Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Shakhsiyaat

حضور تاج الشریعہ علماء عرب و عجم کی نظر میں

محمد قاسم القادری گھوسوی Aug 02, 2026 14 Views 1 min read
حضور تاج الشریعہ علماء عرب و عجم کی نظر میں

خاکدان گیتی پر یوں تو نہ جانے کتنے آئے اور چلے گئے نہ جانےکتنے آئیں گے چلے جائیں گے۔ لیکن انھیں آنے والوں میں کچھ ایسی نابغہ روزگار شخصیات بھی آئیں جنھوں نے افق عالم پر ایسے نقوش چھوڑے جن کا تذکرہ صبح قیامت تک ہوتا رہے گا ۔
 الحمد للہ ! اللہ رب العزت نے ہندوستان کی سر زمیں پر ایک ایسے خاندان کو بھیجا جس خاندان کی علمی خدمات کا ایک جہاں  کو اعتراف ہے۔ اور وہ خاندان ،خاندان اعلی حضرت ہے۔ کئی سو سالوں سے یہ خاندان دین متین کی خدمات انجام دے رہا ہے۔
 میرا موضوع سخن جانشین حضور مفتئ اعظم سرکار تاج الشریعہ کی ذات سطودہ صفات ہے۔ آپ ہمہ جہت شخصیت تھے، قطع نظر اس سے کہ خاندان و سجادگی کی وجہ سے کچھ لوگ مرتبہ حاصل کرتےہیں، لیکن اس ذاتِ گرامی نے خاندان و سجادگی کے دم پر نہیں بلکہ خدا داد صلاحیت، علم و حکمت کی جولانیت سے اپنی شخصیت کو منوایا۔
 اس ذاتِ گرامی کے حسن و جمال کا عالم یہ تھا کہ جس کی بھی نظر پڑ جاتی ہٹنے کا نام نہیں لیتی آپ کے حسن و جمال میں وہ ملاحت تھی کہ آنکھیں ٹھہر جایا کرتی تھیں۔ اسی حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدا لعزیز حسنی شامی فرماتے ہیں: "ساحدثکم عن الشمس التی اذا طلعت اختفت کل نجوم''’’ یعنی میں اس چڑھتے سورج کا ذکر کروں کہ جب وہ طلوع ہوتاتھا تو اس کے سامنے تمام تارے ماند پڑ جاتے تھے"۔ آگے آپ کی فقہات و جلالت کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں:"اور اسلام ان ریاستوں میں محمد اختر رضا خان کو جب دیکھتے ہیں تو سب سے بلند ان کا نام نظر آتا ہے۔ وہ بر اعظم ہند کے مفتی ہی نہ تھے ،وہاں کے چیف جسٹس بھی تھے۔ اور وہ امام اہل سنت بھی تھے"۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں :"ان کا فیض ہم پر جاری ہے"۔
 سرکار تاج الشریعہ جب محافل میں شرکت فرماتے تھے اس وقت کیا کیفیت ہوا کرتی تھی، آپ کی شان و عظمت کا ترانہ ملک شام کے شیخ عامر اخلاق شامی یوں گاتے نظر آتے ہیں: "جب ہم ہندوستان گئے ہم وہاں مفتی محمد اختر رضا ازہری قادری مفتی اعظم ہند سے ملاقات کئے"۔"سن ۲۰۰۹ ء میں میں نے ہند کا سفر کیا وہاں پر جب میں پہنچا تو وہاں پر مفتی اعظم ہند تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی اور وہاں پر اس وقت عرس اعلی حضرت کی تقریبات جاری تھیں ہماری مسجدوں میں جو محفلیں ہوتی ہیں اس میں عوام بہت زیادہ ہو جائے تو پانچ ہزار ہوتے ہیں۔ لیکن وہاں پر مسجد (محفل) میں جمع ہونے والوں کی تعداد ۲۵۰۰۰ ہزار سے بھی زیادہ تجاوز کرتی تھی"آگے اپنی حیرت و استعجاب کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے ہیں" ھناک وجدت تعظیما لسیدنا رسول اللہ ﷺ" "میں نے وہاں حضور ﷺ کی جوتعظیم ہوتے ہوئے دیکھی اور کہیں نہیں ملتی" "وہاں میں نے جو تعظیم رسول ﷺ کو دیکھا یہ اثر تھا مفتی محمد اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ کے وجود کا ان کی تعلیم کا اثر تھا وہاں پر عشق رسول کی جوشمع جل رہی تھی اس کی مثال نظر نہیں آتی"۔
 "ہم وہاں پر حضور حضور تاج الشریعہ کی سر پرستی میں خطاب کرتے تھے جیسے ہی ہم کہتے تھے قال رسول اللہ ﷺ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ یعنی جہاں پرسرکار دوعالم ﷺ کا نام مبارک آتا پورا مجمع جھوم کر بلند آواز میں ایک آواز ہو کر آقا علیہ السلام پر درود پڑھتا تھا۔ کہ ہمیں اپنی گفتگو کو لازما روکنا پڑتی تھی۔ میں نے وہاں پر دیکھا جتنا بھی مجمع ہوتا سب کے سب ادب کے ساتھ سر ڈھانپ کر بیٹھتے عام آدمی بھی ایسا کرتا اگر کسی  کے پاس ٹوپی نہیں بھی ہوتی وہ رومال سے اپنے سر کو ڈھانپ لیتا تھا۔ آپ نے ہند میں دین کا بہت کام کیا۔ حضورتاج الشریعہ جب ہوائی جہاز کا سفر فرماتے تب بھی علماء ان کے گرد ہوتے وہ ہوائی سفر میں بولتے جاتے علماء ان کے لفظوں کو لکھتے جاتے ، علم کی روشنی جہاز میں بھی بکھیرتے تھے"۔

شیخ جمیل بن عارف حسینی شافعی فلسطینی نے حضور تاج الشریعہ کے لئے شیخ الاسلام و المسلمین ، عارف باللہ اور شیخ کامل جیسے القاب کا استعمال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:"حضور تاج الشریعہ کی ذات وہ ذات ہے جن کے توسل سے دعائیں مانگی جائیں تو اللہ تعالی انھیں ضرور قبول فرمائے گا"۔

احسن العلما علامہ سید حسن حیدر میاں، مارہرہ شریف:۔ 14۔15 نومبر  1984 کو مارہرہ مطہرہ میں عرسِ قاسمی کی تقریب میں حضرت احسن العلما علامہ سید حسن حیدر میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ (علیہ الرحمہ ) نے جانشینِ مفتیٔ اعظم کا استقبال"قائم مقام مفتیٔ اعظم علامہ ازہری میاں زندہ باد"کے نعرہ سے کیا اور مجمع کثیر میں علما و مشائخ اور فضلاو دانش وروں کی موجودگی میں یوں کہہ کرخلافت دی۔

 حضرت سید علاء الدین گیلانی پاکستان :آپ نے حضور تاج الشریعہ کی شان میں ایک شعر عربی میں پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا ‘‘اختر رضا ستاروں کی طرح تابندگی بکھیرے گا’’۔

سید شاہ تراب الحق علیہ الرحمہ فرماتےہیں ‘‘ہند و پاک میں ہماری مرکزی شخصیت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خان صاحب رضوی دامت برکاتہم العالمیہ ہیں جو نائب مفتی اعظم ہند کے نام سے پہچانے جاتے ہیں’’۔
مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن، اڑیسہ:ایک صاحب کی والدہ حضور مجاہدِ ملت سے مرید ہونا چاہتی تھی، آپ نے فرمایا: میاں!سرکار اعلیٰ حضرت کے شہزادے حضرت ازہری میاں کی موجودگی میں ایسا کیسے  ہو سکتا ہے کہ میں مرید کروں ،انھیں سے مرید کروائیے۔ 

سید محمد مدنی میاں اشرفی کچھوچھوی فرماتے ہیں۔ ‘‘ازہری صاحب نے دین و سنیت اور رشد و ہدایت کی جو خدمات انجام دی ہیں، یقینا وہ تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے’’۔

حضرت سید محمد اسماعیل گلزار میاں واسطی،مسولی شریف:۔حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ کا انتخاب(حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ) لاجواب ہے یہی وجہ ہے کہ آج تنہا ایک میرے شیخ اعظم حضور تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ کا ڈنکا بج رہا ہے اور جو مقدس درویش قطب زماں مفتی اعظم کے انتخاب تاج الشریعہ دامت برکاتہم العالیہ پر انگلی اٹھاتا ہے، وہ درحقیقت مفتی اعظم اور اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ پر انگلی اٹھاتا ہے۔(اقتباس تقریر)۔
عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر آصف اشرف جلالی فرماتے ہیں: 

ہمیں اسلاف کا ورثہ دیا اختر رضا خاں نے
حقائق کو دو بالاکر دیا اختر رضا خاں نے

جسے بھی حضرت اقدس سے نسبت ہو گئی کامل
معارف سے اسی کو بھر دیا اختر رضا خاں نے

نیز فرماتے ہیں: "آپ باطل کے مقابلے میں حق کی بہت بڑی چٹان تھے۔ آپ کی ہمہ جہت خدمت کی وجہ سے آپ کو امام احمد رضا خاں ثانی کہا جاتا ہے۔ بالخصوص مدینہ منورہ میں مواجہ شریف پر آپ کی معیت میں حاضری میرے لیے عظیم توشہ آخرت ہے"دوسری جگہ فرماتے ہیں "یوں مجھے مہبط وحی مکہ مکرمہ میں حضور تاج الشریعہ سے خصوصی تلمذ کا شرف حاصل ہوا"

سید نجیب حیدر حسن صاحب مارہرہ شریف فرماتے ہیں:"آپ عظیم محقق اور اعلی حضرت کے علوم کے سچے وارث ہیں"۔

علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی عقیدت کا اظہار فرماتے ہیں: "بلا شبہ وہ ایک فرد ہی تھے مگر اپنی ذات میں ایک جمعیت۔ انھوں نے اپنی نسبتیں خوب نبھائیں اور خلقت نے ان کی متابعت کی۔ وہ اپنے خاندان ہی کی نہیں بلکہ مسلک حق کی بھی آبرو تھے"۔

 اللہ تعالی بطفیل حضور تاج الشریعہ ہمارے دامن کو گوہر مراد سے بھر دے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم

✍️    عبید تاج الشریعہ
محمد قاسم القادری گھوسوی