واقعۂ تصنیف کچھ یوں ہے کہ مصنف رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ... "ایک رات مجھے خواب میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے گرد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حلقہ بنائے کھڑے ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
"وہ منظومہ پڑھو جسے جو شخص حفظ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور کتاب و سنت کے مطابق اسے خیرِ کثیر عطا فرمائے گا۔"
میں نے عرض کیا: "یارسول اللہ! وہ منظوم کون سی ہے؟"
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: "رسول اللہ جو ارشاد فرمائیں، اسے توجہ سے سنو۔"
اس کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے "أبدأ باسم الله والرحمن" سے پوری منظومہ ابتدا سے انتہا تک پڑھ کر سنائی۔
جب میری آنکھ کھلی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری منظومہ میرے حافظے میں محفوظ تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ خواب میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم کی زیارت ہوئی۔ رسول كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "جو کچھ تم نے یاد کیا ہے، وہ میرے سامنے پڑھو۔"
چنانچہ میں نے ابتدا سے آخر تک پوری منظومہ پڑھ کر سنائی، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہر شعر کے بعد "آمین" کہتے رہے۔ منظومہ مکمل ہونے پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے میرے لیے اور اس منظومہ کے پڑھنے والوں کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول فرمائے، اس میں برکت عطا کرے اور اس کے ذریعے اہلِ ایمان کو نفع پہنچائے۔ بعد میں اہلِ علم کی خواہش پر میں نے اس منظومہ میں مزید اشعار کا اضافہ کیا، یہاں تک کہ یہ اپنی موجودہ مکمل صورت میں مرتب ہوگئی۔
اللهم علّمنا ما ينفعنا وانفعنا بما علمتَنا وزدنا علما وارزقنا الاخلاص والعمل به واجعلنا من اهل العلم وخدام دينك.. آمين يارب العالمين
#ابن_اشرف