بہجۃ الاسرار شریف کا مقام و مرتبہ

بھجۃ الاسرار شریف کا مقام و مرتبہ ”بہجت اس سر کی ہے جو”بھجة الاسرار“میں ہے کہ فلک وار مریدوں پہ ہے سایہ تیرا “اہل علم و معرفت کے مابین بھجۃ الاسرار شریف کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مسلم ہے، یہ وہی کتاب ہے جس کو بڑے بڑے علمائے کرام، بزرگانِ دین اور اہل تصوف نے قبولیت کا درجہ دیا ہے اور اس کو معتبر و مستند اور ایک لائق اعتبار کتاب تسلیم کیا ہے۔ اس کتاب سے بہت سے لوگ اپنی علمی و روحانی تشنگی بجھانے کے لیے اس کی جانب رخ کرتے ہیں، اور عرصۂ دراز سے فیضیاب ہوتے رہے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ 
اس کی شان و شوکت اور عظمت کا اندازہ امام اہل سنت مجدد دین و دین ملت امام احمد رضا خان قادری برکاتی علیہ الرحمۃ کی‌ اس‌ عبارت سے واضح ہوتا ہے جس کو آپ فتاویٰ رضویہ شریف میں بھجۃ الاسرار شریف کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”امام عمر بن عبدالوہات عرضی حلبی نے اپنے نسخہ میں کتاب مبارکہ بھجۃ الاسرار شریف میں لکھا: بیشك میں نے اس کتاب بھجۃ الاسرار شریف کو اول تا آخر جانچا تو اس میں کوئی روایت ایسی نہ پائی جسے اور متعدد اصحاب نے روایت نہ کیا ہو اور اس کی اکثر روایتیں امام یافعی نے اسنی المفاخر ونشرالمحاسن وروض الریاحین میں نقل کیں۔ یوں ہی شمس الدین زکی حلبی نے کتاب الاشراف میں اور سب سے بڑی چیز جو بھجہ شریفہ میں نقل کی حضور (غوثِ اعظم) کا مردے جلانا ہے۔ جیسے وہ مرغ زندہ فرما دیا، اور مجھے اپنی جان کی قسم یہ روایت امام تاج الدین سبکی نے بھی نقل کی، اور یہ کرامت ابن الرفاعی وغیرہ اولیاء سے بھی منقول ہوئی، اور کہاں یہ منصب کسی غبی جاہل حاسد کو جس نے اپنی عمر تحریر سطور کے سمجھنے میں کھوئی اور تزکیۂ نفس و توجہ الی الله چھوڑ کر اسی پر بس کی کہ اسے سمجھ سکے جو کچھ تصرفوں کی قدرت الله عزوجل نے اپنے محبوبوں کو دنیا و آخرت میں عطا فرماتا ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ جلد 28، 379 سرچ ایپلیکیشن) 
حضرت علامہ مولانا حافظ پروفیسر سید احمد علی شاہ چشتی، جنہوں نے بھجۃ الاسرار شریف کا بڑے اچھے انداز میں ترجمہ کیا ہے۔ آپ بھجۃ الاسرار شریف کے اوصاف و کمالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔ ” بھجۃ الاسرار، شیخ عبد القادر (جیلانی رضی اللہ عنہ) کی حیات مبارکہ پر (لکھی گئی) سب سے قدیم کتاب ہے جو امام نور الدین ابو الحسن علی بن یوسف الشطنوفی الحنبلی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ساتویں صدی ہجری میں تصنیف کی۔ علامہ الشطنوفی نے ان بزرگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے شیخ عبد القادر (جیلانی رضی اللہ عنہ) سے فیضیاب ہونے والوں کو دیکھا ہے یہ کتاب شیخ عبد القادر (جیلانی رضی اللہ عنہ) کی وفات کے سو برس بعد لکھی گئی اس لحاظ سے شیخ عبد القادر (جیلانی رضی اللہ عنہ) کے قدیم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے اگر چہ امام ذہبی نے اس کتاب پر نکتہ چینی کی ہے پھر بھی کوئی قدیم مصنف اس سے استفادہ کیے بغیر نہیں رہ سکا۔ جس طرح سیرت نگاروں نے علامہ ابن واقدی پر بعض اعتراضات کرنے کے باوجود ان ہی سے فیض حاصل کیا ہے امام الشطنوفی کی حیثیت بھی ویسی ہی ہے۔ حضرت غوث الاعظم کے تمام تذکرہ نگاروں نے ہمیشہ بھجۃ الاسرار سے استفادہ کیا ہے۔ بھجۃ الاسرار کے مصنف نے کوشش کی ہے کہ ہر واقعہ بیان کرتے وقت اس کے راویوں کے نام دئے جائیں اس اقدام سے اس محنت شاقہ کا پتہ چلتا ہے جو ان واقعات کو جمع کرنے میں امام الشطنوفی نے کی ہے۔ عین ممکن ہے بعض واقعات ’’علمی صحت کے معیار پر پورے نہ اتریں‘‘ لیکن ایسے اکا دکا واقعات کے پیش نظر کسی اہم تالیف کی افادیت سے انکار کر دینا سراسر زیادتی ہے۔ اس کتاب کا جائزہ لیتے وقت ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ساتویں صدی ہجری کی تذکرہ نگاری کو آج کی طرح سائنسی خطوط پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ کتاب شیخ عبد القادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) کی شخصیت پر پہلی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے ایسے دور میں احاطۂ تحریر میں لایا گیا ہے جب معاشرتی زوال کی وجہ سے روحانی داستانوں سے تسکین قلب حاصل کی جاتی تھی۔ چنانچہ کشف و کرامات کے شیریں تذکروں میں بعض راویوں سے غلو آمیز باتوں کا شامل ہو جانا ایک فطری امر ہے۔اس کتاب کی افادیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ کتاب آج ہمارے پاس نہ ہوتی تو ہم شیخ عبد القادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) کے صاحبزادگان کی علمی اور دینی خدمات سے محروم ہوتے۔ ان سے فیض یاب ہونے والی شخصیات سے بے خبر ہوتے۔ شیخ کے فیضِ نظر سے آسمانِ ولایت پر کتنے ستارے روشن ہوئے ہیں ان سب کی زندگیوں کا ہر لمحہ امام الشطنوفی نے اس کتاب میں محفظ کر دیا ہے اور ایسا کر کے مستقبل کے مؤرخین کے لیے ایسی مشعل روشن کی ہے جس سے اہل علم ہمیشہ فیض یاب ہوتے رہیں گے۔ (تذکرۃ بہجۃ الاسرار ص ۱۶]اللہ تعالیٰ ہمیں غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مصنفِ بھجۃ الاسرار شریف کے مزار پر انوار پر رحمتوں کی برسات نازل فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔