Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Aqeeda

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنىٰ

Mohd Qasim Jul 27, 2026 4 Views 1 min read
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنىٰ
اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔

گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم کے الفاظ دل کی گہرائیوں میں اترتے جا رہے تھے اور اس کے رموز و اسرار ذہن و فکر میں موجزن تھے۔
ایک ترویحہ گزرا… پھر دوسرا… اور غالباً تیسرا بھی بیت گیا تھا کہ اچانک تلاوت سورۃ الحدید کی آیت نمبر 10 پر پہنچ گئی۔جوں ہی امام صاحب کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے:
وَكُلًّا وَعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى
اور اللہ نے ان سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے

تو دل کی دنیا میں ایک ارتعاش سا پیدا ہو گیا۔ محبتیں انگڑائیاں لینے لگیں، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں اور روح پر ایک سرور انگیز کیفیت طاری ہو گئی۔ جی چاہتا تھا کہ بے ساختہ واہ! کی صدا بلند ہو جائے، مگر فوراً قرآن کا یہ حکم یاد آ گیا:وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ(اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔)
چنانچہ ادبِ قرآن نے زبان کو خاموش رکھا اور نماز کی ہیبت نے اس جذبے کو دل ہی میں سمیٹ لینے پر مجبور کر دیا۔مگر دل کہاں رکنے والا تھا! خیال کی دنیا آباد ہو گئی اور فکر کی پرواز وادیٔ محبت میں دور تک اڑنے لگی۔کبھی نگاہِ تصور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھتی، جن کی صداقت اور رفاقت نے تاریخِ اسلام کو نور سے منور کر دیا۔
کبھی ذہن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوتا، جن کی عدالت اور جلالت کے سامنے باطل کے ایوان لرز اٹھتے تھے،کبھی حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت، حیا اور فیاضی کے روشن مناظر دل میں جلوہ گر ہوتے،پھر خیال کا رخ بدلا تو تصور مولائے کائنات، شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف چلا گیا؛ وہ علی جن کی شجاعت، علم اور تقویٰ تاریخِ اسلام کے درخشاں ابواب میں سے ایک ہے۔اور پھر ذہن کاتبِ وحی، خال المؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوا۔
اسی لمحے دل میں ایک نہایت لطیف اور دل نشین خیال ابھرا…شاید جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کاتبِ وحی کی حیثیت سے اس آیت کو لکھا ہوگا:وَكُلًّا وَعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى
تو قلم حرکت میں ہوگا مگر دل مسکرا رہا ہوگا۔
شاید دل میں یہ احساس موجزن ہوا ہوگا کہ یہ وعدہ کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ ان تمام خوش نصیبوں کے لیے ہے جنہیں رسولِ اکرم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی،گویا یہ بشارت میرے لیے بھی ہے اور میرے بھائی علی کے لیے بھی؛ یہ نور اور یہ وعدہ ہم دونوں کو یکساں منور کر رہا ہے۔
پھر شاید یہ خیال بھی دل میں آیا ہوگا کہ افسوس ان لوگوں پر جو علی سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں اور حدیث من كنت مولاه فعلي مولاه (جس کا میں دوست ہوں، اس کے علی بھی دوست ہیں) کا ورد بھی کرتے ہیں، مگر مجھے اس دعا کے باوجود نہیں مانتے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ(اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے دوسروں کو ہدایت دے)
اسی طرح صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لو كنت متخذًا خليلاً غير ربي لاتخذت أبا بكر، ولكن أخي وصاحبي(اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بناتا، تو ابوبکر کو بناتا، لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں)مگر کچھ لوگ ایسے جلیل القدر صحابی پر بھی طعن و تشنیع کرتے ہیں۔
اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِیعنی اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور ان کے دل پر جاری کر دیا ہے، مگر افسوس کہ ان پر بھی زبانِ طعن دراز کی جاتی ہے۔پھر خیال یہ بھی آتا ہے کہ کچھ لوگ صدیق، عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم سے نسبت رکھتے ہیں مگر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت سے خالی ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو علی سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر باقی صحابہ سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
حالانکہ حق کا راستہ نہ کسی ایک صحابی سے بے نیازی میں ہے اور نہ کسی ایک نسبت پر اکتفا میں؛ بلکہ حق کا راستہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، تعظیم اور توقیر میں ہے۔پھر خیال کی پرواز تاریخ کے اوراق کی طرف جاتی ہے اور صفین کے واقعات سامنے آ جاتے ہیں۔ گویا زبانِ حال کہہ رہی ہو:
اے علی! ہمارے درمیان صلح بھی ہوگی، مگر کچھ لوگ اس فیصلے سے ناراض ہو کر ہم دونوں سے الگ ہو جائیں گے اور نعرہ لگائیں گے:
لا حكم إلا لله
اور وہ ایسے گروہ میں شامل ہو جائیں گے جن سے نہ میں راضی ہوں گا اور نہ تم خوش یوں دل کی دنیا میں ایک حقیقت واضح ہو کر ابھرتی ہے کہ کامیابی نہ صرف معاویہ کو ماننے میں ہے اور نہ صرف علی سے محبت کے دعوے میں؛ بلکہ کامیابی اس میں ہے کہ تمام صحابۂ رسول ﷺ کو عزت و محبت کا تاج پہنایا جائے۔

آخر حق پر کون ہے؟
تو اس کا جواب خود صاحبِ شریعت، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا:أصحابي كالنجوم، بأيهم اقتديتم اهتديتم(میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے)اسی حقیقت کو امامِ عشق و محبت، سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے یوں بیان فرمایا:

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترتِ رسول اللہ کی


نقوش فکر: محمد قاسم القادری گھوسوی
12/ مارچ 2026 بروز جمعرات