Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Daur e hazir

‎نوجوانوں میں طلاق کے پھیلنے کے اسباب

محمد سلیمان رضا مصباحی Aug 02, 2026 15 Views 1 min read
‎بلاشبہ خاندان معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب خاندان درست اور مضبوط ہوتا ہے تو معاشرہ بھی درست رہتا ہے، اور جب خاندان بگڑ جاتا ہے تو معاشرہ بھی بگڑ جاتا ہے۔ موجودہ دور میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان ان خطرناک مسائل میں سے ایک بن چکا ہے جو نوجوانوں کی زندگی اور خاندانوں کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان طلاق کی شرح نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
‎تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا مسئلہ کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ دینی، سماجی، معاشی، نفسیاتی اور ثقافتی عوامل کے مجموعے سے پیدا ہوتا ہے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق جدید طرزِ زندگی، مادہ پرستی، انفرادیت پسندی، غیر حقیقی توقعات اور خاندانی نظام میں آنے والی تبدیلیوں نے ازدواجی تعلقات کو پہلے کی نسبت زیادہ متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی اختلافات بھی بعض اوقات علیحدگی اور طلاق تک پہنچ جاتے ہیں۔
‎طلاق کے پھیلنے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک دینی کمزوری اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے، کیونکہ اسلام نے میاں بیوی کے درمیان محبت، رحمت، صبر، حسنِ معاشرت اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ جب زوجین دینی تعلیمات سے غفلت برتتے ہیں تو معمولی اختلافات بھی شدید تنازعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایک اور اہم سبب شادی سے پہلے مناسب انتخاب نہ کرنا ہے، کیونکہ بہت سے نوجوان صرف مال، خوبصورتی یا دنیاوی حیثیت کو اہمیت دیتے ہیں اور اخلاق، دینداری، کردار اور باہمی مزاج کی موافقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
‎اہم اسباب میں یہ بھی شامل ہیں کہ گھر والوں کی میاں بیوی کی زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت، آپس میں باہمی سمجھ بوجھ کا نہ ہونا، جلد غصہ آ جانا، برداشت کی کمی، گفتگو اور مشاورت کا فقدان، اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال، جو شک و شبہ، بداعتمادی اور باہمی اختلافات کو جنم دیتا ہے۔ اسی طرح موبائل فون اور انٹرنیٹ پر غیر ضروری مصروفیت کی وجہ سے میاں بیوی ایک دوسرے کو مناسب وقت نہیں دے پاتے، جس سے محبت، اعتماد اور جذباتی وابستگی کمزور پڑ جاتی ہے۔
‎نفسیاتی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد مؤثر ابلاغ، باہمی اعتماد، جذباتی ہم آہنگی، برداشت اور اختلافات کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔ جہاں یہ اوصاف کمزور ہوں وہاں ازدواجی تعلقات میں کشیدگی بڑھتی ہے اور طلاق کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
‎اسی طرح معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور مالی دباؤ بھی ازدواجی زندگی کے استحکام پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، کیونکہ جب شوہر گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے یا مالی معاملات میں مسلسل پریشانی رہتی ہے تو گھریلو مسائل اور جھگڑے بڑھنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات فضول اخراجات، غیر ضروری خواہشات اور دوسروں کی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید بھی ازدواجی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔
‎طلاق کے بڑھنے کی ایک وجہ شادی سے پہلے ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں سے ناواقفیت بھی ہے۔ بہت سے نوجوان نکاح کو صرف ایک رسم یا وقتی خوشی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ایک مضبوط عہد اور عظیم ذمہ داری ہے، جس کے لیے صبر، قربانی، تعاون، ایثار اور ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔ اسی طرح جلد بازی میں فیصلے کرنا، انا اور ضد کو ترجیح دینا، ایک دوسرے کو معاف نہ کرنا اور اختلافات کو بروقت حل نہ کرنا بھی طلاق کے اہم اسباب میں شامل ہے۔
‎بعض خاندانوں میں بچوں کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت نہ ہونے کے باعث بھی نوجوان ازدواجی زندگی کے آداب سے ناواقف رہتے ہیں۔ اسی طرح نشہ آور اشیاء کا استعمال، گھریلو تشدد، بدزبانی، بے وفائی اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی ازدواجی رشتے کو کمزور کر دیتی ہے اور بالآخر طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
‎تحقیقی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ شادی سے پہلے ازدواجی رہنمائی (Pre-marital Counseling) نوجوانوں کو حقوق و فرائض، باہمی ذمہ داریوں، گھریلو معاملات کی منصوبہ بندی اور اختلافات کے مناسب حل سے آگاہ کرتی ہے، جس سے طلاق کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جن خاندانوں میں دینی و اخلاقی تربیت، باہمی احترام، مثبت خاندانی ماحول اور بزرگوں کی معتدل رہنمائی موجود ہو، وہاں ازدواجی زندگی زیادہ مستحکم رہتی ہے۔
‎اسلامی نقطۂ نظر سے نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مضبوط اور مقدس عہد ہے، جس کی بنیاد محبت، رحمت، عدل، حسنِ اخلاق اور ذمہ داری پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، باہمی مشاورت، صبر، درگزر اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتے ہیں، جو ایک کامیاب اور پائیدار ازدواجی زندگی کی اساس ہیں۔
‎اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان دینی تعلیمات پر عمل کریں، شادی کے وقت اچھا اور مناسب انتخاب کریں، نکاح سے پہلے ازدواجی ذمہ داریوں سے آگاہی حاصل کریں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں، صبر، برداشت اور حکمت سے کام لیں، اور باہمی گفتگو، مشاورت، افہام و تفہیم اور معافی کے جذبے کے ذریعے مسائل کو حل کریں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں اور شادی کے بعد ان کی زندگی میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔ اگر اختلافات سنگین صورت اختیار کر جائیں تو اہلِ علم، بزرگوں یا معتبر مشیروں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے تاکہ مسئلہ طلاق تک نہ پہنچے۔
‎آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ طلاق اگرچہ بعض حالات میں شرعاً جائز ہے، لیکن بلا ضرورت اس کا اختیار کرنا پسندیدہ نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کو محبت، اعتماد، احترام، ایثار، حسنِ اخلاق اور دینی اقدار کی بنیاد پر استوار کرے، تاکہ خاندان خوشحال، پُرسکون، مضبوط اور مستحکم رہے، کیونکہ مضبوط خاندان ہی ایک صالح، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔اگر یہ مقابلۂ مضمون نویسی، کالج یا یونیورسٹی کے لیے ہے تو اس میں قرآنی آیات، احادیث، اقوالِ علماء اور حوالہ جات شامل کرکے اسے مزید تحقیقی اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔