حضور غوث پاک بڑے پیر دستگیر حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ اولیاء کرام رضی اللہ عنہم کے سردار ہیں آپ کا اسم مبارک عبدالقادر آپ کی کنیت ابو محمد اور القابات محی الدین بعض اشعب محبوب سبحانی غوث الثقلین اور غوث الاعظم وغیرہضھا ہے اپ کی پیدائش یکم رمضان المبارک بروز جمعہ 470 ہجری مطابق 17 مارچ 1075 عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمان شاہ کے مغربی شہر گیلان میں صالحین کے گھرانے میں اور اشراف کے خاندان میں ہوئی آپ نجیب الطرفین سید ہیں والد محترم کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ تک جب کی والدہ محترمہ کی طرف سے یہ سلسلہ امام عالی مقام شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے آپ کے والدین کریمین والد ماجد ابو صالح جنگی موسی اور والدہ ماجدہ ام الخیر امۃ الجبار فاطمہ پھوپھی سیدہ عائشہ اور جد محترم (نانا) سید عبداللہ صومعی اپنے دور کے اصحاب کرامات اولیاء سے تھے چونکہ والد ماجد بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے اسی لیے آپ کی پرورش آپ کے جد محترم (نانا) نے فرمائی۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ مادر ذات ولی تھے اس لیے احکام شریعت کے مکلف نہ ہوتے ہوئے بھی شیر خواری کے زمانے میں رمضان میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتے تھے ولادت کے دوسرے سال مطلع پر ابر (بادل) کے سبب رویت ہلال میں لوگ مشکوک ہو گئے اس دن شعبان المعظم کی۲۹ ویں تاریخ تھی دوسرے دن جب آپ نے پستان کو منہ نہیں لگایا تو آپ کی والدہ ماجدہ ام الخیر فاطمہ سمجھ گئیں۔ کہ اج رمضان المبارک کی پہلی تاریخ ہے سچ مچ اس دن یکم رمضان المبارک تھا جس کی تصدیق بعد کی شہادتوں نے کر دی رفتہ رفتہ یہ بات پورے گیلان شہر میں مشہور ہو گئی کہ اشراف کے گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان کے دنوں میں دودھ نہیں پیتا ہے۔
بچوں کا بچپن میں کھیلنا کودنا اور مستی کرنا فطری تقاضہ ہے لیکن حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کا بچپن ہر طرح کے لہ و لعب سے پاک اور عام بچوں سے ہٹ کر تھا۔ گویا بچپن ہی سے آپ پر حفاظت الہی کا پہرہ لگا دیا گیا تھا خود فرماتے ہیں جب کبھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو مجھے ایک غیبی اواز سنائی دیتی اے برکت والے میری طرف آ جا تو میں بھاگ کر اپنی والدہ کی اغوش میں پناہ لیتا اور آج بھی جب میں خلوت میں ہوتا ہوں تو وہ اواز مجھے سنائی دیتی ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی ولایت کا علم اس وقت ہوا جب میں 10 سال کا تھا میں گھر سے مدرسہ کے لیے نکلا تو راستے میں دیکھتا کہ فرشتے میری ارد گرد چل رہے ہیں اور جب مدرسہ پہنچ جاتا تو سنتا کہ فرشتے بچوں سے کہہ رہے ہیں اللہ کے ولی کو بیٹھنے کے لیے جگہ دو۔
جب آپ کی عمر شریف پانچ برس کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو شہر جیلان کے ایک مکتب میں داخل کر دیا آپ نے ابتدائی تعلیم اسی مکتب میں حاصل کی اور پانچ برس تک اس مکتب میں زیر تعلیم رہ کر اس تھوڑے عرصے میں آپ نے بہت سے علوم و فنون پر اچھا خاصا کمال حاصل کر لیا تھا چونکہ ا
آپ گھر سے آ جا کر تعلیم حاصل کرتے تھے اسی لیے دوران مکتب اپنے نانا جان کی صحبت میں رہ کر ان کے فیضان علم سے بھی خوب خوب سیراب ہوئے۔
غوث پاک رضی اللہ عنہ جب اپنے شہر کے مکتب سے علم حاصل کر چکے تو آپ کے دل میں حصول علم کے حوالے سے مزید شوق پیدا ہوا۔ ان دنوں بغداد علم دین کا مرکز مانا جاتا تھا اس کے مدرسہ نظامیہ کا ہر سو شہرہ تھا اور اس کا مدرسہ احناف بھی بڑی شہرت کا حامل تھا اور دنیا بھر سے طالبان علوم و فنون حصول علم کی غرض سے بغداد شریف کے لیے عازم سفر ہوا کرتے تھے۔
ہجری488 میں جبکہ آپ نے اپنی عمر کے 18ویں منزل میں قدم رکھا تو ایک دن اپنی والدہ سے وصول علم کے شوق کا اظہار کیا اور اس کے لیے سفر کی اجازت کے طالب ہوئے عابدہ زاہدہ ماں نے آپ کے اشتیاق کو دیکھتے ہوئے حصول علم کے لیے سفر بغداد کی اجازت دے دی پر خطر حالات سیاسی اتھل پتھل کے ماحول نظم و نسق کی ابتری اور مسافت کی دوری کے باوجود آپ کی ماں ام الخیر فاطمہ نے دیدہ بنم آپ کو گلے لگا کر رخصت کیا۔
قبرستان سے بغداد تک سیکڑوں کوس کی مسافت طے کرتے ہوئے کئی ماہ کی مدت کے بعد آپ بغداد پہنچ گئے دوران سفر آپ کے قافلے پر حملہ کرنے والے ڈاکوؤں کے گروہ نے آپ کی راست گوئی کے نتیجے میں اپنے برے فعل سے آپ کے دست حق پرست پر توبہ کی اور آپ کی غلامی قبول کر کے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو گئے۔ بغداد شریف پہنچنے کے بعد آپ نے اس دور کی عالمی شہرت یافتہ درسگاہ مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا اور وہاں کے اس وقت کے عازم علمائے کرام شیوخ بزرگان دین اور اکابر محدثین کی بارگاہوں کا قصد فرمایا آپ نے علوم قران کے ماہرین علماء سے قران کو روایت و درایت تجوید و قرأت کے اسرار ورموز کے ساتھ حاصل کیا اور اپنے وقت کے عظیم محدثین اصحاب فضل و کمال اور مستند علماء کرام سے سماع حدیث فرمایا اور اس عہد کی بڑی بڑی شخصیات سے مختلف علوم و فنون کے تحصیل و تکمیل فرمائی۔ یہاں تک کہ تمام اصولی فروری مذہبی اختلافی علوم میں نہ صرف علمائے بغداد پر بلکہ ممالک اسلامیہ کے تمام علماء اسلام پر فوقیت لے گئے اور سب کے متفقہ طور پر آپ کو اپنا مرجع تسلیم کیا۔
حصول علم کی راہ میں آپ کو مصائب و آلام کی کن کن کیفیتوں سے ہو کر گزرنا پڑا آج ہم اس کو اس کا احساس نہیں ہے ان کا عالم یہ تھا کہ 20 20 دن یوں ہی فاقوں پر گزار دیتے تھے جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو کسی مباح چیز کی دریافت میں شہر سے باہر جنگل کی طرف نکل جاتے اسی سلسلے میں ایک دن کسریٰ کے کھنڈرات کی طرف تشریف لے گئے جب آپ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ 70 اولیاء کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین وہاں پر پہلے ہی سے موجود ہیں یہ دیکھ کر آپ خاموشی کے ساتھ وہاں سے واپس تشریف لے ائے اور صبر و ضبط کے ساتھ کام لیا مگر یہ سخت ترین حالات اور پریشانیاں آپ کے فولادی عزم و حوصلہ کو متزلزل نہ کر سکے اس طرح آپ نے ہر طرح کی مشکلات کا نہایت صبر و ضبط کے ساتھ مقابلہ کیا اور اخر کار آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔
اللہ تعالی نے آپ کو بچپن ہی سے جہاں بے شمار خوبیوں اور لا تعداد انسانی اقدار کا حامل بنایا تھا وہیں تواضع و انکساری و عاجزی جیسی عظیم صفات سے بھی خوب خوب نوازا تھا چنانچہ آپ نے اپنے تمام مراحل حیات میں اپنے سے بڑوں کا ادب و احترام اور غرور و تکبر اور نخوت کو اپنے قریب قریب بھی نہیں بھٹکنے دیا آپ کے زمانۂ طالب علمی کا واقعہ ہے کہ آپ ایک مرتبہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ نواح بغداد میں رہنے والے اللہ کے ایک ولی کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے راستے میں دوران گفتگو آپ کے ایک ساتھی ابن السقا نے کہا کہ میں ان بزرگ سے ایسا سوال کروں گا کہ وہ میرے سوال کا جواب نہ دے سکیں گے آپ کے دوسرے ساتھی عبداللہ سامی نے کہا میں بھی ان سے ایک مسئلہ دریافت کروں گا دیکھو وہ کیا جواب دیتے ہیں مگر تاجدار علم و تدبر محور ادب و احترام حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی پناہ اس طرح کے خیالات سے میں تو ان کی بارگاہ میں حاضری دے کر یہ دیکھوں گا کہ مجھے ان کی بارگاہ عظمت و رفعت سے فیض کتنا ملتا ہے جب یہ تینوں حضرات اللہ کے اس مقدس ولی کی بارگاہ میں پہنچے تو انہوں نے دور ہی سے ابن السقا پر غضب کی نظر ڈالی اور فرمایا تو مجھ سے اتنا سخت سوال کرے گا کہ میں اس کا جواب نہ دے سکوں گا تو لے سن یہ ہے تیرا سوال اور یہ ہے اس کا جواب اور تیری بے ادبی اور کبر و نخوت کے سبب میں دیکھ رہا ہوں کہ کفر کے شعلے تیرے بدن کو چاٹ رہے ہیں اس کے بعد عبداللہ سامی کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا تم مجھ سے ایک مسئلہ دریافت کرے گا اور دیکھے گا کہ میں اس کا کیا جواب دیتا ہوں تو سن تیرا مسئلہ یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے تو نے میری بے ادبی کی ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تو کانوں تک دنیا میں دھنس چکا ہے اور آخیر میں حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کی طرف محبت پاش نظروں کے ساتھ متوجہ ہوئے انہیں اپنے سے قریب کیا ان کے شایان شان ان کی عزت افزائی کی اور فرمایا بیٹا عبدالقادر تم نے اپنے ادب اور تواضع کے سبب اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کر لیا ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بغداد میں اکابر مشائخ کی موجودگی میں کہہ رہے ہو’قدمى هذه على رقبتى كل ولي الله’ میرا یہ قدم اللہ تعالی کے ہر ولی کی گردن پر ہے اور آپ کے اس فرمان کو سنتے ہی تمام اولیاء کرام نے اپنی گردنیں جھکا دی ہیں چنانچہ تاریخ میں آتا ہے کہ جیسا اللہ کے اس ولی نے جس کے لیے جو فرمایا تھا اس کے حق میں وحی
ہو کر رہا ہے۔
سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ دن کے مختلف اوقات میں مختلف علوم کا درس دیا کرتے تھے چنانچہ ظہر سے پہلے تفسیر, حدیث, علوم حدیث, اختلاف مذاہب اصول اور نحو کا درس دیتے اور بعد نماز ظہر اور قران مقدس تجوید و (قرأت مختلفہ) کے ساتھ پڑھاتے تھے اس طرح وہ اپنا پورا دن خدمت علوم دینیہ اور تشنگان شریعت و طریقت کو سیراب کرنے میں گزارتے تھے اور جہاں تک رات کا سوال ہے تو اس کے ابتدائی حصے میں نماز پڑھتے پھر ذکر الہی میں مشغول ہو جاتے یہاں تک کہ رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا دوسرے تہائی میں کھڑے ہو کر نوافل ادا کرتے تھے یہاں تک کہ دوسرا تہائی حصہ بھی گزر جاتا اور تیسرے تہائی میں طلوع فجر تک مراقبہ فرمایا کرتے تھے شب داری اور ریاضت کا عالم یہ تھا کہ نماز عشاء کے بعد جو خلوت خانہ میں تشریف لے جاتے تو نماز فجر سے پہلے باہر تشریف نہ لاتے اس دوران کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ روایتوں میں اتا ہے کہ آپ نے 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی۔
آپ کے علوم ظاہر و باطن میں تبحر اور ان پر عمل آوری کا ہی نتیجہ تھا کہ اللہ تعالی نے آپ کی ناختم ہونے والی محبت عوام و خواص کے دلوں میں ڈال دیں اور آپ کی ذات والا مرتبت کو مجموعۂ کمال اور خزینۂ حسنات و برکات اور کشور ولایت اور جہان روحانیت کا تاجدار بنا کر آپ کو قطبیت کبری کا عظیم مرتبہ عطا فرمایا۔
آپ کی عظیم المرتبت علمی شخصیت کا عالم یہ تھا کہ آپ کی مجلس میں ایک دن کسی قاری نے قران حکیم کی ایک آیت تلاوت کی آپ نے اس کی ایک تفسیر بیان کی پھر دوسری پھر تیسری حتی کہ اپ نے اس ایت کی 11 ایسی تفسیر بیان کی جو حاضرین علماء کے علم میں تھی پھر دوسری تفاسیر کو شروع کیا حتی کہ 40 تفسیر بیان فرمائی اور ہر تفسیر کی سند متصل اور دلیل اور ہر دلیل کی ایسی تفصیل بیان فرمائی کہ اہل مجلس محو حیرت و تعجب ہو گئے ۔
آپ کی عمر مبارکہ کے ابتدائی 23 برس درس و تدریس اور فتوی دینے میں گزرے۔ اس دوران آپ نے ہزاروں تشنگان علوم شریعت و طریقت کو اپنے چشمہ علم سے سیراب فرمایا اور 40 سال مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور نصیحت میں صرف ہوئے اور جب آپ کی عمر شریف 90 سال کی ہوئی تو آخر کار وہ ساعت آ پہنچی کہ زمانے کا غوث اعظم بعض اشحب قطب الاقطاب فرد الافراد کو بھی اپنی جان حسب وعدۂ
الہیہ جان جاناں کی بارگاہ اقدس میں سپرد کرنی پڑی چنانچہ اٹھ ربیع الثانی شب ہفتہ 561 ہجری میں آپ موت کے راستے سے ہوتے ہوئے بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گئے۔
پروردگار عالم ہمیں حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ عالی کا وفادار رکھے آپ کے عقیدت کیشوں میں شامل فرمائے اور آپ کے احیائے دین کے توسل ہمیں بھی خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے آپ کے جلائے ہوئے چراغ حقیقت و معرفت کی روشنی میں صبح قیامت تک امت مسلمہ کو زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمين بجاه حبيبه سيد المرسلين والصلاة والسلام عليه وعلى آله وأصحابه وذرياته و اهل بيته أجمعين ۔
از: مفتی ضیأالحق برکاتی