حضرت مفتی صاحب قبلہ
سلام و رحمت
آپ کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ واشنگ مشین میں ناپاک کپڑوں کے دھونے اور پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی : احمد رضا نیا پوروہ ،نزد شہر بہرائچ شریف یوپی
الجواب بعون الملک الوھاب وھوالھادی الی الحق والصواب۔ شریعت اسلامیہ میں ناپاک کپڑوں کے پاک کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ اگر نجاست مرئ ہو تو پہلے اسے کپڑوں سے دور کر لیا جائے پھر انہیں تین مرتبہ دھوکر اچھی طرح نچوڑ لیا جائے اور اگر نجاست غیر مرئ ہو تو کپڑوں کو صرف پاک پانی سے تین مرتبہ دھوکر خوب اچھی طرح نچوڑ لیا جائے کہ پانی کا ٹپکنا بند ہوجائے، ناپاک کپڑے پاک ہوجائیں گے اور نچوڑنے میں دھونے والے کی طاقت کا اعتبار ہوگا نہ کہ پہننے والے کا ، اب اگر ان کپڑوں کو واشنگ مشین میں دھلنا ہو تو سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ واشنگ مشین میں صرف ناپاک کپڑے ہی ایک ساتھ ڈالے جائیں ان کے ساتھ پاک کپڑے نہ ڈالے جائیں اور ناپاک کپڑوں کو ڈالنے سے پہلے کپڑوں پر لگی نجاست کو دور کر لیا جائے اگر ممکن ہو پھر انہیں واشنگ مشین میں ڈال کر دھویا جائے اور پھر باہر نکال کر تین پانی سے دھو کر اچھی طرح نچوڑا جائے اور اگر اسپینر مشین میں ڈال کر ہی انہیں کھنگالنا ہو تو اسپینر مشین میں پائپ سے اس وقت تک پانی بہایا جائے کہ صاف پانی آنے لگے پھر پانی بند کردیا جائے اور اسپینر کو چلنے دیا جائے کہ کپڑوں سے پانی نکل کر بہ جائے ، اس طرح تین بار کرلیا جائے تاکہ پاکی میں شبہ نہ رہے ، اور اگر اسپینر اس طرح ہے کہ اس کے دراج میں پانی رہ جاتا ہے اور کپڑوں سے لگتا رہتا ہے تو پھر ایسے اسپینر میں ناپاک کپڑے پاک نہ ہونگے لہذا کپڑوں کو نکال کر باہر تین مرتبہ کھنگالا جائے اور ہر بار اچھی طرح نچوڑا جائے تب کپڑے پاک ہوں گے۔
اگر پاک اور ناپاک کپڑے ایک ساتھ واشنگ مشین میں یا باہر ٹپ وغیرہ میں بھگو کر دھلے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پاک کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں ، اس لئے جہاں تک ہو سکے اس طرح نہ کیا جائے تاکہ بلاضرورت پاک کپڑے ناپاک نہ ہوں ، اگر کسی وجہ سے ایسا کرنا پڑے تو پھر سارے کپڑوں کو اسی طریقے پر پاک کیا جائے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح (ص: 161)
“و” يطهر محل النجاسة “غير المرئية بغسلها ثلاثاً” وجوباً، وسبعاً مع الترتيب ندباً في نجاسة الكلب خروجاً من الخلاف، “والعصر كل مرة” تقديراً لغلبة.یعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثاً إنما هو إذا غمسه في إجانة، أما إذا غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماءً كثيراً بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثاً فقد طهر مطلقاً بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار، والمعتبر فيه غلبة الظن، هو الصحيح، كما في السراج، ولا فرق في ذلك بين بساط وغيره، وقولهم يوضع البساط في الماء الجاري ليلةً إنما هو لقطع الوسوسة”۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 331)
” (و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لا يقطر۔ ۔ ۔ وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار. أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به، أو مع شرط التثليث على ما مر، ولا شك أن الغسل بالماء الجاري وما في حكمه من الغدير أو الصب الكثير الذي يذهب بالنجاسة أصلاً ويخلفه غيره مراراً بالجريان أقوى من الغسل في الإجانة التي على خلاف القياس ؛ لأن النجاسة فيها تلاقي الماء وتسري معه في جميع أجزاء الثوب فيبعد كل البعد التسوية بينهما في اشتراط التثليث، وليس اشتراطه حكماً تعبدياً حتى يلتزم وإن لم يعقل معناه، ولهذا قال الإمام الحلواني على قياس قول أبي يوسف في إزار الحمام: إنه لو كانت النجاسة دماً أو بولاً وصب عليه الماء كفاه، وقول الفتح: إن ذلك لضرورة ستر العورة كما مر، رده في البحر بما في السراج، وأقره في النهر وغيره. (قوله: في غدير) أي: ماء كثير له حكم الجاري. (قوله: أو صب عليه ماء كثير) أي: بحيث يخرج الماء ويخلفه غيره ثلاثاً ؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر، هو الصحيح، سراج. (قوله: بلا شرط عصر) أي: فيما ينعصر، وقوله: ” وتجفيف ” أي: في غيره، وهذا بيان للإطلاق”
واللہ اعلم وعلمہ أتم واحکم