*پشت پر نواسہ ہے بندگی میں ناناہے*
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھانے کے لیے ہمارے پاس تشریف لائے، اور آپ ﷺ امام حضرت حسن یا امام حسین رضی اللہ عنہما میں سے ایک کو اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور اسے اپنے دائیں قدم کے قریب رکھ دیا، پھر نماز شروع فرمائی۔
نماز کے دوران رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسا سجدہ کیا جو بہت زیادہ طویل تھا۔ راوی کہتے ہیں:
میرے والد نے فرمایا: میں نے لوگوں کے درمیان سے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں ہیں اور وہ بچہ آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر سوار ہے، چنانچہ میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا۔
جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا:
یارسول اللہ! آج آپ نے نماز میں ایسا طویل سجدہ فرمایا جو ہم نے پہلے کبھی آپ کو کرتے نہیں دیکھا تھا، کیا اس کے بارے میں آپ کو کوئی حکم دیا گیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
ان میں سے کوئی بات نہیں تھی، بلکہ میرا یہ بیٹا میری پشت پر سوار ہو گیا تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ اسے جلدی اتار دوں، یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کر لے۔
تاریخ طبری
*طالب دعا مرکزی*