Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Aqeeda

ایمان کو اعمال پر فوقیت کیوں حاصل ہے؟

Nabeel ibn Ashraf Jul 26, 2026 15 Views 1 min read
اسلام میں ایمان وہ بنیاد ہے جس پر ساری عمارتِ دین کھڑی ہے۔ یہ محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ روحِ دین ہے۔ جس طرح جسم میں جان کے بغیر کوئی حرکت نہیں، اُسی طرح ایمان کے بغیر اعمال کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایمان وہ نور ہے جو انسان کے قلب میں داخل ہو کر اُس کی نیت، سوچ اور کردار کو بدل دیتا ہے، اور اُسی کی روشنی میں اعمال کو قدر و قیمت حاصل ہوتی ہے۔ اعمال اگرچہ بظاہر بہت عظیم ہوں، لیکن اگر اُن کا سرچشمہ ایمان نہ ہو تو وہ محض ایک جسمِ بے جان کی مانند ہیں، جن کی کوئی وقعت نہیں۔

قرآنِ حکیم کی متعدد آیات اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں۔ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ"
یعنی جو شخص ایمان کا انکار کرتا ہے، اس کے سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ آیتِ کریمہ واضح کر رہی ہے کہ اگر کسی کے اندر ایمان موجود نہ ہو، تو اُس کی ساری نیکیاں، قربانیاں، عبادات حتیٰ کہ اخلاق بھی اُسے اللہ کے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ کیونکہ ایمان وہ کنجی ہے جو رضائے الٰہی کے دروازے کھولتی ہے، اور جنت کی راہ ہموار کرتی ہے۔

ایمان کو فوقیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ جنت کا وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو پہلے ایمان لائے، پھر نیک اعمال کیے۔ ارشادِ ربانی ہے:
"إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات لهم جنات تجري من تحتها الأنهار"
یعنی بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کے لیے وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہاں ترتیب قابلِ غور ہے — پہلے ایمان کا ذکر، بعد میں عمل۔ یہ محض فصاحت و بلاغت کا تقاضا نہیں، بلکہ ایک عقلی و روحانی ترتیب ہے۔ عمل کی خوبصورتی کا دار و مدار ایمان کے خلوص اور صداقت پر ہے۔ اگر نیت میں ایمان نہ ہو، تو عبادت ریا ہو جاتی ہے، اور صدقہ دکھاوا۔

نبی کریم ﷺ نے ایمان کی اس فوقیت کو نہایت سادہ اور دل نشین انداز میں بیان فرمایا:
"إن الله لا ينظر إلى صوركم ولا إلى أجسامكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم"
یعنی اللہ تمھاری شکلوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمھارے دلوں (یعنی ایمان) اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
 دل میں ایمان ہو، تو چھوٹا عمل بھی مقبول ہو جاتا ہے۔ اور اگر دل ایمان سے خالی ہو، تو بڑے بڑے اعمال بھی ریاکاری کے پلندے بن جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"الإيمان ما وقر في القلب وصدقه العمل"
"ایمان وہ ہے جو دل میں راسخ ہو جائے، اور عمل اس کی تصدیق کرے۔"
یہ حدیث ایمان اور عمل کے باہمی تعلق کی جامع تعریف ہے: اصل ایمان دل کی کیفیت ہے، اور عمل اس کا ظاہری اظہار۔ لیکن اگر دل میں ایمان نہیں، تو ظاہری عمل صرف ایک خول ہے۔ ایمان کی ایک عظمت یہ بھی ہے کہ اگر کسی انسان کو اعمال کا موقع نہ مل سکے، مگر وہ صدقِ دل سے مؤمن ہو، تب بھی وہ اللہ کی رحمت کے سائے میں آ جاتا ہے۔
گویا ایمان ایسا قیمتی خزانہ ہے جس کے بغیر ساری عبادتیں، صدقات، حج، نمازیں سب بے فائدہ ہیں۔ اعمال کی خوبصورتی اور وزن ایمان سے مشروط ہے۔ ایمان ہو تو ایک مسکراہٹ بھی صدقہ بن جاتی ہے، اور ایمان نہ ہو تو ایک لاکھ کا صدقہ بھی محض دنیاوی نمود بن کر رہ جاتا ہے۔
اعمال دین کا ظاہر ہیں، اور ایمان اس کا باطن۔ ظاہر تبھی معتبر ہوتا ہے جب باطن روشن ہو۔ ایمان وہ چراغ ہے جو عمل کے اندھیرے میں روشنی بخشتا ہے، اور اسے اللہ کے ہاں مقبول بناتا ہے۔ پس، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کو اولین ترجیح دے، کیونکہ یہی وہ دولت ہے جو دنیا و آخرت میں اصل نفع بخش ہے۔ اعمال کی عمارت ایمان کی زمین پر ہی کھڑی ہوتی ہے، اور اسی پر اس کا دار و مدار ہے۔
#ابن_اشرف