Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Aqeeda

دارالعلوم دیوبند کے ششماہی امتحان 2025 میں پوچھے گیے سوال کا جواب

محمد قاسم القادری گھوسوی Jul 30, 2026 40 Views 1 min read
سوال:
 مولوی احمد رضا خان صاحب کی تکفیری مہم کی مفصل تاریخ بوضاحت تحریر کریں۔

جواب:۔ 
دہلی میں جب انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئی، دہلی کے لال قلعہ پر انگریزی پرچم لہرانے لگا، انگریزوں کو خدشہ ہوا کہ اقتدار ہم نے مسلمانوں سے چھینا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان متحد ہو کر حملہ آور ہو جائیں۔ اس لیے انہوں نے )divide and rule( بانٹو اور حکومت کرو! کا طریقہ اپنایا لہذا سب سے پہلے انکی نظر مولویوں پر پڑی کیوں کہ مسلمان سب سے زیادہ اعتماد انہیں پر کرتے ہیں۔ لہذا سب سے پہلے انگریزوں کی نگاہِ انتخاب مولوی اسماعیل دہلوی پر جا کر ٹکی۔ پیسہ دیکر ایسی کتاب لکھوائی جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا‌۔ اس رسواے زمانہ کتاب کا نام "تقویۃ الایمان"۔ جس میں درجنوں کفریات موجود ہیں۔ اسماعیل دہلوی نے اللہ و رسول کی سخت گستاخیاں کیں۔ بطور نمونہ چند ملاحظہ ہوں۔
صفحہ ٨١ پر لکھتا ہے۔ "اللہ کی شان بہت بڑی ہے کہ سب انبیاء و اولیاء اس کے رو برو ایک ذرۂ ناچیز سے کمتر ہیں" معاذ اللہ
 
صفحہ ٢٠ پر لکھا " ہر مخلوق چھوٹا ہو یا بڑا وہ اللہ کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے" معاذاللہ

صفحہ ٤٤ پر لکھا " چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتہ جبرئیل سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کر ڈالے" معاذاللہ 

اسی طرح رسالہ یک روزہ میں لکھا اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔

صراط مستقیم میں لکھا نماز میں رسول کا خیال لانے سے بہتر ہے اپنے گدھے کے خیال میں ڈوب جائے۔ وغیرہ وغیرہ 

یہ اس زمانے کی بات ہے جب اعلی حضرت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، ١٢٤٠ھ میں جب تقویۃ الایمان منظر عام پر آئی سترہ علمائے اہلسنت نے کفر کا فتویٰ دیا۔ دہلی کی جامع مسجد میں مناظرہ ہوا اسماعیل دہلوی کو شکست فاش ہوئی۔

مجاہد آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے اسماعیل دہلوی کے رد میں "تحقیق الفتوی" اور "امتناع النظیر" اور اسماعیل کے چچا زاد بھائی علامہ محمد موسی نے "حجۃ العمل" مولانا شاہ مقصوص اللہ دہلوی نے "معید الایمان در ردِ تقویۃ الایمان" لکھی۔

اعلی حضرت امام اہل سنّت تو ٣٢ سال بعد پیدا ہوئے۔

اس کے بعد مولوی قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس نامی کتاب لکھی جس میں قرآن و حدیث صریح کا انکار کرتے ہوئے لکھ مارا کہ سرکار علیہ السّلام کا خاتم النبیین ہونا تو عوام کا خیال ہے۔ اور لکھا کہ اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ معاذاللہ 

اور لکھا کہ امتی کبھی کبھی اپنے عمل میں نبی سے بڑھ جاتا ہے۔ معاذاللہ 

اور لکھا کہ بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ معاذاللہ 

کیا یہ عبارتیں کفر نہیں ہیں؟ عقیدہ ختم نبوت کا انکار نہیں ہے؟

اس کے بعد رشید احمد گنگوہی نے براہین قاطعہ لکھی۔ اس نے بھی متعدد کفریات لکھے۔ 

میلاد پاک کو کنہیا کے جنم دن سے تشبیہہ دی۔ فاتحہ پڑھتے وقت کھانے پر قرآن کی آیتوں کو وید پڑھنت سے تعبیر کیا۔ 

شیطان کے علمِ ناپاک کو رسولِ پاک کے علم سے بڑھا دیا۔

پھر رشید احمد گنگوہی نے ایک فتویٰ لکھا جس میں لکھا کہ وقوع کذب کے معنی درست ہوگئے۔ ( مطلب کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بول چکا) معاذاللہ 

ابھی کفر کی یہ آندھیاں چل رہی تھیں کہ اشرف علی تھانوی بھی کود پڑا اس نے بھی انگریزوں کی فرمانبرداری کا پورا حق ادا کیا۔ اور حفظ الایمان نامی دل جلا دینے والی کتاب لکھی۔

جس میں نبی کے علمِ غیب پاک کو پاگلوں اور چوپایوں سے تشبیہہ دے کر گستاخی کی۔

ایسے پر آشوب دور میں ضرورت تھی کہ ایسا مجدد تشریف لائے جو ان تمام انگریزوں کے پیدا کردہ ٹٹو، وظیفہ خور مولویوں کی مکاریوں، دغابازیوں، فریب کاریوں کا پردہ چاک کرتا۔ اور حق کو تشت از بام کرتا۔

چنانچہ مشیت الٰہی کو جلال آیا اور نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبتوں کا لبادہ اوڑھے بریلی کی دھرتی پر امام عشق و محبت، قاطع کفر و ضلالت سیدی سرکار اعلی حضرت جلوہ فرما ہوئے۔ آپ نے ان گستاخانِ خدا و رسول پر نام بنام کفر کا فتویٰ دیا۔ 

تو اے سوال کرنے والے مولوی دو دو ٹکے پر ایمان بیچنے والے سن ! سن ! سن!

اعلی حضرت امام عشق و محبت نے *"تکفیری مہم"* نہیں چلائی بلکہ جو اللہ و رسول کے گستاخ ہو کر کفر و ضلالت میں پھنس چکے تھے ان کے کفر کو بتایا ہے۔

پس یہ ہے حقیقت حال کی تاریخ اور وضاحت، اسے خوب ذہن نشین کر لو۔

یکے از غلامانِ اعلی حضرت 
محمد قاسم القادری گھوسوی