یہ امرِ خِداع کہ بی جے پی میں اگر مسلمان اپنے علاقے میں شرکت نہیں کریں گے تو کوئی غیر آ کر راج کرے گا، ایک مہلک بیماری کی طرح جسم و ذہن میں سرایت کر چکا ہے اور آہستہ آہستہ برق رفتاری کے ساتھ نوجوانوں کی زندگی کا رخ بدلتا نظر آ رہا ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بی جے پی اور اقلیتِ مسلمہ دونوں ایک دوسرے کے نقیض ہیں، دراں حالیکہ ایک تاریک شب ہے اور دوسرا روشن نہار، اور ان دونوں کا ایک مکان میں ایک وقت پر یکجا ہونا محالِ قطعی ہے۔ بس ایک کی عدم موجودگی دوسرے کے وجود کی نشانی بنتی ہے۔
مگر افسوس کہ مصلحتوں کے خوش نما پردوں اور وقتی فوائد کے سراب نے بہت سے اذہان کو اس قدر مسحور کر دیا ہے کہ وہ حقائق کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ انہیں یہ گمان لاحق ہو گیا ہے کہ اپنے اصولوں، تشخص اور اجتماعی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر وہ عزت، تحفظ اور نمائندگی حاصل کر لیں گے، حالانکہ تاریخ کا ہر ورق اس کے برعکس گواہی دیتا ہے۔ جو قومیں اپنے نظریاتی ستونوں سے دستبردار ہو جاتی ہیں، وہ وقتی آسائش تو پا لیتی ہیں مگر اپنی شناخت اور وقار ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھتی ہیں۔
مثالیں خوب ملیں گی اور چند یہاں مذکور کروں تاکہ کلام کی حمایت اور تائید ہوتی چلے۔ یہ وہ افراد ہیں جو بعینہٖ اسی فکر کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوئے تھے کہ قربتِ اقتدار کے ذریعے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کر سکیں گے، مگر حالات نے رفتہ رفتہ ان کی فکر ہی کا رخ بدل دیا۔ نازیہ الٰہی خان، سید شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی، سید ظفر اسلام، اے۔ پی۔ عبداللہ کٹی اور ایم۔ عبدالسلام جیسے نام ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کی نمائندگی کے عنوان سے سیاسی سفر کا آغاز کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے مؤقف اور ترجیحات ایسے رخ پر گامزن ہوتے گئے جنہیں ملتِ اسلامیہ کی ایک بڑی تعداد اپنے دینی و اجتماعی مفادات کے منافی سمجھتی ہے۔ یہی تاریخ کا وہ سبق ہے کہ اکثر اوقات فرد جماعت کو نہیں بدلتا بلکہ جماعت فرد کی فکر و مزاج کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان جذباتی نعروں اور فریبِ نظر پر مبنی دعووں کے بجائے حقائق کی روشنی میں فیصلے کریں، اپنے اجتماعی شعور کو بیدار رکھیں اور اس حقیقت کو سمجھیں کہ کسی بھی قوم کی بقا اس کی نظریاتی استقامت، خودداری اور باوقار اجتماعی کردار سے وابستہ ہوتی ہے، نہ کہ ان راستوں سے جو بظاہر آسان مگر انجام کے اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
#ابن_اشرف