الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، وعلى آله وأصحابه أجمعين.
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر دور میں انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، تاکہ وہ لوگوں کو توحید، رسالت اور شریعتِ الٰہی کا پیغام پہنچائیں، ان کی اصلاح کریں اور انہیں صراطِ مستقیم پر گامزن کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک یہ مبارک سلسلہ جاری رہا، پھر خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، سید الاولین والآخرین، ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے نبوت کا سلسلہ مکمل ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینِ اسلام کو اس کامل صورت میں دنیا کے سامنے پیش فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا:
﴿اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ﴾
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا۔"
وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے ائمہ و علماء نے دینِ اسلام کی حفاظت، اشاعت اور خدمت کا فریضہ انجام دیا۔ اگرچہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے امت کو بے سہارا نہیں چھوڑا، بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث یعنی علماءِ حق کو پیدا فرمایا، جو ہر دور میں اٹھنے والے فتنوں، گمراہیوں اور باطل نظریات کا علمی و عملی رد کرتے رہے۔
تاریخِ اسلام اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جب بھی کسی باطل فرقے یا گمراہ تحریک نے سر اٹھایا، اہلِ سنت کے جلیل القدر علماء نے مضبوط دلائل کے ساتھ اس کا تعاقب کیا۔ کبھی خوارج، کبھی معتزلہ، کبھی روافض، کبھی باطنیہ اور کبھی دیگر گمراہ فرقے؛ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے مردانِ حق پیدا فرمائے جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت فرمائی۔ برصغیر میں بھی جب عقائدِ اہلِ سنت، خصوصاً شانِ رسالت، علمِ غیب، معجزات، اختیار، استعانت اور توسل جیسے مسلمہ عقائد پر مسلسل حملے ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے ایک ایسی عظیم ہستی کو پیدا فرمایا جو اپنے علم، تقویٰ، عشقِ رسول، فقاہت، تحقیق اور جرأتِ ایمانی کے باعث دنیا بھر میں "امامِ اہلِ سنت" کے لقب سے مشہور ہوئی۔ وہ ذاتِ گرامی سیدی سرکار امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔
آپ کی ولادتِ باسعادت:
10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء کو بریلی شریف (اتر پردیش، ہندوستان) کے محلہ سوداگران میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل کی، جو اپنے وقت کے جلیل القدر محدث، فقیہ اور مفتی تھے۔ غیر معمولی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ کم عمری ہی میں قرآنِ کریم، اردو، فارسی اور ابتدائی عربی علوم مکمل کر لیے۔ اس کے بعد نحو، صرف، منطق، فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر، حدیث، علمِ کلام، فلسفہ، ہیئت، ریاضی اور دیگر علوم میں ایسی مہارت حاصل کی کہ صرف تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں فتویٰ نویسی کی اجازت مرحمت ہوئی، جو آپ کی بے مثال علمی صلاحیت کا روشن ثبوت ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے صرف ظاہری علوم ہی میں کمال حاصل نہیں کیا بلکہ باطنی علوم میں بھی بلند مقام پایا۔
بیعت و خلافت
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، رضویہ کے عظیم شیخ حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ مرشدِ کامل نے آپ کے علم، تقویٰ، زہد و ورع اور عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے ہوئے آپ کو خلافت و اجازت سے بھی سرفراز فرمایا۔ آپ نے ہمیشہ اس حقیقت کو اجاگر فرمایا کہ شریعت اور طریقت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ طریقت کی بنیاد شریعتِ مطہرہ کی کامل اتباع اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی پر قائم ہے۔
حجِ بیت اللہ اور حرمین شریفین
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے دو مرتبہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ دوسرے حج (1323ھ/1905ء) کے موقع پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے جلیل القدر علماء نے آپ کی علمی عظمت کا اعتراف کیا۔ اسی سفر میں آپ نے گستاخانِ رسول کے متعلق اپنا مشہور فتویٰ "حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین" مرتب فرمایا، جس کی حرمین شریفین کے تینتیس جلیل القدر علماء نے تصدیق فرمائی۔ اسی طرح آپ کے رسالہ "الدولة المكية بالمادة الغيبية" کو بھی اکابرِ حرمین نے قبولیت و تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔ اس عظیم خدمت نے آپ کو عالمِ اسلام میں محافظِ ناموسِ رسالت کی حیثیت سے ممتاز مقام عطا کیا۔
علمی خدمات
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں اہلِ سنت و جماعت کے عقائد کا دفاع فرمایا۔ آپ کی علمی تحقیقات، فقہی بصیرت اور عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لبریز تصانیف نے دنیا بھر کے علماء کو متاثر کیا۔ آپ کی تصانیف آج بھی مدارس، جامعات اور دینی مراکز میں تحقیق و استدلال کے معتبر مصادر شمار کی جاتی ہیں۔
قرآنِ مجید کا آپ کا مشہور اردو ترجمہ "کنز الایمان" اپنی سلاست، فصاحت، ادبِ نبوی اور صحتِ عقیدہ کی بنا پر برصغیر کے مقبول ترین تراجم میں شمار ہوتا ہے۔
آپ کا عظیم فقہی شاہکار "فتاویٰ رضویہ" کئی جلدوں پر مشتمل ایک بے مثال علمی خزانہ ہے، جس میں عقائد، فقہ، حدیث، تفسیر، تصوف، عبادات، معاملات اور سینکڑوں علمی مسائل نہایت مدلل انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔
آپ کا نعتیہ دیوان "حدائقِ بخشش" عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ایک لازوال شاہکار ہے، جس سے آج بھی اہلِ محبت اپنے قلوب کو منور کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صرف ایک عظیم مفتی ہی نہیں بلکہ اپنے دور کے جلیل القدر محدث، مفسر، متکلم، فقیہ، ادیب، شاعر، مناظر، ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات بھی تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ آپ کو سو سے زائد علوم و فنون پر مہارتِ تامہ حاصل تھی، اور جس زبان میں سوال کیا جاتا، آپ اسی زبان میں نہایت محققانہ جواب عطا فرماتے تھے۔
خدماتِ دین
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، سنتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ترویج اور باطل نظریات کی تردید میں صرف کی۔ آپ نے قرآن و حدیث، اجماعِ امت اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں اہلِ سنت کے عقائد کا دفاع فرمایا اور مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ رسول، تعظیمِ شعائرِ اسلام اور اتباعِ سنت کا جذبہ بیدار کیا۔ اسی وجہ سے آپ کو "امامِ اہلِ سنت"، "مجددِ دین و ملت"، "حامیِ سنت" اور "قاطعِ بدعت" جیسے عظیم القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
تلامذہ و خلفاء
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فیضِ علم سے ہزاروں علماء، مفتیانِ کرام، محدثین، مبلغین اور مشائخ نے استفادہ کیا۔ آپ کے ممتاز خلفاء میں صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان، مفتیِ اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خان قادری، قطبِ مدینہ علامہ ضیاء الدین احمد مدنی، برہانِ ملت علامہ برہان الحق سلامی جبلپوری رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر اکابر علماء شامل ہیں، جنہوں نے آپ کے علمی و روحانی فیضان کو برصغیر سمیت دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچایا۔ آج بھی متعدد مدارس، جامعات، خانقاہیں اور دینی ادارے آپ کے افکار اور خدمات کی اشاعت میں مصروف ہیں۔
آپ کا وصالِ مبارک 25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو بریلی شریف میں ہوا۔ آپ کا مزارِ اقدس آج بھی مرجعِ خلائق ہے، جہاں دنیا بھر سے عاشقانِ رسول حاضر ہو کر فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
بلاشبہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چودھویں صدی ہجری کے عظیم مجدد، بے مثال فقیہ، عاشقِ رسول، مدافعِ اہلِ سنت اور علومِ اسلامیہ کے درخشاں آفتاب تھے۔ آپ کی علمی، فقہی، روحانی اور اصلاحی خدمات رہتی دنیا تک امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علوم و معارف سے وافر حصہ عطا فرمائے، ان کے مسلکِ حق پر استقامت نصیب فرمائے، اور ہمیں سچا عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔
محمد قاسم رضا امانتی ازہری
متخصص فی الحدیث کلیہ اصول الدین جامعۃ الازہر الشریف، قاہرہ،مصر
١٨/٠٧/٢٠٢٦ء