مطالعے کی اہمیت و ضرورت

مطالعہ کی اہمیت اور ضرورت کیوں ہے؟
مطالعے کی اہمیت و ضرورت پر گفتگو کرنے سے قبل ،ہم یہ دیکھیں کہ مطالعہ کسے کہتے ہیں ، مطالعہ کا لغوی ، اور اصطلاحی معنی و مفہوم کیا ہے؟

مطالعہ کا لغوی معنی ہے غور اور توجہ سے کسی چیز کو اس غرض سے دیکھنا کہ اس سے واقفیت پیدا ہو جاۓ، جبکہ مطالعہ کا اصطلاحی معنی ہے ، عام طور پر کتاب پڑھنے کو مطالعہ کہا جاتاہے ۔
مطالعے کی اہمیت و ضرورت : علم انسان کی بنیادی ضرورت ہے جسے مکمل کرنے کا اہم ترین ذریعہ “مطالعہ”ہے۔
یہ مطالعہ ہی کا انمول ترین فائدہ ہے کہ اس سے انسان حصول علم کی طرف مائل ہوتا ، اپنی معلومات کو وسعت دیتا ، ایک نئی فکر اور سوچ لیتا، فکر و نظر کا زاویہ وسیع تر کرتا، اپنی ذات کو پہچانتا ، معاشرے میں بسنے والے لوگوں کو سمجھنے میں مدد پاتا، اپنے اندر اچھائی برائی کی پہچان پیدا کرتا اور کائینات کے پوشیدہ راز دریافت کرتا ہے۔
دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء اور بزرگانِ دین گزرے ہیں ، مطالعہ ان کی زندگی کا اہم اور لازمی جز تھا۔
مطالعے کی اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ، بزرگانِ دین کا شوق مطالعہ کیسا تھا ۔علم کا شوق ایک ایسی چیز ہے کہ علم کی کٹھن راہ اسی سواری پر سوار ہوکر طے کی جاسکتی ہے اور میدان علم میں جس قدر تیز رفتار یہ سواری ہے اور کوئی نہیں ۔ اس پر جو بھی سوار ہوا اس نے منزل کو پا لیا۔
وقت کی قدر: علم عروض کے موجد اور علم نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد فرماتے تھے: “اَثْقَلُ السَّاعَاتِ عَلَيَّ سَاعَة اٰكُلُ فِيْهَا” : یعنی وہ ساعتیں مجھ پر بڑی گراں گزرتی ہیں جن میں میں کھانا کھاتا ہوں۔
ہمارے اکابر علمائے کرام کا راہ چلتے مطالعہ کرنا ، اس سے بھی مطالعہ کی اہمیت کا پتا چلتا ہے ، چنانچہ حضرت علامہ ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خطیب بغدادی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ راہ چلتے بھی مطالعہ کرتے تھے تاکہ آنے جانے کا وقت ضائع نہ ہو۔
حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ نے’’ ذیل طبقات حنابلہ‘‘ میں ابو الوفاء بن عقیل کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے: ’’ میں کھانے کے وقت کو مختصر کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں، اکثر روٹی کے بجائے چورہ پانی میں بھگو کر استعمال کرتا ہوں کیونکہ روٹی اور چورہ کے استعمال میں کافی فرق ہے؛ روٹی کھانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے جبکہ چورہ کے استعمال سے مطالعہ وغیرہ کے لیے کافی وقت بچ جاتا ہے ۔
شب بیداری اور علما کا مطالعہ میں منہمک رہنا: محدث اعظم پاکستان ، سیدی ،مولانا محمد سردار احمد کی طالب علمی کا زمانہ تھا اور یہ وہ دور تھا کہ نہ ( آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مدرسہ) جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں بجلی تھی اور نہ ابھی محلہ سواد گران بریلی شریف میں بجلی آئی تھی۔ اور طلبہ تو رات کو سو جاتے لیکن حضرت محدث اعظم پاکستان رات کو بارہ، ایک بجے تک میونسپلٹی کمیٹی کے لیمپ کے نیچے کھڑے ہوکر اپنا سبق یاد فرمایا کرتے تھے۔  مطالعہ ہی کے ذریعے کوئی محدث بنا تو کوئی محقق ، توکوئی مفسر اعظم بنا۔
مطالعہ سے متعلق کچھ ضروری باتیں جو آپ حضرات کے گوش گزار کر دوں 
مطالعہ اچھی اور فائد مند کتابوں کا کیا جاۓ ، ایسی کتابوں کے مطالعے سے کوسوں دور رہیں جو اخلاق کو خراب کرنے والی ہوں یا جن کے پڑھنے سے دین کا نقصان ہوتا ہو، جن میں فاسد عقائد کی طرف دعوت دی گئی ہو۔ ایسی کتابیں بھی نہ اٹھائیں جن کے پڑھنے سے محض وقت ضائع ہوتا ہو یعنی جن میں جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں اور شہوت خیز ناول وقصے ہوں۔ ایسی کتابوں کے مطالعے میں وقت کی بربادی کے ساتھ بہت سے نقصانات بھی ہیں کہ کبھی آدمی ذہنی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے تو کبھی غم زدہ ہوکر بیٹھ جاتاہے اور کبھی انسانیت بھول کر شیطانی راہ پر چلنے لگتا ہے۔ بہت سی تحریریں انسان کو بد عقیدہ بنا دیتی ہیں اور آدمی ان کو پڑھ کر اپنے خیالات میں تبدیلی پیدا کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں اپنے دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے؛ اس لیے مطالعہ سے قبل احتیاط بہت ضروری ہے ۔

بحر حال ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بزرگانِ دین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

مرتب: محمد نور الدين ازهرى