آئی پی ایل کی زہر آلود فضا اور امت مسلمہ کا خود کو ہلاکت میں ڈالنا۔

مرتب : محمد آصف صديقي احسني

فاضل- الجامعة الاشرفيه، مبارک پور       

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے بہرور فرمایا ہے اور سب سے بڑی نعمت انسانی وجود ہے جب اللہ رب العالمین نے اس وجود کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو ملائکہ نے اپنے شبہات کو بارگاہ ایزدی میں پیش کیا جس کا ذکر اللہ عزوجل نے اپنے کلام مقدس قران کریم میں بالتفصیل ذکر فرمایا تو اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا “اني اعلم ما لا تعلمون” اس جواب ساکت نے ان کے پردہ ذہن میں ابھرنے والے تمام سوالات کو محو کر دیا نیز الله جل مجدہ الکریم کا فرمان عالیشان ہے “خلق الانسان ضعیفا” یعنی انسان کو کمزور پیدا کیا گیا اللہ فرماتا ہے ہمیں اس بات کا علم ہے کہ ذات انسان کمزور ہے لیکن جب اس کا باطن عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے معمور ہوگا تو اس کو ایسی قوت میسر ائے گی کہ وہ شیاطین کے اندرونی اور بیرونی تمام دجلات و تلبیسات پر بالکلیہ تحکم حاصل کر لے گا

سُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ نوجوان کسی بھی قوم و ملت کا اثاثہ اور مستقبل کا معمار ہوا کرتے ہیں قوم و ملت کے عروج و ارتقا اور زبوحالی اور پستی میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ سب سے پہلے انقلاب کا تصور اسی کے ذہن و دماغ میں اتا ہے یہی وجہ ہے کہ دانشوران قوم ملت کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے اور ارباب حل و عقد اس کی روشن اور درخشندہ مستقبل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ شباب کی مست و آوارگی میں اپنی بلند خیالی اور جفا کشی کو رائیگاں نہ کر دے کیونکہ اس کی تعلیمی اور تربیتی مزاج کا اثر قوم کے افراد پر پڑتا ہے برسوں کی محنت اور ذمہ داران قوم و ملت کی مشقت کے بعد ایسا جوان تیار ہوتا ہے جو زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی آفاقی سوچ، بلند کردار، عملی تگ و دو اور تعلیمی ہنرمندیوں کے متوازن استعمال سے تاریخی کارنامے انجام دیتا ہے اور وہ مذہبی ثقافت کا حوالہ بن جاتا ہے اس پرفتن دور میں جہاں امت مسلمہ میں تعلیمی کا فقدان اپنے عروج پر ہے جس کا واحد سبب جو نظر اتا ہے وہ میڈیا ہے خواہ وہ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا اور کردار کشی جو قوم مسلم میں عام ہو چکی ہے اس میں بھی میڈیا کا اہم کردار نظر اتا ہے کیونکہ وہ اس طرح معاملات کو پیش کرتے ہیں کہ اختلاف رائے اور اختلاف نظریات کو عقائدیات کا مختلف ہونا شمار کیا جاتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کا محب ہے تو وہ دوسرے کی گستاخی کو اپنا منصبی فریضہ سمجھتا ہےتعلیمی فقدان اور کتابوں سے بے رغبتی کے سبب جب وہ اکتاہٹ کا احساس کرتا ہے تو یا تو وہ انسٹاگرام پر اس کرولنگ (Scrolling) شروع کر دیتے ہیں یا موویز وغیرہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تاکہ وہ اپنا وقت صرف کر سکے اور یہ دونوں چیزیں نوجوانوں کے لیے مضر ہیں اسی لیے کہ اس میں اتنا وقت صرف ہوتا ہے کہ انسان اس سے بے خبر ہوتا ہے وہ اس کا استعمال اپنے ذہن و دماغ کو تر و تازہ کرنے کے لیے کرتا ہے لیکن وقت کا اصراف اس قدر ہوتا ہے کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنا وقت ضائع ہو گیا لیکن اج کا دور ویب سیریز کا دور ہے اور کچھ مہینوں کے لیے ائی پی ایل (I.P.L) کی طرف رجحان زیادہ ہے اس کا انعقاد 2008 عیسوی میں بی سی سی ائی (B.C.C.I) کے تحت عمل میں ایا دن ب دن اس کی طرف لوگوں کا میلان بڑھتا گیا یہاں تک کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں خصوصا نوجوانوں میں اور طلبہ اسلامیہ میں اس قدر سرایت کر گیا ہے گویا کہ جز لاینفک ہو گیا  
اس دور انحطاط میں جہاں قوم مسلم کو عالمی سطح (International) پر کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ہم اپنی قوم کے نوجوان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ جس کے کاندھوں پر قوم کا بوجھ ہے جس کی ذمہ داری قوم کے عروج و بلندی ہے تو کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں نظر اتا کہ جس کو کمر بستگی کے ساتھ قوم کا مستقبل سنوارنا تھا وہ کشا کشا شیاطین کے دجلات وہ تلبیثات کا شکار ہو رہا ہے اور اس کو اس بات کا شعور تک نہیں کہ وہ کس راہ کا مسافر ہے یہاں تک کہ دیکھا گیا ہے جو طلباء محنت کشی اور جاں فشانی سے راہ علم کے شہ سوار تھے وہ بھی اس بیماری کے زد میں ہیں کیونکہ ان کی نشست و برخاست جس کے ساتھ ہے وہ اس وبا کا مریض ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اس کی طرف مائل نہ بھی ہو تو اس کا ساتھی اس کو اس وبا کی جانب راغب کرتا ہے بایں طور کے اس کا اس قدر تذکرہ کیا جاتا ہے کہ اس کے حصول کی تڑپ اس کے دل میں بھی جاگزی ہو جاتی ہے اور وہ لمحہ بلمحہ اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس میں اس قدر منہمک ہو جاتا ہے کہ اس کو ہمہ وقت اسی کا تصور رہتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جس مقصد کے ساتھ وہ راہ علم کا مسافر ہوا تھا وہ اس منزل سے کشاں کشاں دور ہوتا چلا جاتا ہے وہ اس قدر اپنی جوانی میں مست رہتا ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں کہ ائی پی ایل(I.P.L) کی مضر ہوا اپنے ساتھ بے شمار مہلک اور موذی اثرات لے کر نمودار ہوئی ہے وہ ڈریم 11(Dream 11) کی وبا ہو یا کوئی اور گیم آپ کو تاریخ میں ہمیشہ کچھ ایسے ناہنجار لوگ اپ کو مل جائیں گے جو نوجوانوں کے استقبال کو اقبال کی راہ کبھی نہیں عبور کرنے دیں گے یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو انسانوں کی کمزوری کو دور کرنے کی بجائے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو اس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ جس چیز کی انسان کو حاجت ہوتی ہے جس کی طرف اس کا میلان ہوتا ہے اس کو اسی کو لقمہ جاں بناتے ہیں اج سب سے قیمتی شے جو معروف ہے وہ پیسہ کمانا ہے بلا تمیز حرام و حلال اسی لیے انہوں نے ایسے ایبس (Apps) بنائے جن کے ذریعے انسان پیسے کی لالچ میں اور خوشحال زندگی کا جو تصور کونسپٹ (Concept) بنایا گیا ہے اس کے حصول کی خاطر اپنے روشن استقبال کی پرواہ کئے بغیر لا شعوری میں ان کے دام فریب میں ا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمہ وقت اسی کا تصور کرتا جس کا ثمرہ یہ کہ اس کا ذہن منجمد ہو جاتا ہے اور جو فہم و ادراک کا مادہ ہے وہ تحقیقی میدانوں کے لائق نہیں رہتا تو وہ اپنی خود ساختہ شان و شوکت کی ناموری اور اس کی بقا کی خاطر دوسرے لوگوں کو طعن و تشنیع کا شکار بناتا ہے کیونکہ تحصیل علم کے دوران اس کا مقصد دنیاوی زندگی کے عیش و ارام اور لہو و لعب اس کا مقصد حیات بن جاتا ہے
اللہ تعالی نوجوانوں کو بے راہ روی کے دلدل سے محفوظ و مصئون فرمائے اور انٹرنیٹ کی دنیا کے عیوب کو اشکار فرمائے
یاد رکھیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر چمکتے صحرا میں پانی نہیں ہوتا لیکن یہ بات مسلم ہے کہ جو چیز چمکتی ہے اس کو سونا گمان کیا جاتا ہے اور دنیا اس کے حصول کی خواہاں ہوتی ہے لیکن معیار کی پرکھ اج بھی باقی ہے لہذا جو اپنا معیار ارفع و اعلی رکھتا ہے اور اسے برقرار رکھتا ہے تو متعصب دنیا بھی اس کے اگے سر تسلیم خم کرتی ہے
الله رب العالمین محبوب کریمﷺ کے توسل امت مسلمہ کے نوجوانوں کی خیر فرمائے پستی و زبوں حالی کے دلدل سے نکال کر عروج و ارتقا کی راہ ہموار فرمائے معدنی قوتوں کا مرکز اور علم کا محور بناے

ہیں ساز پہ موقوف نواہائے جگر سوز،
گر ڈھیلے ہوں تار تو بیکار ہے مضراب