*اعلی حضرت بحیثیت ماہرِ بحریات (Oceanographer)*
پروردگار عالم نے کائنات ہستی کو پیدا فرمایا اس میں قسم قسم کے عجائب و غرائب کو رکھا۔ گردش لیل و نہار، رنگ و بوئے گل و گلزار، سحر انگیز نغمات آبشار، پہاڑوں کی ہیبت و وقار، فضا کی دلکش بہار، سمندروں کی گہرائی و اسرار، موجوں کا تموجِ بے کنار، پرندوں کی دل نواز چہچہاہٹ، ستاروں کی درخشاں جھلملاہٹ، چاند کی دل آویز چاندنی، سورج کی تابندہ کرنیں غرضیکہ کہ کائنات کو حسن و جمال کا پیرہن عطا فرما کر
ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ
"بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔"
اپنی قدرت کاملہ میں عقل والوں کو غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا:
قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ
"فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے"
کائناتِ لیل و نہار اپنے دامن میں بے شمار عجائب، لاتعداد اسرار اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی ان گنت نشانیاں سموئے ہوئے ہے۔ ہر دور میں اہلِ عقل و دانش نے اپنی اپنی فہم و فراست، استعداد اور زاویۂ نگاہ کے مطابق اس وسیع کائنات میں غور و فکر کیا، اس کے اسرار کو جاننے کی کوشش کی اور اس کے حقائق تک رسائی حاصل کرنے کا عزم کیا۔
تاہم غور و فکر کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے، کیونکہ ہر شخص کا معیارِ فکر اور میزانِ تحقیق مختلف تھا۔ بعض لوگوں نے اپنی محدود عقل، ناقص تجربے اور محض انسانی قیاس کو فیصلہ کن معیار بنایا۔ چنانچہ کبھی وہ حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اکثر اوقات عقل کی محدودیت کے باعث راہِ حق سے ہٹ گئے، شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے یا ایسے نظریات قائم کیے جو بعد میں باطل ثابت ہوئے۔
اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی عقل کو وحیِ الٰہی کی رہنمائی کے تابع رکھا، قرآنِ مجید کو ہدایت کا سرچشمہ اور سنتِ نبوی ﷺ کو معیارِ فکر و نظر بنایا، ان کا غور و فکر انہیں حقیقت، بصیرت اور صوابِ رائے تک لے گیا۔ ان کے نزدیک کائنات کا مطالعہ محض سائنسی تحقیق یا مادی انکشاف کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور وحدانیت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار انسان کو آسمانوں، زمین، پہاڑوں، سمندروں، ستاروں، سورج، چاند، نباتات، حیوانات اور خود اپنی ذات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ ان نشانیوں کے ذریعے اپنے خالق کو پہچانے اور اس کی عظمت و کبریائی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
پس صحیح غور و فکر وہی ہے جس کی بنیاد عقلِ سلیم کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کی روشن تعلیمات پر ہو، کیونکہ وحی وہ نور ہے جو عقل کو صحیح سمت عطا کرتا ہے، اور یہی امتِ مسلمہ کے فکر و نظر کا امتیاز ہے۔
انہیں نابغہ روزگار شخصیات میں تابندہ اور روشن نام امام عشق و محبت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے۔ جنہوں نے جس فن میں قدم رکھا علم و حکمت کے دریا بہا دیئے۔ اس مضمون میں ہم ان کو بحیثیت بحری سائنسدان )Oceanographer( دیکھیں گے کہ کس طرح اعلی حضرت نے صرف عقل کے پیمانہ پر تحقیق کرنے والوں کے نظریات کو پارہ پارہ کردیا۔ اور قرآن و حدیث سے حق کو ثابت و روشن کر دیا۔
سمندروں میں اٹھنے والی لہروں کو مدّ و جزر (hight tide/low tide) کہتے ہیں۔ سائنس اس کا سبب چاند کو قرار دیتی ہے۔ جیسا کہ NASA نے اپنی ویب سائٹ https://science.nasa.gov/moon/tides/ پر اسے واضح طور پر لکھا ہے
When the Moon’s gravity pulls at Earth, the water doesn’t float outward, it just gets pushed and squeezed around on the globe, directed by both gravitational pull and other forces, until it ultimately ends up bulging out on the side closest to the Moon and the side farthest away.
جب چاند کی کشش (gravity) زمین پر اثر انداز ہوتی ہے پانی ہوا میں نہیں اٹھ جاتا ہے۔ بلکہ کشش اور دوسری طاقتوں کی وجہ سے زمین پر ادھر ادھر منتقل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ چاند کے قریبی حصے میں مد و جزر (tides) ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے مخالف والے حصے پر بھی مد و ہوتا ہے۔
سائنس کے اس نظریہ کہ "سمندروں میں لہریں چاند و سورج کی کشش کے سبب اٹھتی ہیں" کا اعلی حضرت نے دلائل و براہین سے ابطال فرمایا اور قرآن و حدیث سے اثبات فرمایا کہ یہ لہریں در حقیقت سمندروں کے اندر آتشی مادے کی حرارت (Geothermal Heat) کی وجہ سے اٹھتی ہیں۔
سائنس کی ایک ایک دلیل کو اعلی حضرت کس طرح باطل کرتے ہیں اور ایراد قائم کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔
سائنس کہتی ہے پانی کو چاند کھینچتا ہے اور زمین کی دوسری سمت کے پانی کو مرکز گریز قوت (Centrifugal force) کھینچتا ہے۔
اعلی حضرت نے اس نظریہ کا رد فرماتے ہوئے لکھا: چاند زمین کے ایک طرف ہوگا (یعنی پورب سمت میں) دوسری طرف ( یعنی پچھم سمت میں) پانی کس نے کھینچا؟ یہ تو جذب attractions) نہ ہوا بلکہ دفع (repulsion) ہوا۔ (یعنی پورب سمت کا پانی تو چاند نے کھینچا تو اس میں مد پیدا ہوا لیکن پچھم سمت کے پانی کو پورب سمت سے کھینچنے کی وجہ سے مد پیدا نہیں ہونا چاہیے بلکہ پانی کو سطح سے اور کم ہونا چاہیے)
اعلی مزید فرماتے: اگر کشش ماہ سے مد (lunar tide) ہوتا ہے تو چھوٹے پانیوں میں مد کیوں نہیں ہوتا۔ چاند جس پانی کے سامنے آئے گا اسے کھینچے گا اس کے جواب میں اصول ہییات نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اور کہا یہ کسی مقامی سبب سے ہے۔
سائن عاجز آتی ہے تو کہتی ہے تالاب وغیرہ کے پانی میں لہر اس لیے پیدا نہیں ہوتی کیوں کہ اس کے پانی کے اجزا سب کے سب چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے لہر نہیں اٹھتی جبکہ سمندروں میں چھوٹے بڑے اجزا والے پانی ہیں اس لیے چھوٹے اجزا والے پانی اٹھتے ہیں تو لہر دکھائی دیتی ہے۔
یہی بات ہے تو چھوٹے تالابوں کے سارے پانی یکبارگی اٹھنے چاہیے اور پانی کا لیول بڑھتا دکھنا چاہیے، یہاں بھی سائنس نے گھٹنے ٹیک دیئے۔
ایک سوال اٹھتا ہے چاند کے بالمقابل سورج میں قوت کشش (attraction) زیادہ ہے تو سورج پانی کو کیوں نہیں کھینچتا۔ اس کا جواب سائنس دیتی ہے کیوں کہ سورج چاند سے بہت دور ہے اس لیے پانی کو چاند کی طرح نہیں کھینچتا۔
اعلی حضرت نے اس نظریہ کو مضبوط دلیل کے ذریعہ پارہ پارہ کر دیا۔ فرماتے ہیں: "کیا آفتاب پانی کا جذب نہیں کرتا حالانکہ وہ حرارت اور یہ رطوبت ہے اور حرارت جاذب رطوبت ہے۔شمس اگر بہ نسبت قمر بعید تر ہے تو دونوں کے مادے کی نسبت،تو دیکھو بعد شمس(سورج کی دوری) بعد قمر (چاند کی دوری) کا ۳۳ء۳۷۳ ہی مثل ہے اور مادہ شمس (سورج کی سائز) تو مادہ قمر (چاند کی سائز) کا تقریبًا ڈھائی کروڑ گنا یا اس سے بھی زائد ہے تو اسی حساب سے جذب شمس )Sun attraction ) زائد ہونا تھا رات دن میں چار مد ہوتے ہیں دو قمر دو شمس سے،حالانکہ دو ہی ہوتے ہیں،تو معلوم ہوا کہ جذب شمس نہیں تو جذب قمر بالاولی نہیں۔
خلاصہ یہ کہ سورج تو چاند سے تقریبا ڈھائی کروڑ گنا بڑا ہے اور سورج کی دوری چاند کے دوری کا 373.33 ہی ہے۔ اس حساب سے بھی سورج میں (attraction force) زیادہ ہونا چاہیے۔ تو دن میں چار مد ہوں دو سورج سے اور دو چاند سے۔ لیکن اگر سورج سے نہیں مانتے ہو تو چاند سے بھی نہیں مانو۔
چاند جب سمندر کے بالکل سامنے ہوتا ہے جس کو نصف النہار کہتے ہیں اس وقت پانی کو کھینچنا چاہیے لیکن نصف النہار گزرنے کے گھنٹوں بعد وہاں کا پانی اٹھتا ہے جہاں سے چاند گزر چکا ایسا کیوں؟ اس کا جواب سائنس دیتی ہے پانی ٹھہرا (initial state of rest) ہوتا ہے اور ٹھہراؤ فورا جذب کو قبول نہیں کرنے دیتا۔
اعلی حضرت اس پر بھی قاہر ایراد فرماتے ہیں: باطل صریح ہے کہ جس وقت جذب ہو رہا تھا پانی نہ ہلا،جب جذب اصلًا نہ رہا گزوں اٹھا یعنی وجود مسبب وجود سبب سے نہیں ہوتا بلکہ سبب معدوم ہونے کے گھنٹوں بعد (یعنی جس جذب (attraction) کی وجہ سے پانی میں مد tide) اٹھنا تھا اس جذب کے گزرنے کے گھنٹوں بعد لہر اٹھی گویا شادی ختم ہونے کے بعد نکاح)
اعلی حضرت امام عشق و محبت سائنس کے عقلی دلائل فاسدہ کا رد اور جواب دینے کے بعد اپنے اصل ماخذ و بنیاد کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور سمندروں میں مد و جزر کی حقیقت کو واشگاف فرماتے ہیں۔ جو نہ عقل سے پرے نہ شریعت کی خلاف ورزی۔
فرماتے ہیں: اولا: ہمارے نزدیک ہر حادث کی علت محض ارادۃ اﷲ جل وعلا ہے۔
ثانیاً: ہمارے یہاں تو ثابت ہی تھا کہ سمندر کے نیچے آگ ہے۔قرآن عظیم نے فرمایا: " وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوۡرِ ۙ﴿۶﴾" (اور قسم ہے سلگائے ہوئے سمندر کی،)
حدیث میں ہے:انّ تحت البحرنارًا۔ (بے شک سمندر کے نیچے آگ ہے۔)
بالآخر آپ نے یہ بات ثابت فرمائی کہ سمندروں میں اٹھنے والی مد و جزر کا سبب سمندروں کے نیچے سلگتی ہوئی آگ کی لہریں ہیں۔ جس کے اثبات میں آپ نے ایک واقعہ نقل فرمایا: ہیأت جدیدہ (modern astronomy) بھی اسے مانتی ہے ۱۰۵۶ء میں بحرالکاہل سے دھواں نکلنا شروع ہوا اور مادہ آتشی (Volcanic material) کہ قعر دریا سے نکلا تھا مجتمع و منجمد ہو کر سطح آب پر بشکل جزیرہ ہوگیا اس میں سوراخ تھے جن سے ایسے شعلے نکلتے کہ دس میل تک روشن کرتے۔طوفان آب کے اسباب سے ایک سبب دریا کے اندر بخارو دخان پیدا ہونا ہے،ایسے ہی بخارات (Heat) اندر سے آتے اور پانی کو اٹھاتے ہوں یہ مد ہوا جیسے جوش کرنے میں پانی اونچا ہوتا ہے ان کے منتشر ہونے پر پانی بیٹھتا ہو یہ جزر ہوا،جاڑوں میں صبح کا مد زیادہ ہونا بھی اس کا موید ہے سرما میں صبح کو تالابوں سے بکثرت بخارات نکلتے ہیں،کنویں کا پانی گرم ہوتا ہے،سطح ارض پر استیلائے برد (prevailing cold) کے سبب حرارت (Heat) باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور رات بڑی اس طویل عمل حرارت سے ادھر بخارات زیادہ اٹھے پانی میں زیادہ بلند ہونے کی استعداد آگئی " وَاللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۴﴾٪
سبحان اللہ! جس نظریہ کو ثابت کرنے میں سائنس نے اتنی ٹھوکریں کھائیں اور مستقبل کوئی نظریہ قائم نہ کر سکی اور حقیقت کی تلاش میں بھٹکتی رہی امام اہل سنت نے اس حقیقت کو قرآن و حدیث کے حوالے سے فقط دو فقروں میں ایسا حل فرما دیا کہ ایراد کی گنجائش، نہ عقل کے خلاف۔
فدائے اعلی حضرت
محمد قاسم القادری گھوسوی