ہوم  ›  مضامین و بلاگز  ›  Islamic
تمام مضامین کی طرف واپس جائیں

قرآن کریم رہنمائے سائنس/ سائنسدانوں کی زبانی

*قرآن کریم رہنمائے سائنس/ سائنسدانوں کی زبانی*

قرآن کریم انسانیت کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ اس میں انسانی زندگی کے تمام مراحل کا ذکر کیا گیا ہے زندگی گزارنے اور دونوں جہاں میں سرخروئی حاصل کرنے کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ 
قرآن کریم کسی سائنسی نصاب کی کتاب تو نہیں ہے لیکن اس میں دنیا کے عجائب و غرائب میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔
فرماتا ہے: قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔
تم فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے۔

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔

قرآن کریم کی آیات میں مختلف معانی چھپے ہوتے ہیں۔ کچھ ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ وقت اور تقاضے کے مطابق منکشف ہوتے ہیں۔ ترکی کے مشہور سائنسدان ڈاکٹر ہلوک نورباقی نے کیا خوب کہا ہے: "ایک آیت کے معانی کو گلاب سے تشبیہ دی جا سکتی ہے یہ تہہ در تہہ پتوں سے ڈھکے رہتے ہیں، ہر پتی کے الگ ہونے سے ایک نیا معنی نظر آتا ہے۔"

*قرآن کریم اور سائنس:*
سائنس اپنی تحقیق اور ریسرچ کو حتمی اور یقینی طور صحیح اور درست نہیں کہہ سکتی، سائنس آج تجربہ کی بنیاد پر کسی چیز کو حقیقت مانتی ہے کل دوسرے تجربہ کی بنیاد پر خود تردید کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ میں متعدد سائینسدانوں کے مختلف نظریات ہوتے ہیں۔ جبکہ قرآن کریم نے جو بیان کر دیا وہ حتمی یقینی قطعی ہے کہ اب اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
اسی لیے اگر سائنس کا کوئی نظریہ قرآن کریم سے ٹکرائے یا اس کے خلاف ہو تو قرآن کریم کو زبردستی توڑ موڑ، خلط ملط کر اس کے مطابق کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ بلکہ سائنس کو اپنی تحقیق اور ریسرچ پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے۔
بیسویں صدی عیسوی کے عظیم سائنسدان امام احمد رضا خان قادری بریلوی فرماتے ہیں:
"سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو آیات و نصوص میں تاویلات و درازکار کر کے سائنس کے مطابق کرلیا جائے۔ یوں تو معاذ اللہ اسلام نے سائنس قبول کی نہ کہ سائنس نے اسلام، وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اُسے خلاف ہے سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے دلائلِ سائنس کو مردود و پامال کردیا جائے جا بجا سائنس ہی کے اقوال سے اسلامی مسئلہ کا اثبات ہو، سائنس کا ابطال و اسکات ہو، یوں قابو میں آئے گی۔"

*قرآن کریم رہنمائے سائنس:*

*کائنات کی وسعت پزیری:*

1925 میں Edward Bubble نامی سائنسدان نے اپنی دوربین سے کائنات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس بات کو ثابت کیا کہ کائنات روز اول سے ہی پھیلتی جا رہی ہے۔ ستارے اور کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کائنات مسلسل پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے سائنسدانوں نے کائنات کے پھیلنے کا قول کیا۔ 
بیسویں صدی کے مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking)نے کہا تھا: ’’کائنات کے پھیلتی ہوئی حالت میں ہونے‘‘ کی دریافت بیسویں صدی کے عظیم فکری انقلابات میں سے ایک ہے۔" جبکہ یہ حقیقت قرآنِ کریم نے آج سے تقریباً 1400 سال پہلے ہی واضح طور پر بیان کر دیا تھا جیسا کہ درج ذیل آیتِ مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے:

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ
اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بے شک ہم وسعت دینے والے ہیں۔

*قرآن کریم اور ڈاکٹر مورس :*
مورس بوکلائے فرانس کے عظیم سائنسدان تھے، پہلے قرآن کریم اور نبی کریم کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے قرآن کریم کلام الٰہی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے نہیں ہیں۔ کسی نے ان کو مشورہ دیا کہ قرآن کریم کو غور و فکر کے ساتھ پڑھیں آپ کا نظریہ بدل جائے گا۔ یہ بات آپ پر اثر کر گئی آپ نے کئی سال تک عربی زبان سیکھی پھر آپ نے قرآن مجید کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا اور ایسے ایسے سائینسی حقائق کا انکشاف کیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔

آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں The Bible, Quran and Science بہت مشہور ہوئی۔
فرعون کی لاش پر آپ نے ہی فرانس میں تحقیق کیا۔ انکشاف حقائق کے بعد آپ نے اسلام قبول کر لیا۔

*قرآن کریم اور فرعون کی لاش:*

فرعون کی لاش غرق ہونے کے بعد ہزاروں سال پردۂ خفا میں رہی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی لاش کہاں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن ایک چور پرانی چیزیں تلاش کرنے کے لیے زمین کھود رہا تھا اچانک اس کو ایک راستہ نظر آیا۔ جب اس راستہ کی کھدائی کی گئی تو ایک لاش ملی ماہرین نے اس کا مشاہدہ کیا تو اس کی لاش پر نمک کی جمی تہہ پایا جس سے ان کو یقین ہو گیا کہ یہ وہی فرعون سے جو دریائے نیل میں غرق ہوا تھا۔

1980ء کے بعد مزید تحقیق کے لیے مصر کی حکومت نے فرانس کی حکومت کو یہ لاش سونپ دی۔ جب لاش فرانس لائی گئی اس کی تحقیق کے لیے ڈاکٹر موریس بوکائے کی ٹیم کا انتخاب کیا گیا۔ باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر پر واضح ہوا کہ اس کے جسم پر سمندری ذرات ابھی تک موجود ہیں۔ اور یہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا۔ ڈاکٹر موریس بوکائے کو حیرانی ہوئی، ان کو بتایا گیا کہ اس کا ذکر مسلمانوں کے قرآن میں موجود ہے۔ آپ پر آیت یہ آیت کریمہ پیش کی گئی: 
وَ جَاوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًاؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُۙ-قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا عبور کرا دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور ظلم سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب اسے غرق ہونے نے آلیا تو کہنے لگا: میں اِس بات پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمان ہوں ۔
فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةًؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ 
آج ہم تیری لاش کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے اور بیشک لوگ ہماری نشانیوں سے ضرور غافل ہیں۔

 قرآن کی آیت کو پڑھ کر موریس حیران رہ گیے کہ آخر اس کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیسے ؟ یقینا یہ ایک غیبی کتاب ہے جو کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہے۔ 
اس انکشاف کے بعد ڈاکٹر موریس بوکائے نے (Mummies of the Pharaohs) نامی کتاب لکھی جس تفصیل سے اس کو بیان کیا ہے


*قرآن کریم اور شق القمر:*

سائینسدانوں نے چاند کی ایک تصویر لی جس میں صاف دراڑ اور شگاف نظر آ رہی ہے۔ شگاف بہت لمبی ہے۔کو (Redly Rill)
مصر کے مشہور سائنسدان کنگ عبد العزیز یونیورسٹی جدہ کے پروفیسر نے ایک انٹر ویو میں۔۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ(1)
پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند۔ 
اس آیت کریمہ متعلق ایک واقعہ بیان کیا، انہوں نے کہا وہ ایک مرتبہ کارڈ ف یونیورسٹی برطانیہ گیے۔ لکچر کے دوران قرآن میں سائنسی حقائق پر گفتگو کر رہے تھے کہ ایک مسلم نو جوان کھڑا ہو کر کہتا ہے سر آپ نے مذکورہ آیت کریمہ پر غور و فکر کیا، کیا یہ سائنسی حقیقت نہیں ہے؟ ڈاکٹر نے جواب دیا نہیں،! کیوں کہ سائنس کی تحقیق کو معجزہ سے ثابت نہیں کر سکتے معجزہ ایک مافوق الفطرت شئ ہے،۔ اس کے بعد آپ واقعہ شق القمر سنانے لگے۔
درمیان میں مسلم نہ جوان کھڑا ہوا اس نے کہا سر میں موضوع سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اجازت دے دی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے: "کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے جب میں مختلف مذاہب کی تحقیق کر رہا تھا، ایک مسلمان دوست نے مجھے قرآن شریف کی انگلش تفسیر پیش کی ۔مَیں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اُسے گھر لے آیا ۔گھر آکر جب میں نے قرآن کو کھولا تو سب سے پہلے میری نظر جس صفحے پر پڑی وہ یہی سورة القمر کی ابتدائی آیات تھیں ۔ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعدمیں نے اپنے آپ سے کہا کہ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے ؟کیا یہ ممکن ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوں اور پھر آپس میں دوبارہ جڑ جائیں ۔وہ کونسی طاقت تھی کہ جس نے ایسا کیا ؟ان آیات کریمہ نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں قرآن کامطالعہ برابرجاری رکھوں ۔کچھ عرصے کے بعد مَیں اپنے گھریلو کاموں میں مصروف ہوگیا مگر میرے اندر سچائی کو جاننے کی تڑپ کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا ۔ 
وہ نوجوان کہتا ہے ایک دن ٹی وی پر سائینسدانوں کا انٹرویو سن رہا تھا۔ بات چاند کی آگئی ایک سائنسدان نے بتایا کہ ہم نے چاند پر ایک ایسی چیز دیکھی ہے جسے دنیا نہیں مانے گی۔ اینکر نے پوچھا وہ کیا ہے۔ سائنسدان نے بتایا کہ چاند پر ہم نے ایک چٹانوں کی پٹی دیکھی ہے جس نے چاند کو سطح سے مرکز تک اور پھر مرکز سے سطح تک کو کاٹا ہوا ہے۔ ہم نے ماہر ارضیات کو بتایا تو انہوں نے کہا ایسا اس وقت ہو سکتا ہے کہ کسی دن چاند کے دو ٹکڑے ہوئے ہوں اور پھر دوبارہ آپس میں جڑ بھی گیے ہوں۔
برطانوی نو جوان کہتا ہے۔ میں نے یہ بات سنی تو کرسی سے اچھل پڑا اور بے ساختہ میری زبان پکار اٹھی اللہ رب العزت نے امریکیوں کا انتخاب کیا ہے کہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے مسلمانوں کے نبی کے معجزے کو ثابت کریں، وہ معجزہ کہ جس کا ظہور آج سے 14سو سال قبل مسلمانوں کے پیغمبر کے ہاتھوں ہوا۔ مَیں نے سوچا کہ اس مذہب کو ضرور سچا ہوناچاہیے۔ میں نے قرآن کو کھولا اور سورة القمر کو پھر پڑھا۔درحقیقت یہی سورة میرے اسلام میں داخلے کا سبب بنی

*قرآن کریم اور ڈاکٹر جیفری لنگ:*

ڈاکٹر جیفری لینگ ریاضی کے پروفیسر ہیں۔ وہ ایک رومن کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن درد و الم میں گزرا۔ ان کا باپ ان کی ماں کو روز شراب نوشی کر کے مارتا، ان کے دل میں سوال پیدا ہونے لگا کہ اگر کوئی خدا ہے تو ہمیں اس زمین پر اتنی تکلیفیں کیوں ہیں؟، اس نے ہمیں درد و الم برداشت کرنے کے لیے کیوں پیدا کیا؟ اس طرح کے خیالات نے ان کو ملحد بنا دیا۔ 

بعد میں وہ سان فرانسسکو یونیورسٹی کے پروفیسر بنے تو انکی ملاقات کچھ مسلم دوستوں سے ہوئی۔ المختصر یہ کہ دوستوں نے ان کو تحفے میں قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سورہ بقرۃ کی آیت 30-39 کا مطالعہ کیا مجھے اپنے برسوں پرانے سوالات کے جوابات مل گیے۔ ہر شب میں سوالات سوچتا صبح جب مطالعہ کرتا تو اس سوال کا جواب مل جاتا۔ بالآخر آپ نے مذہب اسلام کو قبل کر لیا۔

اس کے بعد انہوں نے کئی مؤثر اور معروف کتابیں تصنیف کیں، جن میں “Struggling to Surrender” اور “Even Angels Ask” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے اپنے قبولِ اسلام کے تجربے، جدید دنیا میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز، اور اسلامی عقائد کی عقلی بنیادوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔

*قرآن کریم اور دل کا دماغ:*

ماضی میں جب کہا جاتا تھا دل کے اندر سوچنے کی سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے تو اس بات کا مزاق بنایا جاتا تھا کہ بھلا کیسے خون پمپ کرنے والا گوشت کا ٹکڑا سوچ بھی سکتا ہے؟
قرآن کریم فرماتا ہے:
لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘
 وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاۚ
تو کیا زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں یا کان ہوں جن سے سُنیں 

لیکن آج یونیورسٹی آف کولمبیا اور کیرولِنسکا انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچرز کی ایک ٹیم نے دل کے اندر (نیورونز) (Neurons/Nerve Cells)کا ایسا پیچیدہ دماغ دریافت کیا ہے جو دل کی طرح کام کرتا ہے۔ ان کا دعوہ ہے کہ دل کے اندر رگوں (ریشو) کا ایسا جالا ہے جو دماغ کی طرح کام کرتا ہے۔ ریشوں کی تعداد تقریباً چالیس ہزار ہے۔ سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جسم کو کنٹرول کرنا صرف دماغ کا نہیں بلکہ دل کا بھی کام ہے۔ 

*قرآن کریم اور جسمانی کھال (جلد):*

پروفیسر تجاتات تیجاسن؛ جو تھائی لینڈ کی چیانگ مائی یونیورسٹی میں شعبۂ تشریح الاعضا (Anatomy) کے سربراہ تھے۔ سعودی میں ان کے سامنے قرآن کریم کی کچھ آیات و احادیث جن کا تعلق ان کے شعبہ الاعضاء سے ہے پیش کی گئیں۔ انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہمارے بدھ مت کی کتابوں میں بھی جنینی نشو ونما (Embryology ) کا ذکر تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اس وقت وہ بدھ مت کی کتابوں کا حوالہ نہ پیش کر سکے۔

ایک سال بعد پھر وہ کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں گئے تو انکو یہ بات یاد دلائی گئی، انہوں نے معذرت کر لی کہ ہماری کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے میں نے بغیر تحقیق کے یہ بات کہی تھی۔

ان پر قرآن کریم کی آیت پیش کی گئی جس میں جلد کے جلنے اور جلد کے درد و الم کے محسوس کرنے کا ذکر ہے۔ 
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًاؕ-كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًاٛ
بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے ۔ جب کبھی ان کی کھالیں خوب جل جائیں گی توہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ چکھ لیں ۔ بیشک اللہ زبردست ہے ،حکمت والا ہے۔

ان سے کہا گیا یہ اللہ کا کلام ہے۔ جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ انکو قرآن کریم دیا گیا۔
 اس کے بعد پروفیسر تیجاسن نے آٹھویں سعودی میڈیکل کانفرس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے لیکچر میں کہا: ’’اپنے مطالعے اور اس کانفرنس کے دوران جو کچھ میں نے سیکھا، اس کی بنیاد پر میرا یقین ہے کہ قرآنِ کریم میں آج سے تقریباً 1400 سال پہلے جو کچھ بیان کیا گیا، وہ حقیقت ہے، جسے سائنسی ذرائع سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔‘‘
دوران خطاب ہی انہوں نے اسلام قبول کیا: ’’لہٰذا میرا خیال ہے کہ اب یہ کہنے کا وقت ہے: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ، یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

پروفیسر تیجاسن نے اپنے ملک پہنچ کر کئی موضوعات پر لکچر دیئے جس کے نتیجے میں ان کے پانچ طلبہ نے اسلام قبول کر لیا۔
یہ بات آج واضح طور پر ثابت ہو چکی ہے درد کا احساس سب سے زیادہ جسم کے بیرونی جلد (کھال) کو ہوتا ہے۔

*قرآن کریم اور ڈاکٹر اوکوڈا:*

ڈاکٹر کمال اوکوڈا جاپان کی Keio University کے شعبہ Political Systems کے پروفیسر ہیں۔ 
ڈاکٹر اوکوڈا پہلے بڑے متکبر، مغرور شخص تھے۔ غیر اخلاقی رویہ ان کا شیوہ تھا۔ وہ خود کہتے ہیں: "اسلام قبول کرنے سے پہلے میری زندگی وحشیانہ تھی، بہت ہی وحشیانہ! جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مجھے حقیقت کا علم ہی نہیں تھا!"

کالج کے چھٹے سال ڈاکٹر اوکوڈا کو ایک مقالہ ملا جس میں ایک آیت لکھی تھی۔ اسی آیت نے ڈاکٹر کی زندگی بدل دی۔ آیت کریمہ انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان کو مٹی گارے سے پیدا کیا گیا ہے وہ آیت کریمہ مندرجہ ذیل ہے: 

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ 
اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔

اس کے بعد انہوں نے ملک شام جا کر عربی سیکھی مزید تحقیق و تفتیش کرنے کے بعد اسلام قبول کر لیا خود کہتے ہیں: 
"اسی لمحے میں نے اسلام قبول کر لیا۔ میرا یقین ہے کہ یہ میری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا سب سے بڑا تحفہ ہے!"
ان کا پورا بیان انٹرنیٹ پر موجود ہے سماعت کیا جا سکتا ہے۔

*قرآن کریم اور بچے کی جنس کا تعین:*

آج تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ بچہ یا بچی کا پیدا ہونا عورت پر منحصر ہے۔ مذکر یا مونث کا تعین ماں کے خلیہ (Cells) سے ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم ہمیں ایک انوکھی بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ جنس کا تعین اس قطرۂ منی (Sperm) سے ہوتا ہے جو ٹپکایا جاتا ہے۔ نہ کہ عورت کے خلیہ سے۔ سورہ نجم کی آیت کریمہ ملاحظہ ہو:
وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ (45)مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ (46)

اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دو جوڑے بنائے۔ نطفہ سے جب اسے ڈالا جائے۔

بیسوی صدی میں علم تکوینیات(Genetics) نے ترقی حاصل کرنے کے بعد قرآن مجید کے اس دعوہ پر تجربہ و تحقیق پیش کیا اور مان لیا کہ تذکیر و تانیث کا تعین مرد کے نطفہ کی بنا پر ہوتا ہے اس میں عورت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

*قرآن کریم سے سائینسدانوں کی چشم پوشی:*

خالق کائنات انسانوں کو زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، گردش لیل و نہار، کوہ و آبشار، شجر و حجر، بحر وبر میں غور و فکر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تاکہ انسان کو خداوند قدوس کی قدرت کاملہ کی معرفت حاصل ہو۔ 
سائنس ہمیں کائنات میں غور و فکر اور مطالعہ کائنات کا بہترین اور منظم طریقہ بتاتی ہے۔ لہذا مذہب سائنس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیوں کہ سائنس کی مدد سے کائنات میں بہتر انداز میں غور و فکر کیا جا سکتا ہے۔
اگر مشاہدہ و معائنہ مذہب کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں کیا جائے تو مختصر وقت، کم خرچ اور کم قوت میں صحیح و درست نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بیسویں صدی کے عظیم سائنسدان البرٹ آئنسٹائن نے کہا تھا "سائنس مذہب کے بغیر لولی لنگڑی ہے" 
ہارون یحیٰی اپنی کتاب The leads the way to Science میں لکھتے ہیں: "مادہ پرست سائینسدانوں نے ماضی میں جو راستہ اختیار کئے رکھا ہے بالخصوص پچھلے 200 سال میں وہ جو مساعی بروئے کار لاتے رہے ہیں ان میں بہت سا وقت ضائع ہوا۔ بہت سی تحقیق اکارت گئی اور اس پر لاکھوں کروڑوں ڈالرز کا سرمایہ نالے میں بہہ گیا۔ اس سے انسانیت کو کچھ بھی حاصل وصول نہ ہو سکا۔" 

مادہ پرست سائینسدانوں کا نظریہ تھا کہ کائنات کی کوئی ابتدا و انتہا نہیں ہے بلکہ ازل سے موجود ہے۔ اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ انیسویں صدی کے نصف تک یہی نظریہ رہا حتی کہ اسی پر ریسرچ اور تجربہ ہوتا رہا ہے۔ 
لیکن دلائل و شواہد اس نظریہ کے خلاف ثابت ہوتے رہے۔ حتی کہ بیسویں صدی میں سائنس نے بھی یہ بات ثابت کر دیا کہ کائنات کا کوئی تو خالق ہے۔ اور اس ذات کا نام اللہ تعالی ہے۔
سائنس نے اگر قرآن و حدیث سے چشم پوشی نہ کی ہوتی اور ان کے بیان کردہ دعوں پر ریسرچ کیا ہوتا تو اس حقیقت کو قبول کرنے میں کئی صدی درکار نہیں ہوتی۔

سائنسی تجربہ گاہوں پر مادہ پرست سائینسدانوں کا قبضہ رہا ہے۔ ان کے عقائد و نظریات اسلام کے مخالف رہے ہیں۔ وہ اپنی تحقیق بھی اسلامی نظریات کے خلاف ہی کرتے رہے ہیں۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیے گیے نظریوں سے بھی انہوں نے انحراف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس وہ ترقی حاصل نہ کر سکی جو مطلوب تھی۔ لیکن دھیرے دھیرے مادہ پرست سائینسدانوں کا غلبہ کم ہوتا جا رہا ہے اور سائینسدانوں کا تعلق اسلام اور اہل اسلام سے ہو رہا ہے تو ان پر حقیقت کا انکشاف ہونے لگا ہے۔ اسکی مثال ادوار جنین پر جدید تحقیق، وغیرہ ہیں۔

اگر سائنسداں انصاف سے کام لیں اور قرآن و حدیث میں بیان کردہ سائنسی رموز و اسرار پر ریسرچ کریں تو انکے ترقی کی رفتار میں غیر متوقع اضافہ ہو سکتا ہے۔


محمد قاسم القادری گھوسوی
شیئر کریں:

قارئین کے تبصرے و آراء

۳ تبصرے
مولانا عبد الرحیم قادری ۲ دن قبل

ماشاء اللہ! نہایت ہی جامع اور فکر انگیز تحریر ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے معاشرتی تقاضوں پر قلم اٹھا کر بروقت رہنمائی فرمائی گئی ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔

محمد رضوان سہارنپوری ۵ دن قبل

بہت ہی عمدہ انداز میں حقائق کو بیان کیا گیا ہے۔ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ یا سوال تحریر فرمائیں

AL-QADRI ACADEMY

Course Admission Form

Enroll in our certified online program. Free scholarship access available.

PPT RESOURCE HUB

Request PPT Slide Deck

Need a customized PowerPoint presentation for teaching or lectures? Request scholars to prepare one.

Request submitted successfully!