بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ،اور ان نعمتوں سے سب سے بیش قیمت نعمت وقت ہے ۔
وقت انسان کی زندگی کا وہ سرمایہ ہے جو ایک بار گزر جاۓ تو کبھی وا نہیں آتا۔
اسلام نے وقت کی قدر و قیمت کو بڑی اہمیت دی ہے، کیونکہ انسان مکمل زندگی وقت کے تسلسل سے جڑے ہوئی ہے۔
جوشخص اپنے وقت کو صحیح استعمال کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے، اور جو اس نعمت عظمیٰ کی ناقدری کرتا ہے، وہ نقصان اٹھاتا ہے۔
وقت کا قرآنی تصور
اسلام کا تصورِ وقت بالکل جداگانہ حیثیت کا حامل ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلہ و کرم سے انسان کو یہ توفیق مرحمت فرمائی ہے کہ وہ وقت کی شکل میں اپنے اندر موجود “مال” سے پورے طور پر فائدہ اٹھاؤ ، اور یہ ذہن میں رکھے کہ وہ لمحہ جو گزر گیا ہے نہ لوٹ سکتا ہے اور نہ اسے لوٹایا جا سکتا ہے ، گزشتہ زمانوں میں بھی یہی سنت الٰہیہ رہی ہے اور دنیوی زندگی کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا نظام یوں ہی سدا قائم رہے گا، جیساکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ((فلن تجد لسنة الله تبديلا ، ولن تجد لسنة الله تحويلا. )) ( سورة الفاطر, ٤٣) تم ہرگز اللہ کے دستور کے لیے تبدیلی نہیں پاؤ گے ، اور ہرگز اللہ کے قانون کے لیے ٹالنا نہ پاؤ گے ۔
یہ ایک نا قابل انکار سچائی ہے کہ اس دنیا میں ایک شخص کی کل پونجی اس کا وقت ہے، وقت ہی انسان کی کل کائنات ہے، وقت کو ضائع کرنا در اصل عمر گنوانے کے برابر ہے، ( عمر متعین لمحوں ہی کا تو نام ہے) وقت مال ودولت سے کہیں زیادہ قیمتی چیز ہے ۔
دیکھیں نا کہ جب ایک شخص کا دنیا کے جانے کا وقت آ جاتا ہے، اور سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں تو اس کے سارے مال و منال اس کے سرہانے رکھے رہ جاتے ہیں ، وہ چاہتا ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کرکے عمر کے خزانے میں صرف ایک دن کا اضافہ کرالی تو کیا اسے ایک دن یا ایک منٹ کی مہلت مل جاتی ہے! نہیں کبھی نہیں ۔
قران مجید و فرقان حمید نے دو مقامات پر بیان فرمایا ہے کہ انسان کو ضیاع وقت پر شدت سے ندامت و خجالت لاحق ہوتی ہے؛ مگر اس وقت کف افسوس ملنا کچھ بھی کار آمد اور نفع نہیں۔
پہلا مقام تو وہی کہ جب انسان کے جان پر بنائے، وہ دنیا کے وقتی لذتوں کو ہاتھوں سے جاتا اور آخرت کی سچائیوں کو آتا دیکھتا ہے تو شدید خواہش کرتا ہے کہ کاش! اسے ایک لمحہ کی مہلت مل جاتی اور اس کی موت کا وقت ذرا سا مؤخر کر دیا جاتا؛ تاکہ وہ اپنے اعمال کی اصلاح اور اپنی کوتاہیوں کا تدارک کر لیتا۔ قرآن کریم کی شہادت دیکھیں:(( وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ))
(سورۃ ابراہیم: 44)
آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیں جب ان پر عذاب آپہنچے گا تو وہ لوگ جو ظلم کرتے رہے ہوں گے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے دے کہ ہم تیری دعوت کو قبول کر لیں اور رسولوں کی پیروی کر لیں ،(ان سے کہا جائے گا کہ) کیا تم ہی لوگ پہلے قسمیں نہیں کھاتے رہے کہ تمہیں کبھی زوال نہیں آئے گا!۔
لہذا عقلمند وہی ہے جو وقت پر اپنی گرفت مضبوط رکھے ،وقت کے تئیں حساس ہو اور اسے خیر کے کاموں میں لگائے۔
وقت کی قیمت کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ (جل جلالہ )نے قران مجید میں بہت سی جگہوں پر وقت کی قسم اٹھائی ہے، وہ مالک و مختار ہے جس کی چاہے قسمیں اٹھائے مگر اہل علم کو پتا ہے کہ قسم ہمیشہ عظیم چیز کی کھائی جاتی ہے، حقیر چیزیں قسم کے لائق نہیں ہوتی! تو ان قسموں کا مفاد یہ ہے کہ ان کے ذریعے درحقیقت ہمیں یہ شعور دیا جا رہا ہے اور جھنجھوڑا جا رہا ہے یہ اپنی زندگی کے اوقات کو معمولی اور حقیر نہ سمجھو؛ بلکہ اس کے ایک ایک لمحے کا تم سے عرصہ محشر میں حساب ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:((وَالْفَجْرِ وَالْعَشْرِ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ)) ( سورۃ الفجر) صبح کی قسم ، اور دس راتوں کی قسم ،اور جفت اور طاق کی، اور رات کی جب وہ چل پڑے،کیا اس قسم میں عقلمند کے لیے قسم ہے؟
تو یہاں فجر، لیالی عشر، اور شفع و وتر کی قسمیں دراصل وقت کی اہمیت کا بھی ایک گونہ اشاریہ ہیں ؛مگر ان سے فائدہ کون اٹھاتا ہے تو قرآن نے اسے بھی واضح کر دیا کہ صرف اہل عقل و خرد ہی ان سے مستفید ہوتے ہیں اور ان کا صحیح استعمال کرتے ہیں، عقل کو یہاں پر “حِجْر” سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ وہ خرد مند کو غیر مناسب افعال و اقوال سرانجام دینے کی اجازت نہیں دیتی۔
نیز اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ((إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا)) (سورہ نساء) بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔
دن اور رات کے پانچ مختلف اوقات میں نماز کو فرض کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان وقت پر کڑی نگاہ رکھے، ہمیشہ چاق چوبند رہے اور اس بات کا بھی خیال رکھے کہ جس کام کا جو وقت ہے اس کو اسی وقت انجام دے، کسی بھی کام کو اس کے متعینہ وقت سے ٹال کر نہ انجام دیا جائے۔
یوں ہی رمضان المبارک میں صبح صادق اور غروب آفتاب کے درمیانی اوقات میں روزہ، اور ذی الحجہ کے مخصوص ایام میں مناسک حج کی ادائیگی وغیرہ جیسے تمام ضروری امور کا بھی وقت کی پابندی ہی پر انحصار ہے، دن کی بجائے رات میں روزہ بھوک پیاس اجتناب کا نام تو ہو سکتا ہے، لیکن اسے شرعی روزہ ہرگز نہیں قرار دیا جا سکتا، یوں ہی ذی الحجہ کے مخصوص ایام کے علاوہ دیگر اسلامی مہینوں میں وقوف عرفات، قیام مزدلفہ و منیٰ اور طواف زیارت کو حج کا نام ہرگز نہیں دیا جا سکتا۔
الغرض وقت کی پابندی جہاں انسانی زندگی میں ایک مرکزی اور اساسی درجے کی حیثیت رکھتی ہے وہیں عبادات میں بھی اس کا اہتمام بندے کو سچی بندگی کی حلاوت سے روشناس کراتا ہے، اور وقت میں بے اصولی، درحقیقت بے بندگی و شرمندگی کا دوسرا نام ہے؛ لہذا وقت کے صحیح استعمال کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے؛ کیونکہ وقت کی پابندی دنیا و آخرت کی بے بہا نعمتوں سے ہمکنار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اللہ ہمیں توفیق خیر سے نوازے، اور پیغام قرآنی پر عمل پیرا ہونے کی ہمیں ہمت و لگن عطا فرمائے۔ آمین۔
وقت کا نبوی پیمانہ:
تاجدار کائنات معلم انسانیت -ﷺ- سے زیادہ اپنے اوقات کا محافظ اور ان کا صحیح استعمال کرنے والا کون ہوگا! ۔ آپ نے اپنی حیات مقدسہ کا لمحہ لمحہ اسلام اور عالم انسانیت کی فلاح و بہبود میں صرف فرما دیا؛ لہذا اہل اسلام کو بھی چاہیے کہ اپنے پیارے نبی مصطفی جان رحمت -ﷺ- کی اتباع میں وقت کا صحیح استعمال کر کے دارین کی سعادتوں سے بہرہ وری کا سامان کریں۔
نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- کی سنت قولی و فعلی دونوں میں نفع رساں چیزوں سے وقت کو ثمربار کرنے اور ضیاع وقت سے بچنے کے اشارے ملتے ہیں۔
حضرت عثمان بن محمد بن مغیرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا:((ما من يوم طلعت الشمس فيه إلا يقول من استطاع يعمل في خير فليعمله فإني غير مكر عليكم أبدا)) یعنی روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت “دن” یہ اعلان کرتا ہے کہ (اے دنیا میں بسنے والو!) اگر آج کوئی اچھا کام کرنا ہے تو کر لو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا۔
معلوم ہوا کہ زندگی کی جو ساعتیں ہمیں میسر ہیں ان کو غنیمت جانتے ہوئے جتنا کچھ عمل خیر ہو سکے کر لینا چاہیے؛ کیونکہ کل نہ جانے لوگ ہمیں “جناب” کہہ کر پکارتے ہیں یا “مرحوم” کہہ کر ہمیں اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو؛ مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اپنی موت کی منزل کی طرف رواں دواں ہیں ۔ارشاد رب العزت ہے: ((يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ)) ( سورہ انشقاق) اے انسان! بے شک تجھے اپنے رب کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اسی سے جا ملنا ہے۔
وقت کی قدر نہ کرنے والے ذرا سوچیں کہ زندگی کس قدر تیز رفتاری کے ساتھ گزرتی جا رہی ہے، یقینا ان زندگی بے حد مختصر ہے، جو تمہیں مل گیا سو مل گیا، آئندہ وقت ملنے کی امید دھوکہ ہے، کیا معلوم آئندہ لمحے ہم موت سے ہم آغوش ہو چکے ہوں، بارہا آپ نے دیکھا ہوگا کہ اچھا بھلا ڈیل ڈول والا انسان اچانک موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے، اب قبر میں اس پر کیا بیت رہی ہے، اس کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے البتہ خود اس پر زندگی کا حال کھل چکا ہوگا۔
لہذا ابھی جو کچھ ہمیں وقت کی شکل میں مہلت ملی ہو یہیں اس کی قدر کرتے ہوئے اخرت کی تیاری کر لینی چاہیے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ رات میں اچھے بھلے سونے کے باوجود صبح اندھیری قبر میں ڈال دیا جائے، خدارا! غفلت کی نیت سے بیدار ہو جائیے ۔
وقت کی قدر و قیمت اسلاف کی نظر میں
زمانہ کی سرعت رفتار کا اکثر چرچہ ہوتا رہتا ہے کہ زمانہ کتنا جلدی چلا گیا اور وقت کتنا مختصر ہو گیا ہے، یہ سچ ہے کہ زمانہ دو دھاری تلوار کی مانند ہے، وہ غفلت و اعراض کی چادر لپیٹ کر سونے والوں کے جاگنے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ انہیں کاٹتا ہوا آگے گزر جاتا ہے؛ لہذا انسان جب بھی سانس لیتا ہے تو سمجھو کہ وہ عمر کی متاع عزیز خرچ کرتا ہے، اس کی زندگی میں جو سورج ڈوب گیا اب پلٹ کر واپس نہیں آنے والا؛ لہذا جس نے اس میں کچھ کما لیا کما لیا اور جس نے اسے گنوا دیا گنوا دیا، اور کل عرصہ محشر میں یہی گزارا ہوا دن انسان پر آپ گواہ بن کر آئے گا۔
حضرت ابوبکر صدیق – رضی اللہ تعالیٰ عنہ
خلیف اول حضرت ابوبکر صدیق -رضی اللہ تعالیٰ عنہ -نے فرمایا: لوگو! تمہارا کاروان زندگی دن بدن موت کی طرف رواں دواں ہے اور موت کا علم تم سے مخفی رکھا گیا ہے؛ لہذا اگر اچھے اعمال کرتے ہوئے موت کی آغوش میں پناہ گزیں ہو سکتے ہو تو ایسا ہی کرو؛ مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ایسا ممکن ہو سکتا ہے، سو لوگو! ابھی تمہیں جو مہلت ملی ہوئی ہے اسے کار آمد بنا لو اور خود کو اچھے اعمال سے مزین کر لو؛ ورنہ مہلت کے یہ دن بہت جلد تم سے رخصت ہونے والے ہیں، پھر دیکھنا کہ تمہارے برے کرتوت تمہارا کیا حال کرتے ہیں!۔
وہ مارا گیا جس کا وقت غفلتوں کی نظر ہو گیا اور کامیاب وہی ہے جس نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا؛ لہذا جلدی کرو کیونکہ تمہارے پیچھے ایک آنے والا آئے گا اور بڑی چابک دستی سے اپنا کام کر جائے گا۔
حضرت ابوبکر صدیق -رضی اللہ تعالیٰ عنہ – یہ دعا کرتے تھے: (اللهم لا تدعوا في غمرة ولا تأخذنا على غرة ولا تجعلنا من الغافلين). یعنی اے اللہ! ہمیں شدت میں نہ چھوڑنا، اور ہمیں غفلت کی حالت میں نہ پکڑنا اور ہم کو غافل و بے پرواہ لوگوں میں سے نہ کرنا۔
حضرت حسن بصری -علیہ الرحمہ
حضرت حسن بصری -رحمۃ اللہ علیہ- فرماتے ہیں: کہ طلوع آفتاب کے بعد ہر روز، دن لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: اے ابن ادم! میں تازہ تخلیق ہوں، تمہارے کاموں پر گواہ ہوں؛ لہذا اس لمبے سفر کے لیے اگر مجھے زاد راہ بنانا ہو تو بنا لو کیونکہ میں گزر جانے کے بعد پھر قیام قیامت تک لوٹ کر نہیں انے والا۔
اگے فرمایا: اے ابن ادم! تو بذات خود ایام (دن) ہے، جب دنوں میں سے کوئی دن گزرتا ہے تو یہ سمجھ کہ تیرا کچھ حصہ گزر گیا، اور اسی طرح تھوڑا تھوڑا کر کے سارا کا سارا گزر جائے گا اور تجھے احساس تک نہ ہوگا؛ لہذا جتنا کچھ کر سکتا ہے آج ہی کر لے کیونکہ آج کا دن عمل کا دن ہے حساب کا نہیں جبکہ کل کا دن حساب کا دن ہوگا عمل کا نہیں!۔
مزید فرمایا: مجھے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے جن کی نگاہوں میں وقت کی قدر و قیمت درہم دینار سے کہیں زیادہ تھی، اور جو درہم و دینار سے بڑھ کر اپنے اوقات کے محافظ تھے۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: لوگو! جلدی کرو، جلدی کرو، تمہاری زندگی کیا ہے؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رک جائیں تو تمہارے ان اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے جن سے تم اللہ سبحانہ و تعالی کا قرب حاصل کرتے ہو۔
خدا اس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنا جائزہ لیا اور اپنے گناہوں پر اشک ریزی کی یہ کہنے کے بعد اپ نے سورہ مریم کی اس ایت کی تلاوت فرمائی: ((إِنَّمَا نَعِدُ لَهُمْ عَدًا)) اور ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی -علیہ الرحمہ- فرماتے: ہیں کہ یہاں اس آیت میں “گنتی” سے مراد یہی سانسوں کی گنتی ہے۔ لہذا ہمیں بھی اپنی زندگی کی قدر کرتے ہوئے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری ہر انے والی ساعت، گزری ہوئی ساعت سے بہتر ہو، اس طرح ساعتوں کی بہتری سے منٹ بہتر ہوں گے اور منٹوں کی بہتر ہونے سے گھنٹے بہتر ہوں گے اور گھنٹوں کے بہتر ہونے سے دن بہتر ہوں گے اور دنوں کے بہتر ہونے سے ہفتے بہتر ہوں گے اور ہفتوں کے بہتر ہونے سے مہینے بہتر ہوں گے اور مہینوں کے بہتر ہونے سے سال بہتر ہوں گے، اور یوں ہماری زندگی کی ہر گھڑی خیر و -فلاح سے عبارت ہو جائے گی -انشاء اللہ تعالی
حضرت امام شافعی -علیہ الرحمہ
حضرت امام شافعی -علیہ الرحمہ- فرماتے ہیں: کہ ایک مدت تک میں نے صوفیا کرام کی صحبت اختیار کی، تو ان کے دو جملوں سے مجھے بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوا ایک یہ کہ: ((الوقت كسيف إن لم تقطعه قطعك)) یعنی وقت ، تلوار ہے، اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو وہ تمہیں کاٹ ڈالے گا۔
اور دوسرا: ((نفسك ان لم تشغلها بالحق والا شغلتك بالباطل)) یعنی تم نے اگر اپنے نفس کو حق و صداقت کے کاموں میں مشغول نہ کیا تو وہ تمہیں باطل و بے سود کاموں میں جٹا دے گا۔
وقت کی اہمیت کا اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وقت کی اہمیت اِن سے پوچھیں:
“ایک سال” کی اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ایسے طالب علم سے پوچھیں جو سالانہ امتحان میں ناکام ہو گیا ہو، “ایک مہینے” کی اہمیت والوں کرنی ہو تو کسی ایسی عورت سے پوچھیں جس کا حمل قبل از وقت ضائع ہو گیا ہو، “ایک ہفتے” کی اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ہفتہ وار میگزین کے ایڈیٹر سے پوچھیں،” ایک دن” کی اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ایسے مزدور سے پوچھیں جو روزانہ اپنے بال بچوں کے لیے محنت مزدوری کر کے کمائی کرتا ہو، “ایک گھنٹہ” کی اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ایسے عاشق صادق سے پوچھیں جو اپنے محبوب سے ملنے کا منتظر ہو، “ایک منٹ” کی اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ایسے شخص سے پوچھیں جس کی ٹرین چھوٹ گئی ہو، “ایک سیکنڈ” کی اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ایسے آدمی سے پوچھیں جو کسی حادثہ میں بال بال بچ گیا ہو، “ملی سیکنڈ” کے اہمیت معلوم کرنی ہو تو کسی ایسے شخص سے پوچھیں جس نے اُولمپک کھیل میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہو ۔
اسلام نے وقت کو زندگی کی سب سے قیمتی نعمت قرار دیا ہے، وقت ہی انسان کے اعمال کا پیمانہ ہے، اسی کے ذریعے کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے ؛لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وقت کو فضول کاموں میں ضائع نہ کریں بلکہ اسے عبادت، تعلیم، نیکی، خدمت خلق، اور مثبت کاموں میں صرف کریں۔
اللہ تعالی ہمیں وقت کی قدر کرنے اور اس سے بہترین فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین -ﷺ
مرتب ۔مولانا محمد نور الدین