نکاح کی راہوں میں رکاوٹیں: آخر ذمہ دار کون؟
نکاح اسلام کا محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت، ایک عظیم سنت اور ایک ایسا بابرکت رشتہ ہے جس پر پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے اس عمل کو غیر معمولی سادگی، آسانی اور اعتدال کے ساتھ انجام دینے کی تعلیم دی، تاکہ ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرتے ہوئے ایک پاکیزہ خاندانی زندگی کا آغاز کر سکے۔ لیکن صد افسوس! آج ہم نے اسی عبادت کو اپنی خواہشات، مصنوعی معیاروں، طبقاتی تفاخر، فضول رسم و رواج اور بے جا توقعات کی ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے کہ نکاح، جو کبھی آسان ترین عبادت سمجھا جاتا تھا، اب بہت سے نوجوانوں کے لیے زندگی کا مشکل ترین مرحلہ بن چکا ہے۔
آج جب کوئی متوسط طبقے کا دیندار، بااخلاق اور محنتی نوجوان کسی گھر میں رشتہ بھیجتا ہے تو سب سے پہلے اس کے کردار، امانت داری، دیانت اور دینداری کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کی مالی حیثیت، ظاہری وجاہت اور مادی وسائل کو ترازو میں رکھا جاتا ہے۔ گویا نکاح اب دو صالح انسانوں کے ملاپ کا نام نہیں رہا بلکہ ایک معاشی مقابلہ بن کر رہ گیا ہے۔
اکثر اوقات توقع یہ کی جاتی ہے کہ لڑکا اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہو، غیر معمولی تنخواہ بھی رکھتا ہو، اپنا ذاتی بنگلہ بھی ہو، نئی گاڑی بھی ہو، لاکھوں روپے کی بچت بھی ہو، خاندان بھی چھوٹا ہو، ہر سہولت بھی میسر ہو، اور اس کے باوجود وہ ہر خواہش پوری کرنے کے لیے ہر وقت تیار بھی رہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک چیز کی کمی رہ جائے تو اس کی دینداری، حسنِ اخلاق اور صالح کردار بھی اس کمی کو پورا نہیں کر پاتے۔
بعض گھروں میں ظاہری شخصیت کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے کہ تقویٰ، عبادت اور حسنِ اخلاق پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ معیار یہ بن جاتا ہے کہ نوجوان جدید فیشن کا دلدادہ ہو، ہر وقت نہایت آراستہ نظر آئے، جبکہ نماز، خوفِ خدا، حلال کمائی اور اخلاقی پاکیزگی کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام نے نکاح کی بنیاد حسنِ سیرت پر رکھی ہے، نہ کہ محض حسنِ صورت پر۔
پھر جب رشتہ طے ہونے کے قریب پہنچتا ہے تو مطالبات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کہیں سونے کی مقدار عزت کا پیمانہ بن جاتی ہے، کہیں مہنگے ملبوسات وقار کی علامت سمجھے جاتے ہیں، کہیں لاکھوں روپے کے حقِ مہر اور شادی کے اخراجات کا بوجھ نوجوان کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، اور کہیں شادی کے بعد کی آسائشیں پہلے سے شرط بنا دی جاتی ہیں۔ یوں نکاح، جو سکونِ قلب کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، قرض، پریشانی اور ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتا ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ قصور صرف ایک ہی فریق کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بگاڑ میں معاشرے کے مختلف طبقات شریک ہیں۔ کہیں لڑکی والوں کی بے جا توقعات رکاوٹ بنتی ہیں، تو کہیں لڑکے والوں کی انا، جہیز کی خواہش، خاندانی تفاخر اور فضول رسومات اس مقدس رشتے کو دشوار بنا دیتی ہیں۔ جب دونوں طرف خواہشات شریعت پر غالب آ جائیں تو پھر آسان نکاح بھی ایک مشکل امتحان بن جاتا ہے۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوان اور نوجوانیاں مناسب عمر گزر جانے کے باوجود نکاح کی نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بہت سے اچھے رشتے صرف اس لیے ٹھکرا دیے جاتے ہیں کہ وہ غیر حقیقی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بعد ازاں یہی افسوس کیا جاتا ہے کہ اچھے رشتے نہیں ملتے، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے آسان راستے بند کر دیے ہوتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو پاکیزہ، باوقار اور بے حیائی سے محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں نکاح کے بارے میں اپنا زاویۂ فکر بدلنا ہوگا۔ ہمیں دولت سے زیادہ دیانت، خوب صورتی سے زیادہ کردار، آسائش سے زیادہ تقویٰ اور رسم و رواج سے زیادہ سنتِ نبوی ﷺ کو اہمیت دینی ہوگی۔ جب تک ہم اپنی ترجیحات درست نہیں کریں گے، اس وقت تک نکاح کی راہیں آسان نہیں ہو سکتیں۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ نکاح کو کاروبار نہیں بنائیں گے، اسے نمائش کا میدان نہیں بنائیں گے، بلکہ اسے وہی سادہ، پاکیزہ اور بابرکت عبادت بنائیں گے جس کی تعلیم رسولِ اکرم ﷺ نے ہمیں عطا فرمائی۔ یقیناً یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے گھروں میں سکون، معاشرے میں پاکیزگی اور امت میں خیر و برکت کا سبب بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے، نکاح کو آسان بنانے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
---------------------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com