Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Islamic

اطلبوا العلم ولو كان بالصين

Mohd Qasim Jul 26, 2026 10 Views 1 min read
اطلبوا العلم ولو كان بالصين.

اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔
مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں موجود ہے۔ جن میں بعض بعض کو تقویت بخشتی ہیں۔ تو اس حدیث پر موضوع کا حکم کیوں کر درست اگرچہ ضعیف سے ضعیف تر ہو سکتی ہے۔

مختصرا۔۔۔۔۔
اس حدیث کو امام بیھقی نے اپنی کتاب شعب الایمان میں نقل کرنے کے بعد فرمایا:
ھذا حديث متنه مشهور، وإسناده ضعيف. وقد روي من أوجه كلها ضعيف.
یہ ایسی حدیث ہے جس کا متن مشہور ہے اور اس کی اسناد ضعیف ہیں، اور اس کو متعدد وجوہ سے روایت کیا گیا ہے سب کی سب ضعیف ہیں۔
(شعب الایمان ۔طلب العلم)
کشف الخفاء میں وھو ضعیف کہا، ابن حبان کے باطل کا قول بھی نقل کیا۔
آگے فرماتے ہیں: حافظ المزی نے اس کے متعدد طرق بیان کیے۔
مزید آگے فرماتے ہیں: امام ذھبی نے تلخیص الواحیات میں فرمایا: کئی سندوں سے مروی ہے جن میں بعض سندیں کمزور ہیں اور بعض قابل قبول ہیں۔
(کشف الخفاء۔ حرف الھمزہ)

اعلی حضرت فرماتے ہیں:
افادہ بارہ: (تعدد طرق سے حدیث ضعیف قوت پاتی بلکہ حسن تک ہو جاتی ہے)
مرقاۃ میں ہے:
تعدد الطرق يبلغ الحديث الضعيف الى حد الحسن
متعدد روایتوں سے آنا حدیث ضعیف کو درجۂ حسن تک پہنچا دیتا ہے
(فتاوی رضویہ مترجم جلد ٥ ص ٤٧٢)
سیدی اعلی حضرت تعقبات کے حوالے سے فرماتے ہیں: حديث اطلبوا العلم و لو بالصين ، فيه ابو عاتكة منكر الحديث قلت لم يجرح بكذب و لا تهمة
حدیث علم حاصل کرو اگر چہ چین جانا پڑے اس کی سند میں ابو عاتکہ منکر الحدیث ہے میں کہتا ہوں اس پر کذب اور تہمت کا طعن نہیں ہے۔
(فتاوی رضویہ مترجم، جلد ٥ ص ٤٦٧)
اور اگر مان لیا جائے کہ اس حدیث کا مدار صرف کذاب پر ہو۔ (حالانکہ ایسا نہیں) تو فتاوی رضویہ شریف سے اس کا روشن بیان ملاحظہ فرمائیں۔
افادہ دس میں (موضوعیت حدیث کیوں کر ثابت ہوتی ہے) کے تحت پندرہ امور بیان کرتے ہیں۔ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد ٥ ص ٤٦٠)
آگے فرماتے ہیں : انکار محض یعنی بے امور مذکورہ کے اصلا حکم وضع کی راہ نہیں اگرچہ راوی وضاع، کذاب ہی پر اس کا مدار ہو (ایضا ص ٤٦٢)
آگے افادۂ گیارہ میں فرماتے ہیں: (بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایک سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث) جو فی نفسہ ان پندرہ دلائل سے منزہ ہو محدث اگر اس پر حکم وضع کرے تو اس سے نفس حدیث پر حکم لازم نہیں بلکہ صرف اس سند پر جو اس وقت اس کے پیشِ نظر ہے، بلکہ بارہا اسانید عدیدہ حاضرہ سے فقط ایک سند پر حکم مراد ہوتا ہے یعنی حدیث اگرچہ ثابت ہے، مگر اس سند سے موضوع و باطل اور نہ صرف موضوع بلکہ انصافا ضعیف کہنے میں بھی یہ حاصلِ حاصل، ائمہء حدیث نے ان مطالب کی تصریحیں فرمائیں تو کسی عالم کا حکم وضع یا ضعف دیکھ کر خواہی نخواہی یہ سمجھ لینا کہ اصل حدیث باطل یا ضعیف ہے، ناواقفوں کی فہم سخیف ہے (فتاوی رضویہ مترجم، جلد ٥ ص ٤٦٨)
آپ نے ان بیانات پر دلائل و براہین بھی پیش فرمائے ہیں تفصیل کے لیے رسالہ منیر العین ملاحظہ فرمائیں۔
سبحان اللّٰہ!
مذکورہ حدیث کے متعدد طرق کا ذکر ائمہ کرام سے منقول تو اس کو موضوع قرار دینا کم علمی اور مطالعہ میں کنجوسی کی دلیل۔ مزید یہ کہ حدیث قرآن و حدیث، عقل و نقل کے خلاف بھی نہیں بلکہ اس میں حصول علم پر ابھارنا مقصود جو کہ شریعت کو مطلوب۔
پھر اس کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا، اور روکنا کیوں کر درست۔

✍️ محمد قاسم القادری گھوسوی