امام بیجوری رحمہ اللہ تحفة المريد علي جوهرة التوحيد میں ایک نہایت جامع اصول بیان کرتے ہیں:
شروط التكليف: البلوغ، والعقل، وبلوغ الدعوة، وسلامة الحواس
یعنی شرعی تکلیف کے لیے چار شرطیں ہیں: بلوغ، عقل، دعوتِ اسلام کا پہنچ جانا، اور حواس کا صحیح ہونا۔
پھر فرماتے ہیں:
فالمكلف هو: البالغ العاقل الذي بلغته الدعوة سليم الحواس.
یعنی مکلف وہ شخص ہے جو بالغ ہو، عاقل ہو، اس تک دعوتِ اسلام پہنچ چکی ہو، اور اس کے حواس درست ہوں۔
یہ تعریف اپنے اندر ایک عظیم اصول سموئے ہوئے ہے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس وقت تک مکلف نہیں بناتے جب تک اس میں ذمہ داری اٹھانے کی اہلیت پیدا نہ ہو جائے۔ اسی لیے نابالغ پر فرائض لازم نہیں، مجنون پر قلمِ تکلیف جاری نہیں، اور جس شخص تک دعوتِ اسلام ہی نہ پہنچی ہو، اس کے بارے میں بھی اہلِ علم نے الگ احکام بیان کیے ہیں۔
امام بیجوری رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ جمہور اہلِ سنت کے نزدیک بچہ اصلِ خلقت کے اعتبار سے مکلف نہیں ہوتا۔ اگر وہ بلوغ سے پہلے وفات پا جائے تو وہ نجات یافتہ ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہو یا غیر مسلموں کے، کیونکہ اس پر ابھی تک شرعی ذمہ داری عائد ہی نہیں ہوئی۔
اس موقع پر وہ احناف کا ایک معروف قول بھی نقل کرتے ہیں:
قال الحنفية بتكليف الصبي العاقل بالإيمان لوجود العقل وهو كاف عندهم...
یعنی احناف کے نزدیک اگر بچہ اتنا عاقل ہو کہ حق کو سمجھ سکتا ہو تو صرف عقل ہی ایمان کے وجوب کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا اس پر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ایمان واجب ہے، اگرچہ وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔
یہاں اختلاف کی اصل بنیاد سمجھنا ضروری ہے۔ اختلاف اس بات میں نہیں کہ ایمان ضروری ہے، بلکہ اختلاف اس میں ہے کہ ایمان کے وجوب کے لیے صرف عقل کافی ہے یا بلوغ بھی شرط ہے۔ جمہور کہتے ہیں کہ شرعی تکلیف بلوغ سے پہلے ثابت نہیں ہوتی، جبکہ احناف کے نزدیک ایمان کا وجوب عقل کے ساتھ ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ عقل ہی معرفتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
اسی لیے امام بیجوری رحمہ اللہ نے دونوں آراء کو نقل کیا ہے تاکہ طالبِ علم کو معلوم ہو کہ یہ مسئلہ محض فقہی نہیں بلکہ علمِ کلام کے بنیادی مباحث میں سے ہے۔
قرآنِ مجید بھی اللہ تعالیٰ کے عدل کا یہی اصول بیان کرتا ہے:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا
"اور ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک اس کی طرف رسول نہ بھیج دیں۔" (الإسراء: 15)
-------- ایک رائے فقط
میرے نزدیک علمِ عقیدہ کی یہی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ اس میں ہر لفظ ایک اصول ہے اور ہر تعریف اپنے اندر ایک پورا باب سموئے ہوئے ہے۔ جب بھی میں کلاسیکی کتبِ عقیدہ کا مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ائمہ نے صرف نتائج بیان نہیں کیے بلکہ ان کی بنیادیں، دلائل اور اصول بھی واضح کیے ہیں، تاکہ طالبِ علم دین کو عدل، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سمجھے۔ یہی مطالعہ انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والے بہت سے اشکالات کو دور کرتا ہے اور اس یقین کو مضبوط کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم کامل عدل اور کامل حکمت پر مبنی ہے۔ جتنا ان کتابوں کا مطالعہ بڑھتا ہے، اتنا ہی ائمۂ اہلِ سنت کی علمی گہرائی اور دین کی نزاکتوں کا ادراک بھی بڑھتا جاتا ہے۔