حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رد روافض

سرکار غوث پاک حضرت محبوب سبحانی سید عبد القادر جیلانی بغدادی قدس سرہ اُن اخص اولیائے کرام اور محبوبان خدا سے تھے جن کے حصے میں محبّیت اور محبوبیت دونوں بدرجہ کمال آئی تھیں ۔
غوث پاک پر اللہ پاک کا فضل ہوا کہ آپ نے اپنی ولایت کو پہچان لیا مگر یاد رہے کہ ولی پر یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ ولی ہے، یہ ولایت کے لیے ضروری نہیں، البتہ ولی عالم ضرور ہوتا ہے اور شریعت کا پابند ہوتا ہے، کوئی بے نمازی، شراب و جوئے کا عادی ، شریعت کا باغی کبھی ولی نہیں ہو سکتا۔
ہمارا موضوع ہے سرکار غوث پاک اور رد روافض :اسلام ایک ایسا دین ہے جو اعتدال، وسطیت اور حق کی پیروی کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر ہر دور میں کچھ ایسے گروہ پیدا ہوئے جنہوں نے دین میں افراط و تفریط کی راہ اختیار کی اور گمراہی کی طرف مائل ہوئے۔انہی میں ایک گروہ روافض ہے، جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، بالخصوص خلفائے ثلاثہ کے بارے میں غلط عقائد اور باطل نظریات قائم کیے سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رافضیوں کی تین اقسام ہیں، غالیہ ، زیدیہ ، رافضہ. غالیہ سے بارہ فرقے نکلتے ہیں جو یہ ہیں۔ بنانیہ، طیاریہ ، منصوریہ، معریہ ،خطابیہ ، معمریہ ، بزلعیہ ،مفضلیہ ، متناسخہ ، شریعہ، سبیہ اور منوضہ۔ زیدیہ فرقہ سے کچھ سے چھ شاخیں نکلتی ہیں ۔ جارودیہ ، سلیمانیہ، بتریہ ، نعیمیہ، یعقوبیہ، اور چھٹا گروہ رجعت کا انکار نہیں کرتا البتہ حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی امامت کا انکار کرتے ہیں۔روافض کے تمام گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ امامت عقلاً ثابت ہے اور اس پر نص ہے۔ ائمہ اہل بیت غلطی، بھول، اور خطا سے معصوم ہیں۔ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ پر فضیلت دیتے ہیں اور کہتے حضور ﷺ کے بعدحضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی امامت مخصوص ہے۔
روافض اور یہودی 
سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : روافض کے عقائد،یہودیت سے مشابہ ہیں . روافض کی محبت یہودیوں کی محبت جیسی ہے. یہودیوں نے کہا، امامت تو صرف داؤد علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی شخص کا حق ہے اور رافضیوں نے کہا امامت صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد کا حق ہے۔ یہودیوں نے کہا مسیح دجال کے ظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام کے کسی سبب کے آسمان سے اتر نے تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد نہ ہو گا۔ رافضی کہتے  جب تک مہدی نہ آئیں اور ان کی تائید  میں ایک منادی آسمان سے آواز نہ دے جہاد نہ ہو گا۔ یہودی ستاروں کے ہجوم تک مغرب کی نماز میں تاخیر کرتے ہیں۔ اسی طرح رافضی بھی مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے ہیں۔ یہودی قبلہ سے کچھ ترچھے ہوتے ہیں۔ رافضی بھی اسی طرح کرتے ہیں۔ یہودی نماز میں اِدھر اُدھر ہلتے ہیں۔ رافضی بھی اسی طرح کرتے ہیں ۔ یہود نماز میں کپڑا لٹکاتے ہیں تو رافضی بھی  یو ہی کرتے ہیں۔ یہودی مسلمان کے عون کو حلال سمجھتے ہیں اور رافضیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ یہودیوں کی طرح رافضی بھی عورت کی عدت کے قائل نہیں ۔ یہودی تین طلاقوں میں کچھ حرج نہیں سمجھتے۔ یہی حال روافض کا ہے۔یہودیوں نے تورات میں تحریف کی۔ اسی طرح رافضی قرآن پاک میں تبدیلی کا نظریہ رکھتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں قرآن پاک میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اس کی نظم و ترتیب الٹ دی گئی ہے اور وہ اس ترتیب پر نہیں جس طرح اتارا گیا تھا نیز قرآن پاک ایسے طریقوں سے پڑھا جاتا ہے جو نبی اکرم ﷺسے ثابت نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن میں کمی اور زیادتی کی گئی۔ یہودی حضرت جبریل علیہ السلام سے بغض و عداوت رکھتے ہیں کہتے ہیں وہ فرشتوں میں سے ہمارے دشمن ہیں اسی طرح روافض کا ایک گروہ کہتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام غلطی سے وحی حضرت محمد ﷺکے پاس لے گئے(معاذاللہ) حالانکہ ان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف بھیجا گیا تھا۔(معاذاللہ) کتاب : غنیۃ الطالبین صفحہ نمبر 284-288
جب آپ ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے تو ضرور اس نتیجہ پر پہنچے گے کہ روافض مذہب حق پر نہیں ہیں۔ ان کی کتابوں میں ایسے خرافات اور گندی باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ ان کا یہاں نقل کرنا بھی گناہ ہے۔ مگر حقیقت کا اظہار کرنا پڑتا ہے نقل کفر کفر نہ باشد ، رافضیوں کی مشہور کتاب: (ذخیرة المعاد کے صفحہ 95 پر ہے) 
نقل شده که جماع در فرج محارم بالف حریر جائز است.ترجمہ: محارم ماں بہن سے ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ہےیہ ہے رافضی مذہب کی حقیقت کہ اس مذہب کی حالت انتہائی افسوسناک ہے ۔اور اس فرقہ کے افراد کی عمریں صحابہ کرام اور امہات المؤمنین ، ازواج مطہرات سے بغض و عداوت اور ان کی شان میں بے ادبی ، سب وشتم اور مسلسل بد گوئی میں گزرتی ہیں۔ یہ لوگ سیدہ طاہرہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے ہیں اور خلفائے ثلاثہ کو منافق اور بے ایمان کہتے ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے ہیں.اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ کرام کی عظمت کو واضح فرمایا:وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْہ [التوبۃ۱۰۰]
ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لا تسبوا أصحابي، فلو أنفق أحدكم مثل أحد ذهباً ما بلغ مدّ أحدهم ولا نصيف 
ترجمہ: میرے صحابہ کو برا نہ کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری، مسلم)
یہ نص اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی اور تنقیص سراسر گمراہی ہے۔پس کافراں ریسمانی در گردن امیر المومنین انداختند و بسوئے مسجد کشیدند .( جلاء العیون ج ۲۱۹۱ ، جملہ حیدری ص ۲۸۲ ، رجال کشی ، ص ۱۴)
ترجمہ: یعنی بعض لوگوں نے حضرت امیر المومنین کے گلے میں رسی ڈالی  اور کھینچ کر مسجد میں لے آئے۔یہ فرقہ ایک طرف تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بزدل اور ڈرپوک کہہ رہا ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کرنا چاہتے تھے تو لوگوں نے ان کے گلے میں رسی ڈالی اور کھینچ کر لے آئے ۔ اس طرح سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کروائی۔ 
یہ لوگ جھوٹ بول کر حضرت علی رضی اللہ عنہ پریہ الزام لگاتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کے ڈر سے بیعت کی تھی۔اب حضرت علی کا فرمان ذیشان سینے!فمشيت عند ذلك الى ابی بکر و بايعته و نصرت فی تلك الاحداث فتولى ابو بکر تلک الامور و و سدد (ناسخ التواريخ حالات حضرت علی جلد ۳ ص (۲۲۲)
ترجمہ: میں خود چل کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کی بیعت کی ، اسکے بعد میں نے تمام مصائب و حوادث میں ان کی مدد کی ۔
اس سے پتہ چلا ہے کہ روافض فرقہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ سے بھی بغض رکھتے ہیں،  اور یہ حضرت علی کے دشمن ہیں۔ سچی محبت رکھنے والے صرف اور صرف اہل سنت و جماعت ہیں جن کی کتاب میں یہ حدیث موجود ہے۔النظر الي وجه علي عباد ۃ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ دیکھنا بھی عبادت ہے  جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید پلید کی بیعت نہ کی ،  تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ڈر کی وجہ سے بیعت کیوں قبول کر لی ۔ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر محض الزام ہے، اولیاء اللہ کے فرامین اور روافض غالیہ کی کتابوں کی ان تصریحات سے روز روشن سے زیادہ واضح ہے کہ اہل سنت و جماعت اہل حق ہیں ، اہل نجات ہیں ۔ سواد اعظم ہیں ، افتراق و انتشار کے اس شور و شر میں صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ روافض کا عقیدہ قرآن و سنت کے سراسر خلاف ہے۔ صحابہ کرام کی عظمت اور فضیلت کو جھٹلانا ان کا شیوہ ہے ۔
اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اہلِ بیت اور صحابہ کرام دونوں سے محبت رکھے، جیسا کہ قرآن و سنت کی تعلیم ہے، اور روافض جیسے باطل گروہوں کے شبہات کا
علمی اور حکیمانہ انداز میں رد کرے۔
مرتب : محمد وارث رضا ازہری