نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ 

تمهید:حمد و ثنا اس ذات کے لیے جس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا اور تمام مخلوقات کی تخلیق سے پہلے اپنے محبوبِ اکرم، حضرت محمدﷺ کے نورِ ازلی کو تخلیق فرمایا۔ یہ حقیقتِ محمدیہ، جو تمام انوار کا منبع اور سرچشمہ ہے، کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اہل ایمان کے عقائد کا سنگ بنیاد ہے۔ ہمارا یہ پختہ ایمان ہے کہ ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہری حیثیت سے بشر ہیں تاکہ مخلوق ان کی پیروی کر سکے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ سراپا نور ہیں، جیسا کہ حق تعالیٰ خود اپنے کلام میں اشارہ فرماتا ہے: “نُورٌ عَلَى نُورٍ” (ایک نور پر دوسرا نور)۔ آئیے، اس نورانی حقیقت کو قرآن اور احادیث کے مستند حوالوں سے سمجھنے کی سعادت حاصل کریں۔
قرآن مجید کی شہادت: “نورٌ” کی وضاحت(الف) نور اور کتابِ مبیناللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ میں اہلِ ایمان پر اپنا احسان جتلاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:{قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ}
ترجمہ:بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور ایک روشن کتاب۔(سورۃ المائدہ، آیت ۱۵)مفسرینِ کرام، جیسے امام فخر الدین رازی اور امام جلال الدین سیوطی رحمہم اللہ، اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں “نور” سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے اور “کتاب مبین” سے مراد قرآن مجید۔ پس یہ واضح نص ہے کہ آپ ﷺ اللہ کا نور ہیں، جس کے ذریعہ زمین و آسمان روشن ہوئے۔) وہ ہادی جو “سراجاً مُّنِيراً” ہےجب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کے عظیم مرتبے کو بیان فرمایا تو ان کو محض سورج نہیں کہا، بلکہ چمکا دینے والا آفتاب قرار دیا۔{وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسراجاً منیراً}وَسراجاً منیراً اور ایک چمکادینے والاآفتاب اللہ ربُّ العزّت نے اپنے محبوبِ کریم ﷺ کو وہ درجہ عطا فرمایا کہ آپ کو صرف چراغ نہیں کہا گیا، بلکہ ایسا آفتاب فرمایا جو اپنی روشنی سے کائنات کو منوّر کر دے۔ جس طرح سورج اندھیروں کو مٹا دیتا ہے، ویسے ہی آقائے دو جہاں ﷺ نے کفر و شرک، جہالت و ضلالت کی صدیوں پر محیط گھٹائیں چھانٹ کر دلوں اور دماغوں کو نورِ معرفت سے جگمگا دیا۔مفسرین فرماتے ہیں کہ “سراج” کا مطلب آفتاب ہے، اور قرآن نے کئی مقامات پر سورج کو سراج کہا ہے: اس کے بارے میں صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں  :
سراج کا ترجمہ آفتاب قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ نوح میں”وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا” (نوح: 16)وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا” (النبأ: 13)مگر یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے لیے “سراجاً منیراً” فرمایا، یعنی ایسا آفتاب جس کی روشنی محض ظاہر کو نہیں، بلکہ دل و روح کی دنیا کو بھی جگمگاتی ہے۔اے کاش! ہم سوچیں کہ وہ نور کیسا ہوگا جس نے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی دنیا کو بیدار کیا؟ وہ ہدایت کیسی ہوگی جس نے بھٹکے قافلوں کو منزل دکھائی؟ وہ جمال کیسا ہوگا جس نے ارواح و قلوب کو اپنی تجلیات سے روشن کر دیا؟حقیقت میں، حضور ﷺ کا وجودِ اقدس ایسا آفتابِ عالم تاب ہے جس کی ایک کرن ہزاروں آفتاب پر بھاری ہے۔ آپ کا نور زمین و آسمان، ظاہر و باطن، جسم و جان سب پر محیط ہے۔ اسی لیے قرآن نے آپ کومُنیر کہا، یعنی وہ ہادی جس کا فیض کبھی مدھم نہیں پڑتا، جو ظلمتوں کو کاٹ کر انوارِ حق کو آشکار کرتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر سورج دن کو روشن کرتا ہے تو مصطفیٰ ﷺ کا نور ہر زمانے، ہر دل اور ہر روح کو قیامت تک روشن کرتا رہے گا۔
حدیثِ نبوی کی روشنی میں: نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت
(الف) تخلیق میں اولیتِ نور محمدیحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کس چیز کو پیدا فرمایا؟آپ ﷺنے فرمایا:{يَا جَابِرُ، أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ نُورِي}
ترجمہ: “اے جابر! سب سے پہلے اللہ نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔”یہ مشہور حدیث “حدیثِ جابر” کہلاتی ہے، جسے مختلف محدثین و ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نورِ محمدی ﷺ ہی کائنات کے تخلیق کی اساس ہے۔
اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت اپنے اشعار میں فرماتے ہیں 
 بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوانورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی                              
 سب سے اوّل سب سے آخر ابتدا ہوانتہا ہو
وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر                    
  اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اسکی طرف گئے تھے                                        
(ب) جسمِ اطہر سے نور کا فیضا ن حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:{فَلَمَّا دَخَلَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ}ترجمہ:جب آپﷺ (مدینہ میں) داخل ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی۔(سنن ترمذی)
یہ صرف ہدایت کی روشنی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ اطہر سے نکلنے والاحقیقی نور تھا جس نے مدینہ کو جگمگا دیا۔ اسی لیے علماء نے ذکر کیا کہ حضور ﷺ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا، کیونکہ نور کا سایہ نہیں ہوتا جسکی عکاسی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت اپنے اشعار میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
تو ہے سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا 
نور کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا 
یا الٰہی سرد مہری پر ہو جب خورشید حشر 
سید بے سایہ کے ظل لوا کا ساتھ ہو
خلیفہ مفتئی اعظم ہند امانت اعلی حضرت علامہ قاری امانت رسول رحمۃ اللہ علیہ اپنے اشعار میں فرماتے ہیں۔
 ثانی نہیں اور نہ سایہ رسول کا 
بے مثل بے مثیل ہے رتبہ رسول کا 
خاتمہ:یہ حقیقت ابدی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ ہی وہ نور ہیں جن سے کائنات کو روشنی ملی اور دلوں کو ہدایت۔ قرآن و حدیث اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ آپﷺللہ کے برگزیدہ نور ہیں، جن کے بغیر دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔
اے اللہ! ہمیں نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی معرفت عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے محبوب کے عشق اور ان کی اطاعت کے نور سے منور فرما۔
یا رب! ہمیں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عطا کر اور روزِ محشر اپنے حبیب کے جھنڈے تلے جمع فرما۔
اے اللہ! ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شفاعت نصیب فرما اور اُن کے نور سے ہمارے قبر و دل کو روشن فرما۔
اے کریم! اس تحریر کو ہمارے لیے باعثِ ہدایت اور ذریعۂ برکت بنا اور اسے قبولیت کا شرف عطا فرما۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنا و مولانا محمدٍ النور وآلہ و اصحابہ اجمعین، برحمتک یا ارحم الراحمین
مرتب: محمد مبشر رضا امانتی