک کر دیا جائے اور وہ اپنی طرف سے مدرسہ کو دے دے تو اسے مدرسین و ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مصارف میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔”
(فتاویٰ رضویہ، 4/468)
(فتاویٰ فقیہ ملت، 1/305)
آج مدارس اسلامیہ کی مالی حالت اکثر جگہ کمزور ہے حالانکہ یہی ادارے دین اسلام کی تعلیم اور اشاعت کا عظیم فریضہ انجام دے رہے ہیں اس لئے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صاحب نصاب بنایا ہے تو فراخ دلی، کشادہ ظرفی اور اخلاص کے ساتھ زکوٰۃ و فطرہ ادا کریں اور یقین رکھئے کہ آپ کی یہ معاونت نہ صرف ایک دینی ادارے کی مدد ہے بلکہ علم دین کی بقا اور آنے والی نسلوں کی دینی رہنمائی میں حصہ لینا بھی ہے انہی مدارس کے طلبہ آگے چل کر علما، خطبا، مدرسین، ائمۂ مساجد اور دینی رہنما بن کر دین اسلام کی خدمت انجام دیتے ہیں
اللہ کریم ہم سب کو اخلاص کے ساتھ مدارس کا تعاون کرنے اور علمائے کرام کی قدر اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق کثیر عطا فرمائے